طالبان کے ساتھ حکومت تقسیم کرنے کے لیے تیار ہیں: افغان وزیر خارجہ

افغان وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ اگر طالبان کچھ شرائط پوری کرتے ہیں تو حکومت اس گروپ کے ساتھ طاقت بانٹنے کے لیے تیار ہے۔

ولایت پورٹل:افغان وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے ایزوسٹیا اخبار کو بتایا کہ اگر طالبان کچھ شرائط پر عمل کرتے ہیں تو افغان حکومت اس گروپ کے ساتھ صلح کرنے کے لیے تیار ہے،انھوں نے کہا کہ  ہم طالبان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں حکومت میں لانے کے لیے تیار ہیں، ہم ان کے ساتھ صلح کرنے اور طاقت کے اشتراک کے لیے تیار ہیں۔
 اتمر نے مزیدکہا کہ اس کے لیے بہت زیادہ شرائط نہیں ہیں، یہ افغان عوام کی آزادانہ مرضی ہے جو اس ملک کے مستقبل کا تعین کرتی ہے، افغانستان کسی بھی ملک کے لیے خطرہ نہیں ہونا چاہیے اور اس کی سرزمین پر ایک بھی غیر ملکی دہشت گرد نہیں ہونا چاہیے۔ اتمر نے کہا کہ حکومت طالبان کو اپنا حصہ ماننے کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ گروپ دہشت گردی کی حمایت نہ کرے۔
واضح رہے کہ  قبل ازیں ، طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے افغان صدر اشرف غنی کی افغان قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں تقریر کو بکواس قرار دیتے ہوئے کہا کہ غنی کا اعلان جنگ ، الزامات اور جھوٹی رپورٹیں ان کی صدارتی زندگی میں اضافہ نہیں کریں گی، افغانستان کے قومی غداروں کے خلاف مقدمہ چلانے پر زور دیتے ہوئے مجاہد نے مزید کہاکہ  افغانستان کے غداروں کاوقت ختم ہو چکا ہے۔
یادرہے کہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے گزشتہ روز ان کی درخواست پر  پر بلائے جانے والےافغان قومی اسمبلی کے غیر معمولی اجلاس میں کہا کہ امن عمل افغان عوام پر مسلط کیا گیا ہے اوراس سے ایک جارح گروہ کو قانونی حیثیت دینے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا ہے، انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنی پسند کا انتخاب کیا ہے۔
غنی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ طالبان اور گروپ کے حامیوں کو اب اپنا فیصلہ کرنا ہوگا،کہا کہ یاتو تم مذاکرات کی میز پر گھٹنوں کے بل بیٹھو یا پھر ہم میدان جنگ میں تمہارے گھٹنے توڑ دیں گے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین