حماس اور سعودی حکومت کے درمیان تعلقات کا مستقبل

فلسطینی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ مسئلۂ فلسطین کی خاطر حماس کی پالیسی سب کو قریب کرنا ہے لہذا فلسطینی اسیران کی حالیہ سزائیں ریاض کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور معاملے کو حل کرنے کی حماس کی کوششوں کو متاثر کرتی دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔

ولایت پورٹل:القدس پریس ویب سائٹ  نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس ملک میں فلسطینی اسیران کے خلاف حالیہ فیصلوں نے حماس اور ریاض کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں متعدد سوالات اٹھائے ہیں،رپورٹ کے مطابق اس مسئلے میں ماہرین کی رائے میں یہ فیصلے حماس کو اپنے اور سعودی عرب کے درمیان خلا کو کم کرنے کی کوشش کرنے سے نہیں روکتے ہیں اور ساتھ ہی ریاض کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے کی کوشش سے بھی نہیں روکتے کیونکہ  فلسطینی کاز کی خدمت کرنے کے لیے اس تحریک کی پالیسی سب کو قریب کرنا ہے۔
ایک سیاسی تجزیہ کار ابراہیم مدھون نے کہا کہ یہ فیصلے فلسطین کے مسئلے اور اس کی مزاحمت تحریک کے سلسلہ میں اپنا مؤقف واضح کرنے کے لیے ریاض پر امریکی دباؤ کی وجہ سے کیے گئے ہیں کیونکہ واشنگٹن فلسطین کو ایک سکیورٹی مسئلہ سمجھتا ہے نہ کہ سیاسی ،انہوں نے مزید کہا کہ حماس اس معاملے کو حل کرنے اور ریاض کے ساتھ تعلقات کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے سعودی عرب سے رابطہ جاری رکھے گی۔
 حماس اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں اور ریاض کی طرف سے اعلان کردہ عوامی پالیسی صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی مخالفت کرنا ہے،تاہم مدھون نے کہا کہ دونوں کے درمیان تعلقات کے مستقبل کی پیش گوئی کرنا مشکل ہے۔
واضح رہے کہ ریاض نے باضابطہ طور پر اس مسئلے کے بارے میں بات نہیں کی ہے اور نہ ہی اس کا تذکرہ کیا ہے جبکہ حماس اس حوالے سے ایک نیا صفحہ دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتی ہے،درایں اثنا مدھون نے ریاض کی جانب سے قیدیوں کے مسئلہ کو حماس کے ایران کے ساتھ تعلقات سے جوڑنے کی تردید کرتے ہوئے  کہ کہا کہ بین الاقوامی تعلقات پیچیدہ ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین