امریکی شہریوں کے نظر میں امریکی جمہوریت کا مستقبل

شوئن کوپرمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ایک نئے سروے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ ان کے ملک کی جمہوریت تباہ ہونےوالی ہے۔

ولایت پورٹل:نیو یارک پوسٹ کی رپورٹ کے مطاب، ر شوئن کوپرمین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ کیے جانے والے سروے  میں شرکت کرنے والوں میں سے صرف 26 فیصد نے کہا کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکی جمہوریت آنے والی نسلوں تک رہے گی جبکہ دوسری جانب 51 فیصد نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امریکی جمہوریت تباہ ہونے کے خطرے سے دوچار ہے،سرے میں شرکت کرنے والوں میں سے 23 فیصد نے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں غیر یقینی ہیں۔
واضح رہے کہ (49% ڈیموکریٹس اور 49% ریپبلکن نے یکساں طور پر امریکہ میں جمہوریت کی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا جبکہ 54% آزاد رائے دہندگان کی بھی یہی رائے ہے، سروے سے پتہ چلتا ہے کہ 2021 میں امریکی معاشرے میں بڑے پیمانے پر مایوسی اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔
یادرہے کہ  صرف 54% امریکیوں نے جو بائیڈن کی صدارت کے جواز اور انتخابات میں ان کی جیت کی منظوری دی جبکہ اپریل میں کیے جانے والے سروے میں سے 64 فیصد نے کہا کہ 2020 کے انتخابات میں بائیڈن کی جیت قانونی تھی۔
واضح رہے کہ  دسمبر کے سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ 47 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ 2020 کے امریکی انتخابات میں حقیقی دھاندلی ہوئی  اور انتخابات نتائج کو تبدیل کر دیا، سروے میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ 18 سے 29 سال کی عمر کے جواب دہندگان میں سے صرف 21 فیصد کا خیال ہے کہ امریکی جمہوریت محفوظ ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین