افغانستان کے مستقبل کی ممکنہ صورتحال؛برطانوی مسلح افواج کے سربراہ کی زبانی

برطانوی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نےاپنے ایک بیان میں  افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ذکر کرتے ہوئےاس ملک کے لئے تین منظرناموں کی تجویز پیش کی اور پڑوسی ممالک کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ولایت پورٹل:برطانوی چیف آف جوائنٹ اسٹاف جنرل نک کارٹر (نکولس پیٹرک کارٹر) نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس ملک کے مستقبل کے لئے تین ممکنہ منظرنامے موجود ہیں، کارٹر نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل افغانستان کے سیاسی رہنماؤں کی یکجہتی اور طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں پڑوسی ممالک کے تعاون پر منحصر ہے، انھوں نے کہا کہ افغانستان میں کیا ہورہا ہے یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
کارٹر نے مزیدکہا کہ  میں تین منظرناموں کے بارے میں سوچتا ہوں،جن میں سے  ایک یہ کہ موجودہ حکومت نیٹو کے تعاون کے بغیر جنگ جاری رکھے گی،دوسرے  یہ ہے کہ حکومت کا تختہ الٹ جائے گا اور ماضی کی طرح ملک کو نسلی گروہوں کے لئے کئی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ جبکہ تیسرا پرامید منظر نامہ فریقین کے لئے سمجھوتہ کرنا ہے اور موجودہ حکومت کا کابل پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا ہے۔
نیک کارٹر کے مطابق  طالبان کے ساتھ جنگ جاری رکھنا ، حکومت کا خاتمہ اور افغانستان کی تقسیم اور طالبان کے ساتھ امن کا حصول افغانستان کے مستقبل کے ممکنہ منظرنامے ہیں ،تاہم برطانوی چیف آف اسٹاف نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک افغانستان کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین