Code : 3463 36 Hit

قرآن مجید کی نظر میں اہل ایمان کی سب سے پہلی خواہش

یہ آیہ کریمہ ہمیں اس نکتہ کی طرف متوجہ کررہی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کا مقدمہ فراہم کرتا ہے اور چھوٹے چھوٹے گناہ بڑی بڑی ناکامیوں کا سبب بن جاتے ہیں لہذا گناہوں کے سوء آثار سے بچنے کے لئے جتنی جلدی ہوسکے استغفار کرلینا چاہیئے تاکہ انسان پاک ہوجائے۔

ولایت پورٹل: انسان فطری و  ذاتی طور پر کسی ایسے  حامی، پشت پناہ کی ضرورت کو محسوس کرتا ہے اور ایک طرح سے اپنے کو ایک ماوراء قدرت و طاقت کا محتاج جانتا ہے کہ جو اس دنیا کی طبیعت سے برتر، عظیم اور طاقتور ہو تاکہ ضرورت کے وقت اس کی پناہ حاصل کی جاسکے اور اس سے آس لگائی جاسکے۔
قرآن مجید ہمیں بتلاتا ہے کہ سابقہ امتوں میں بھی ہمیشہ اہل ایمان اپنے انبیاء (ع) کی پیروی کرتے ہوئے زندگی کے نشیب و فراز کے وقت اور دُکھ ،سکھ میں اللہ کی بارگاہ میں دعا کرتے تھے اور کسی بھی چیز کو اللہ سے مانگنے سے پہلے اس سے عفو و بخشش کے طلبگار ہوتے تھے تاکہ اللہ تک پہونچے اور اس کی عطا کا راستہ ہموار  ہوجائے۔
چنانچہ قرآن مجید سچے مؤمنین کا اس طرح تعارف کرواتا ہے:’’ وَ الْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللَّهِ وَ مَلائِکَتِهِ وَ کُتُبِهِ وَ رُسُلِهِ لا نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ وَ قالُوا سَمِعْنا وَ أَطَعْنا غُفْرانَکَ رَبَّنا وَ إِلَیْکَ الْمَصیرُ‘‘۔(1)۔ اور مؤمنین بھی سب اللہ اور ملائکہ اور مرسلین پر ایمان رکھتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہم رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے۔ ہم نے پیغام الٰہی کو سنا اور اس کی اطاعت کی۔ پروردگار اب تیری مغفرت درکار ہے اور تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔
معذرت خواہی
انسان ایک ایسا موجود ہے جسے مکلف اور ذمہ دار بناکر پیدا کیا گیا ہے۔ تمام انبیاء(ع) اور آسمانی کتابیں انسان کو یہی بات سمجھانے کے لئے آئے کہ تو مکلف اور ذمہ دار ہے۔ تیری ذمہ داریاں  یہ ہیں ! اور تجھے انہیں کس طرح پوری کرنی ہے!
البتہ قرآن مجید میں اس نکتہ کی طرف بھی بارہا تأکید کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں دیتا۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے روزہ  کو ساقط کردیا ہے جو نہیں رکھ سکتے۔اور طاقت کا مسئلہ شرعی تکلیف میں ایک بنیادی شرط کی حیثیت رکھتا ہے کہ جسے فقہ کی اصطلاح میں قاعدہ’’ عسر و حرج‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جب اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف اور ذمہ داری نہیں دیتا تو پھر یہ بار بار معذرت خواہی اور معافی کی تأکید کیونکر پیش آئی ہے؟ جبکہ دین میں یہ قاعدہ موجود ہے کہ اگر کسی شخص پر کوئی تکلیف شاق ہو تو وہ اسے چھوڑ دے چونکہ اللہ نے اسے چھوٹ دی ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ربنا و لا تحملنا ما لا طاقه لنا به‘‘۔ پروردگار ! تو ہم پر وہ بوجھ مت ڈال جسے ہم نہ اٹھا سکیں۔
قرآن مجید اس سوال کا جواب اس طرح دیتا ہے کہ انسان چونکہ جائز الخطاء ہے اور اس سے ہر آن غلطی کا امکان رہتا ہے ممکن ہے وہ کچھ بھول گیا ہو یا کسی عمل کو ادھورا کربیٹھا ہو  تو یہاں پر اسے چاہیئے کہ وہ اپنے رب کی بارگاہ میں معذرت طلب کرے:’’رَبَّنا لا تُؤاخِذْنا إِنْ نَسینا أَوْ أَخْطَأْنا‘‘۔(2) پروردگار! ہم جو کچھ بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے اس کا ہم سے مواخذہ نہ کرنا۔
خود شریعت کی نظر میں تکلیف دو طرح کی ہوتی ہیں: ابتدائی تکلیف اور مجازاتی تکلیف۔
ابتدائی تکلیف اسے کہتے ہیں جس میں عسر و حرج موجود نہ ہو لیکن سابق امتوں کے درمیان جیسا کہ یہود وغیرہ کو کبھی کبھی پئے در پئے  عظیم گناہوں کے ارتکاب پر سخت عذاب دیئے جاتے تھے جیسا کہ بچھڑے کو پوجنے کے بعد ان کے لئے یہ عذاب مقرر ہوا کہ وہ ایک دوسرے کا آپس میں قتل کریں۔
 اور مذکور آیت قرآنی میں ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ کوئی اپنے عمل کے بارے میں یہ گمان نہ رکھے کہ اس نے حق عمل کو ادا کردیا ہے۔ چنانچہ یہ وہ بندگی اور اطاعت کا ادب ہے جسے انبیاء (ع) نے ہمیں سکھایا ہے اور خود آیت کے آخری حصہ میں بھی عفو، مغفرت ،رحم اور کافروں پر کامیابی کی درخواست اور طلب موجود ہے:’’اعْفُ عَنَّا وَ اغْفِرْ لَنا وَ ارْحَمْنا أَنْتَ مَوْلانا فَانْصُرْنا عَلَى الْقَوْمِ الْکافِرینَ‘‘۔(3) اے اللہ! ہمیں معاف کردیناً ہمیں بخش دیناً ہم پر رحم کرنا تو ہمارا مولا اور مالک ہے اب کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔
خدا کی بارگاہ میں آدام و حوا(ع) کی توبہ
جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم و حوا(س) کے پیکر میں روح پھونک دی تو سب سے پہلا کام  ان کے سامنے شیطان کو ان کے سب سے جانی و سخت دشمن کے طور پر تعارف کروایا گیا اور ان سے یہ عہد لیا گیا کہ وہ اس کی پیروی نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے عہد کو بھول گئے جس کے نتیجہ میں انہیں جنت کے عیش و آرام سے دستبردار ہوکر دنیا کے رنج و تعب میں آٹھانے کے لئے آنا پڑا اب جب یہ حضرات زمین پر پہونچے تو  اپنی خطا کی طرف متوجہ ہوئے کہ شیطان نے انہیں کیسا وسوسہ دیدیا کہ ان کی تو زندگی ہی تبدیل ہوگئی  لہذا اللہ کی بارگاہ میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا دیئے:’’رَبَّنا ظَلَمْنا أَنْفُسَنا وَ إِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنا وَ تَرْحَمْنا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخاسِرینَ‘‘۔(4) ان دونوں نے کہا کہ پروردگار ہم نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اب اگر تو معاف نہ کرے گا اور رحم نہ کرے گا تو ہم خسارہ اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے۔
اور صرف ہمارے باپ آدم اور ماں حوا سے ہی نہیں بلکہ یہ عہد و پیمان تو اللہ نے پوری اولاد آدم سے لیا تھا لیکن وہ اس دنیا میں آکر اس عہد الہی کو بھول بیٹھے:’’َ لَمْ أَعْهَدْ إِلَیْکُمْ یا بَنی‏ آدَمَ أَنْ لا تَعْبُدُوا الشَّیْطانَ إِنَّهُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبینٌ‘‘۔(5) اولاد آدم کیا ہم نے تم سے اس بات کا عہد نہیں لیا تھا کہ خبردار شیطان کی عبادت نہ کرنا کہ وہ تمہارا کِھلا ہوا دشمن ہے۔
مجاہدین کا میدان جنگ میں استغفار کرنا
حق و باطل کی فوجیں ہمیشہ سے ایک دوسرے کے ساتھ بر سر پیکار ہے۔ حق و باطل کی جنگ تا قیام قیامت جاری رہے گی۔ اللہ تعالیٰ نے حق کے سپاہیوں کو متعدد بار نصرت و مدد کا وعدہ کیا اور بہت سے مواقع پر مؤمنین کی مدد بھی کی چنانچہ جب جناب ابراہیم کو جہنم نظیر آگ کے انبار میں ڈالا جارہا تھا تو اللہ نے مدد کی۔ جب دریائے نیل سے موسیٰ گذر رہے تھے تو امداد کی اور طالوت کی مختصر سی فوج کو جالوت کی مقتدر فوج کے مقابل کامیابی سے ہمکنار کیا۔ لیکن کبھی کبھی ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مجاہدین تمام دلاوری اور شجاعت کے باوجود جنگ ہار گئے تو انہوں نے اس ہاری ہوئی جنگ کو اپنی غلطی بتلایا نہ کہ خدا کے وعدہ کی خلاف ورزی۔ لیکن انہوں نے میدان کو خالی نہیں کیا بلکہ جو ان سے کوتاہیاں ہوگئیں تھیں ان کا جبران کیا:’’وَ کَأَیِّنْ مِنْ نَبِیٍّ قاتَلَ مَعَهُ رِبِّیُّونَ کَثیرٌ فَما وَهَنُوا لِما أَصابَهُمْ فی‏ سَبیلِ اللَّهِ وَ ما ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَکانُوا وَ اللَّهُ یُحِبُّ الصَّابِرین‘‘۔(6) اور بہت سے ایسے نبی گزر چکے ہیں جن کے ساتھ بہت سے اللہ والوں نے اس شان سے جہاد کیا ہے کہ راہ خدا میں پڑنے والی مصیبتوں سے نہ کمزور ہوئے اور نہ بزدلی کا اظہار کیا اور نہ دشمن کے سامنے ذلّت کا مظاہرہ کیا اور اللہ صبر کرنے والوں ہی کو دوست رکھتا ہے۔
 یہ آیہ کریمہ درحقیقت جنگ احد کے مجاہدوں کے لئے ایک یاد دہانی اور تذکرہ ہے کہ وہ اپنی ناکامی کے سبب کو خود تلاش کریں ۔ اور وہ سبب ہے رسول اللہ(ص) کی نافرمانی ۔ لہذا جنگ کے پہلے مرحلہ میں مسلمان جنگ جیت گئے تھے لیکن آخری مرحلہ بہت سخت اور گراں گذرا لہذا قرآن مجید ان لوگوں کو یاد دہانی کروا رہا ہے کہ تم یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کی مدد نہیں آئی اور تم جنگ ہار گئے بلکہ اللہ کی مدد آئی اور تم نے جنگ میں کامیابی حاصل کی لیکن جب تمہارے دلوں میں لالچ نے گھر کرلیا تھا اس وقت تمہارے ہارنے کے اسباب فراہم ہوتے چلے گئے۔
ان آیات میں قرآن مجید یہ بتلا رہا ہے کہ سابقہ امتوں میں اگر کبھی عین جنگ کے دوران کوئی مشکل پیش آجاتی تھی تو ان کا موقف تم لوگوں سے بالکل الگ ہوتا تھا ۔ وہ مصیبت کے وقت میدان سے بھاگ کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ اپنی شکست کے اسباب کو تلاش کرنے میں جُٹ جاتے تھے اور شکست و ناکامی کو اپنی طرف ہی نسبت دیتے تھے:’’ وَ ما کانَ قَوْلَهُمْ إِلاَّ أَنْ قالُوا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَ إِسْرافَنا فی‏ أَمْرِنا وَ ثَبِّتْ أَقْدامَنا وَ انْصُرْنا عَلَى الْقَوْمِ الْکافِرینَ‘‘۔(7)
ان کا قول صرف یہی تھا کہ خدایا ہمارے گناہوں کو بخش دے۔ہمارے امور میں زیادتیوں کو معاف فرما۔ ہمارے قدموں کو ثبات عطا فرما اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد فرما۔
اور یہ نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے کہ وہ مجاہدین اپنی ناکامی کا سبب اسراف  اور گناہ کرنے کو جانتے تھے  اور یہ وہی چیز تھی جسے اللہ تعالیٰ نے جنگ احد میں مسلمانوں کی ناکامی کے اسباب کے طور پر بیان فرمایا ہے:’’ إِنَّ الَّذینَ تَوَلَّوْا مِنْکُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطانُ بِبَعْضِ ما کَسَبُوا وَ لَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلیمٌ‘‘۔(8) جن لوگوں نے دونوں لشکروں کے ٹکراؤ کے دن پیٹھ پھیرلی یہ وہی ہیں جنہیں شیطان نے ان کے کئے دھرے کی بنائ پر بہکا دیاہے اور خدا نے ان کو معاف کردیا کہ وہ غفور اور حلیم ہے۔
یہ آیہ کریمہ ہمیں اس نکتہ کی طرف متوجہ کررہی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کا مقدمہ فراہم کرتا ہے اور چھوٹے چھوٹے گناہ بڑی بڑی ناکامیوں کا سبب بن جاتے ہیں لہذا گناہوں کے سوء آثار سے بچنے کے لئے جتنی جلدی ہوسکے استغفار کرلینا چاہیئے تاکہ انسان پاک ہوجائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔ بقره،285۔
2۔ بقره 286.
3۔سابقہ آیت.
4۔اعراف 23.
5۔یس 60.
6۔آل عمران 146.
7۔آل عمران147۔
8۔ آل عمران 155 ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम