Code : 1083 14 Hit

رسول اللہ(ص) پر پہلی وحی

شیعہ علماء کی نقل کردہ معتبر روایات اور تاریخی دستاویز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہجرت سے ۱۳ برس پہلے ۲۷ رجب کو پیغمبر اکرم(ص) کو منصب نبوت و رسالت پر فائز کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ اس دن کو بطور عید مناتے ہیں اس دن جگہ جگہ جشن کا اہتمام ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسروے کو سرکار ختمی مرتبت(ص) کی بعثت کے مسعود موقع پر مبارکباد دیتے ہیں۔نیز اسلامی روایات میں آج(۲۷ رجب) کے متعلق بہت سے مستحبی اعمال کا تذکرہ ہوا ہے جیسا کہ اس دن دعائیں پڑھنا، نمازپڑھنا، غسل کرنا اور روزہ رکھنا وغیرہ

ولایت پورٹل: قارئین کرام! دینی تعلیمات  کی روشنی میں مبعث وہ دن ہے جس میں ماحصل کائنات اور خلاصہ مشیت الہی سرکار خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفٰی(ص) کو منصب نبوت و رسالت عطا کیا گیا۔
چنانچہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ سرکار رسالتمآب(ص) اس وقت غار حرا میں محو عبادت اور راز و نیاز تھے کہ اللہ کی طرف سے اس کا سب سے مقرب فرشتہ جبرائیل امین نازل ہوا اور سرکار کو منصب نبوت و تبلیغ پر فائز ہونے کی بشارت سنائی: اے محمد تیرے رب کو یہ بات گوارا نہیں ہے کہ اس کی زمین پر چند بتوں کو بطور خدا سجدہ کیا جائے لہذا آپ کی ذمہ داری ہے کہ پیغام وحی کو دریافت کریں اور لوگوں تک دین کو پہونچائیں۔ چنانچہ جسوقت آپ مبعوث برسالت ہوئے اس وقت آپ کا سن مبارک ۴۰ برس کا تھا۔
شیعہ روایات کے تناظر میں بعثت
شیعہ علماء کی نقل کردہ معتبر روایات اور تاریخی دستاویز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہجرت سے ۱۳ برس پہلے ۲۷ رجب کو پیغمبر اکرم(ص) کو منصب نبوت و رسالت پر فائز کیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ شیعہ اس دن کو بطور عید مناتے ہیں اس دن جگہ جگہ جشن کا اہتمام ہوتا ہے اور لوگ ایک دوسروے کو سرکار ختمی مرتبت(ص) کی بعثت کے مسعود موقع پر مبارکباد دیتے ہیں۔نیز اسلامی روایات میں آج(۲۷ رجب) کے متعلق بہت سے مستحبی اعمال کا تذکرہ ہوا ہے جیسا کہ اس دن دعائیں پڑھنا، نمازپڑھنا، غسل کرنا اور روزہ رکھنا وغیرہ۔
اہل سنت اور بعثت کا دن
اہل سنت و الجماعت کے یہاں دقیق طور پر تو سرکار(ص) کے مبعوث ہونے کی کسی دقیق  تاریخ کا تذکرہ نہیں ملتا لیکن کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ یہ ۲۱ رمضان کی رات میں رسول اللہ(ص) کو منصب دعوت و تبلیغ سے نوازا گیا تھا۔
روز بعثت ایک ایسا دن ہے کہ جس دن اللہ کا پیغام بشریت کی نجات و ہدایت کے لئے زمین پر اترا جس دن خرافات ،ہوس پرستی جہل کے تابوت میں آخری کیل ٹھکی،بعثت وہ دن ہے جس میں علم کو جہل پر نور کو تاریکی پر برتری نصیب ہوئی یہی وہ دن تھا جب آدم علیہ السلام سے لیکر عیسیٰ تک تمام نبیوں کی محنتیں اور زحمتیں ثمر آور ہوئیں۔بعثت قساوت،فساد اور شرارتوں کی موت کا دن اور کرامت و شرافت و انسانیت کی زندگی و استمرار کا دن تھا۔

 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम