Code : 1432 89 Hit

بچے کی پہلی سزا

بچے کی تربیت میں مار پٹائی کا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کا منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں چونکہ جس بچے کو بار بار مار پڑے گی اس کے دل سے باپ کا احترام اور ماں کی محبت نکل جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ ہٹ دھرم بن جاتا کہ جس کے بعد تربیت کا دروازہ تقریباً مسدود ہی سا ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل: ایک  بچے کی شرارت سے اس کے گھر کے سبھی افراد تنگ آچکے تھے اس کی شرارت اس کے ماں  باپ کے ساتھ ساتھ خاندان کے دوسرے لوگوں کو بھی تکلیف دے رہی تھی اور صرف یہی نہیں کہ گھر اور خاندان والے ہی اس سے نالاں ہوں بلکہ باہر کے لوگ بھی اس سے تنگ آچکے تھے۔اس کا باپ اس امید سے اس کی پیٹائی کرتا تھا کہ شاید اب وہ اپنی شرارتوں اور غلط عادتوں کو چھوڑ دے لیکن مار پیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی اثر اس پر دکھائی نہیں دیتا تھا۔
ایک دن وہ شخص امام علی(ع) کی خدمت میں پہونچا اور حضرت سے اپنے بیٹے کی شکایت کی کہ مولا! میں اس سے تنگ آچکا ہوں لہذا آپ ہی میری مشکل کو حل کیجئے۔
امام علیہ السلام نے ایک بار اس شخص کی طرف دیکھا  اور اسے بچے کی تربیت کے اصول سکھاتے ہوئے فرمایا: اپنے بیٹے پر کبھی ہاتھ مت اٹھاؤ!
باپ اپنے دل میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کہ پھر میں کیسے اپنے اس شرارتی بچے کی تربیت کروں گا اور اسے کیسے سنبھالوں گا تبھی امام علیہ السلام نے فرمایا: تم اس کی تربیت اسی وقت بہتر طور پر کرسکتے ہو کہ جب تم اس پر ہاتھ نہ اٹھاؤ اور اگر اس نے خلاف مروت کبھی کوئی کام کیا تو اس سے صرف ناراضگی جتاتے ہوئے دوری اختیار کرلینا وہ اپنی شرارت سے باز آجائے گا۔
چنانچہ اس شخص نے سنتے ہی محسوس کیا جیسے اسے تربیت کی نئی دنیا نظر آگئی ہو۔ باپ نے اسی وقت ارادہ کرلیا کہ وہ اب اسی طریقہ پر عمل کرے گا اور اس سے ناراض رہ کر اس کی تربیت کرے گا دیکھتے ہیں یہ طریقہ کتنا کارگر ہوتا ہے۔ وہ شخص ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: لیکن یہ ذہن نشین رہے کہ تمہاری ناراضگی زیادہ طولانی نہ ہونے پائے۔(بحار الانوار،ج۱۰۲،ص۹۹)
نتیجہ: بچے کی تربیت میں مار پٹائی کا کوئی کردار نہیں ہوتا بلکہ اس کا منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہیں چونکہ جس بچے کو بار بار مار پڑے گی اس کے دل سے باپ کا احترام اور ماں کی محبت نکل جاتی ہے اور آہستہ آہستہ وہ ہٹ دھرم بن جاتا کہ جس کے بعد تربیت کا دروازہ تقریباً مسدود ہی سا ہوجاتا ہے۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम