Code : 3143 91 Hit

امریکہ؛طالبان امن معاہدے کے پس پردہ حقائق

یہ امن معاہدہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ افغانستان میں امن بحال ہو بلکہ اس لئے کیا گیا کہ امریکی فوجی بحفاظت نکال لئے جائیں تاکہ پاکستان و طالبان نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ افرادی قوت ہماری ہوگی اور دوسری اہم بات اگر امریکی فوجی یہاں موجود ہوتے تو ایران انہیں ہٹ کرسکتا تھا جوکہ امریکہ کے اندر ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا تھا جیسا کہ حالیہ دنوں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کے وقت دیکھنے کو ملا۔

ولایت پورٹل: سناریو کچھ اس طرح سے بن رہا ہے کہ یہ سب کچھ امن کے نام پر ایران کو ایک مرتبہ پھر سے گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔اور اس مرتبہ ایران کا گھیراؤ کرنے میں پاکستان کا مرکزی کردار ہوگا. انقلاب اسلامی کی کامیابی سے لیکر آج تک جتنے بھی ایران مخالف یعنی انقلاب اسلامی مخالف اقدامات کئے گئے ان میں دشمنان انقلاب اسلامی کامیاب نہیں ہوئے، اوائل انقلاب میں صدام کے ذریعے ایران پر آٹھ سالہ مسلط جنگ، ایران کا اقتصادی محاصرہ ایران کے اندر سیاسی ناپائیداری و خلفشار  پیدا کرنے کی خاطر مقامی انقلاب مخالف گروہوں کو اکسانا و فساد کروانا مریم رجوی کیطرف سے مسلسل انقلاب مخالف کام کروانا۔۔۔۔اور ایران کے ہمسایہ ملک و اسرائیل کیخلاف فرنٹ لائن اسٹیٹ سوریا میں ایران کی اتحادی حکومت گرانے کی خاطر خانہ جنگی و داعش کو وجود میں لانا اور اسی طرح عراق کے اندر داعش کے ذریعے دہشتگردی کرنا اور ان دو ممالک کا سیاسی نقشہ بالکل تبدیل کرکے مکمل طور پر ایران مخالف قوتوں کو اقتدار میں لانا۔۔۔۔چند ایک مثالیں ہیں جو ایران کو نقصان پہنچانے کیلئے عمل میں لائے گئے لیکن ناکامی و نامرادی دشمن کے دامن گیر ہوئی۔
اور اسی طرح جہاں پر بھی جس ملک میں ایران کے مفادات ہیں ان کو کسی بھی طرح سے ہٹ کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی کہ ان ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے تاکہ یہاں سے ایران بھاگنے پر مجبور ہو جائے۔۔۔۔لبنان کی ہی مثال لے لیجئے کہ اچانک مہنگائی کے نام پر ایک پرامن ملک میں اچانک پرتشدد مظاہرے پھوٹ پڑنا یہ کوئی اندرونی مسئلہ نہیں تھا لبنان کا بلکہ باہر سے ان مظاہروں کو کنٹرول کیا جا رہا تھا۔۔۔۔۔خیر اس سب کا نتیجہ بالکل سو فیصد برعکس نکلا۔
یمن میں تو 200 فیصد تک نتیجہ برعکس نکلا یمنی مقاومین تو پاکستانیوں کو بھی دھول چٹا رہے ہیں ۔۔۔اب چونکہ تمام تر محاذوں پر انکو ناکامی ہوئی اب انہیں نیا محاذ چاہیئے تھا۔۔۔۔تو وہ محاذ افغانستان میں طالبان کو اقتدار میں لائے بغیرممکن نہیں تھا۔۔۔۔۔البتہ یہ کام پاکستان سے بھی لیا جا سکتا تھا لیکن اکیلے پاکستان کیلئے بڑا مسئلہ تھا کیونکہ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ ایسی کسی مہم جوئی کا آغاز کرتا۔۔۔۔کیونکہ مشرقی سرحد پر ایک آرٹی فیشل بحران بنا کے رکھے ہوئے ہیں دونوں ممالک انڈیا و پاکستان اور دوسرا ڈیورنڈ لائن افغان بارڈر سے بھی پاکستانی فورسز پر آئے روز حملے ہوتے رہتے ہیں لہذا پاکستانی حکمرانوں اور اداروں کو امریکہ نے یقین دہانی کروائی کہ ہندوستان کیطرف سے تمہارے اوپر کوئی اٹیک نہیں ہوگا طالبان کیساتھ ملکر تم ایران کیخلاف ہمارا ساتھ دو۔
یہ امن معاہدہ اس لئے نہیں کیا گیا کہ افغانستان میں امن بحال ہو بلکہ اس لئے کیا گیا کہ امریکی فوجی بحفاظت نکال لئے جائیں تاکہ پاکستان و طالبان نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ افرادی قوت ہماری ہوگی اور دوسری اہم بات اگر امریکی فوجی یہاں موجود ہوتے تو ایران انہیں ہٹ کرسکتا تھا جوکہ امریکہ کے اندر ایک بڑے بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا تھا جیسا کہ حالیہ دنوں امریکی فوجی اڈے پر ایرانی میزائل حملوں کے وقت دیکھنے کو ملا۔
یہ سعودی عرب کے وزیرخارجہ کا پاکستان میں آکر ایران کو دہشتگرد کہنے کا کیا مطلب ہے۔۔۔؟؟؟
عمران نیازی کا پے درپے سعودیہ کے دورے کرنا کس بات کی دلیل ہے۔۔۔؟؟؟
شہید سلیمانی کی شہادت پر پاکستان کی طرف سے تعزیت نہ کرنا کیا پیغام ہے اس میں۔۔۔؟؟؟
امریکہ ایران جنگ میں پاکستان غیر جانبدار رہے گا کا کیا مطلب ہے۔۔۔؟؟؟
ایران پاکستان بارڈر کرونا وائرس کے نام پر بند کر دینے کا مطلب ہے۔۔۔۔؟؟؟
کیا افغانستان میں کرونا وائرس نہیں ہے چمن بارڈر بند کیوں نہیں کیا۔۔؟؟؟
کاشغر ابھی تک کیوں کھلا ہوا ہے اگر بند بھی ہے تو میڈیا پر اس کا واویلا کیوں نہیں کیا گیا۔۔؟؟؟
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایران کیخلاف جنگ نہیں کرے گا انہیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ پاکستان نے کب ملکی و قومی مفادات کو مقدم رکھا ہمیشہ شخصی مفادات کو مقدم رکھا گیا۔۔۔۔۔ایران سے تجارت نہ کرنے میں ملک و قوم کا کتنا نقصان ہو رہا ہے کیا کبھی حکمرانوں نے اس کا اندازہ لگایا ہے۔۔۔۔ایران پاکستان کی توانائی سیکٹر کو بحال کر سکتا ہے ڈیزل پٹرول پاکستان میں 50 روپئے تک لیٹر مل سکتا ہے اگر حکمران قومی مفادات کو مقدم رکھیں تو۔
لیکن ایسا نہیں ہو رہا کیوں۔۔؟؟
کیونکہ سعودیہ و امارات ان حکمرانوں اور اداروں پر پانی کیطرح پیسہ بہاتے ہیں جو کہ ایران نہیں کر رہا اور نہ کبھی کرے گس۔
اگر پاکستانی قوم اور خصوصاً شیعان علی و پیروان مظلوم کربلا نے ہوش نہ سنبھالا تو حالات عراق سے بھی بدتر ہونگے۔۔۔۔۔۔!
آخر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ایران مخالف قوتوں کا مقصد ایران کی تباہی یا بربادی نہیں بلکہ انقلاب اسلامی کا جو صدور ہے اس کو ختم کرنا یا کم از کم ایران تک محدود رکھنا لیکن ایسا کسی بھی صورت میں نہیں ہو رہا کیونکہ انقلاب اسلامی کی بنیادیں اسلامی اصول و سنن ہیں انسانیت کے معیارات پر استوار ہے یہ انقلاب معاشرتی اقدار کے ذریعے سے اس شجر طیبہ کو سینچا گیا۔۔۔۔اور نظریات کو بند باندھ کر نہیں روکا جا سکتا۔۔۔۔خیر مایوس ہونے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے یہ سب کچھ ہوتا آیا ہے جب سے ہوش سنبھالا ہے آئے روز کانسپائریسی تھیوریز، نیوز اور مقالے فراوان نظر سے گزرتے ہیں لیکن سب ان مقالوں تحریروں و خبروں و اندازوں کے الٹ ہو رہا ہے۔
یہ انقلاب نہ شرقی ہے نہ غربی یہ خدا کا لایا ہوا انقلاب ہے اس کو جتنا بھی زور لگا لیا جائے ختم نہیں کیا جا سکتا.
مگر پوری دنیا میں بسنے والے شیعان علی و پیروان مظلوم کربلا کو اپنی آنکھیں اور کان مسلسل چاروں اطراف کیطرف رکھنے اور بدلتے حالات اور عالمی طاقتوں کی چھوٹی سی چھوٹی حرکت سے لیکر بڑی سے بڑی منصوبہ بندی پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور اس کام کیلئے سب سے بنیادی ترین چیز رہبر مسلمین جہاں اور ولی فقیہ آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای حفظ اللہ کی الہی بصیرت و رہنمائی سے استفادہ کر کے اپنی اپنی سرزمینوں پر انکی رہنمائی کی روشنی میں لائحہ عمل طے کرنے کی ضرورت ہے مگر یاد رکھیں کہ رہبر چاہے رسول اللہ ہوں، آئمہ علیہ السلام ہوں یا آئمہ علیہ السلام کی غیبت میں علماء و فقہاء اور ولی فقیہ جیسی شخصیت ہوں ان سب کا اصلی ترین کام اور زمہ داری امت اور عوام کو حالات و واقعات کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا ہوتی ہے باقی عملی میدانوں میں تمام کام امت اور عوام کو انکی رہنمائی کی روشنی میں اپنی اپنی سرزمینوں پر مقامی بابصیرت علماء کی قیادت میں خود سے انجام دینے ہوتے ہیں لہزا اگر عوام ہر مشکل اور کڑے وقت میں رہنمائی صرف اور صرف وقت کے رہبر سے حاصل کرے تو لبنانی شیعہ حزب اللہ، عراقی شیعہ حشد الشعبی، یمنی شیعہ انصار اللہ اور فلسطینی سنی حماس و جہاد اسلامی کیطرح آپ کو بھی عالمی طاقتیں کبھی جھکنے پر مجبور کرکے غلام نہیں بنا سکتیں بلکہ انہی مزاحمتی گروہوں کیطرح آپکے ہاتھوں بھی یہ عالمی طاقتیں زلیل و خوار ہی ہوں گی مگر یاد رکھیں کہ جس دن اور جس لمحے عوام نے اپنے مسائل کے حل کے لیے حقیقی رہبر یعنی نائب امام و ولی فقیہ کی بجائے مادر مدر آزاد جمہوری نظام کے مادر پدر آزاد نمائندوں سے امیدیں وابستہ کیں تو پھر یہ منافق حکمران اور نمائندے عالمی طاقتوں کی خاطر آپکی تکہ بوٹی کروا کے رکھوا دینگے اور بظاہر آپکے دوست نما دشمن بن کر آپکو ماضی کیطرح ہی چند ٹکوں کے عوض بیچنے میں ایک لمحہ کی دیر بھی نہیں کریں گے۔

مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ۔۔۔۔




1
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین