پوری امت مسلمہ کو امام خامنہ ای کی قیادت میں امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کرنا چاہیے: حزب اللہ

لبنان میں حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل نے زور دے کر کہا کہ صہیونی دشمن کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا مذہبی اور عربی اصولوں نیز فلسطینی کاز کے ساتھ غداری ہےاور اس کو روکنےواحد حل یہ ہے کہ پوری اسلامی امت کو  ایران ، امام خمینی ، امام خامنہ ای  اور انقلابی محافظوں  ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

ولایت پورٹل:لبنان میں حزب اللہ کے نائب سکریٹری جنرل  نعیم قاسم نے  ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ صہیونی دشمن کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا مذہبی ، عربی اصولوں اور فلسطینی مقصد کے ساتھ غداری ہے  کیونکہ اس حرکت کے سائے میں عالم اسلام کے مرکزی مسئلے کو ترک کردیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ  صیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا صیہونی حکومت کی قابضانہ پالیسیوں کو سبز روشنی دکھانا ہے اور اس حکومت کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔
نعیم قاسم نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ جوممالک  صیہونیوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے عمل میں داخل ہوئے ہیں انھیں آخر کار افسوس کے سوا کچھ حاصل نہیں  ہوگا،انہوں نے کہا کہ جس طرح فلسطینی عوام صدی  ڈیل کے معاہدے کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے  اسی طرح وہ تعلقات کو معمول پر لانے کے عمل کو بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ  اس کا حل یہ ہے کہ ہم سب کو امریکی منصوبے اور صیہونی حکومت کے خلاف اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت میں مزاحمت کے محور پر کھڑا ہونا ہوگا، لبنان میں حزب اللہ کے ڈپٹی سکریٹری جنرل نے یاد دلایاکہ مزاحمت کے محور میں ہر ایک کو مختلف صلاحیتوں کے حصول کے لئے کام کرنا چاہئے اس لیے کہ  ایک طرف  ہم عرب اصولوں اور عرب ممالک کی آزادی کی ضرورت کے پابند رہیں  اور دوسری طرف ایران ، امام خمینی ، امام خامنہ ای ، انقلابی محافظوں ، ایرانی قوم اور دوسری اسلامی قوموں  کے ساتھ اسلام کے حامیوں کی حیثیت سے اسلامی ممالک امریکہ اور صیہونی منصوبوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین