Code : 2261 122 Hit

عراق میں جاری مظاہر وں کے پشت پردہ عناصر؛اہم انکشاف

عراقی حکومت کے مخالف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا میں آجکل صرف عراق میں ہونے والے مظاہروں ہی کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں اور انہوں نے نہایت ہی چلاکی کے ساتھ اس کو آزادی اظہار خیال کا نام دے رکھا ہے ۔

ولایت پورٹل:عراقی زرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ خفیہ اطلاعات کے مطابق عراق میں ہونے والے حالیہ مظاہرے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت  اور بیرونی طاقتوں کی حمایت سے ہو رہے ہیں،عراق کے دار الحکومت بغداد سمیت جنوبی عراق کے کئی شہروں  تین دن سے مظاہرے جاری ہیں جو شروع میں  ملک میں پائی جانے والی بے روزگاری  اور اقتصادی مشکلات کے خلاف اعتراض کی وجہ سے شروع ہوئے تھے  لیکن بعد میں  عراقی حکومت اور استقامتی محاذ کے مخالف العربیہ ،سعودی چینل، بی بی سی اور سی این این ان کو کوئی اور ہی رنگ دینا شروع کر دیا ، بی بی سی نے لکھا ہے کہ یہ مظاہرین عراقی حکومت کا تختہ پلٹے کے درپے ہیں،بی بی سی عربی نے اپنی رپورٹ میں حکومت کی جانب سے  بغداد میں لگائے جانے والے کرفیو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ  بغداد پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور اور گولیوں کا استعمال کر رہی ہے ،اس چینل نے مظاہرین میں سے ایک شخص کے حوالے سے کہا ہے  کہ  وہ تبدیلی چاہتے ہیں بلکہ عراقی حکومت کا تختہ پلٹنا چاہتے ہیں،العربیہ نیوز چینل   نے بھی بی بی سی کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ بغداد میں تین دن سے کرفیو لگا ہوا ہے اور گولیاں چل رہی ہیں جس میں اب تک ایک پولیس اہلکار سمیت 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں،سی این این نے بھی مذکورہ دونوں چینلوں کے موقف کی تائید کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے ان مظاہروں کا نام ’’عراق اٹھ چکا ہے ‘‘رکھا ہے،سی این این نے مظاہروں کی تصویریں نشر کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ مظاہرین نے  بغدادانٹرنیشنل  ایئرپورٹ جانے والی تمام سڑکوں کو بند کر دیا ہے،یہاں پر ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ چینل اور استقامتی محاذ کا مخالف میڈیا ان مظاہروں کو اتنا زیادہ کیوں اچھال رہا ہے اور کوشش کر رہا ہے کہ مظاہرین کے مقصد کوحکومت کا خاتمہ بیان کرے جبکہ  عراقی حکام اور عام شہری  ان مظاہروں کے پرامن ہونے پر مسلسل تاکیدکررہے ہیں ،عراقی نیوز ایجنسی براثانے اپنی ج کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ عراقی حکومت کے مخالف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا  میں آجکل صرف انھیں  مظاہروں کی خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں اور انہوں نے نہایت ہی چلاکی کے ساتھ اس کو آزادی اظہار خیال کا نام دے رکھا ہے ،براثا نے  مزید لکھا ہے کہ استقامتی محاذ کے مخالف میڈیا کی نگاہ میں یہ مظاہرے انقلاب ہیں جن ان کا اصلی مقصد عراقی حکومت کا تختہ پلٹنا ہے، نیز بغداد میں قائم امریکی سفارتخانہ براہ راست ان کی حمایت کر رہا ہے،براثا نیوز ایجنسی نے خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ہوئے لکھا ہے کہ ان مظاہروں کی رہبری تین طرح کے گروہ کر رہے ہیں ۔
۱۔ عراق کی کالعدم بعث پارٹی کے پرانے اور نئے رہبر جن کا کام کشیدگی بڑھانا اور لڑائی کرانا ہے ۔
۲۔الصرخیہ  گروہ؛ یہ وہ لوگ ہیں کہ جو بغداد میں قائم ہالینڈ اور برطانوی سفارتخانوں کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں، ان  کا  کام نجف اشرف کی عظیم مرجعیت  خاص طور پر شیعوں کے عظیم الشان اورعالی قدر مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمی سیدعلی سیستانی کے خلاف نعرے بازی اور پروپگنڈوں پر مشتمل پمفلٹ تقسیم کرنا۔
۳۔عراقی سلیبریٹیوں  کا گروہ ؛ان کی ذمہ داری ہے کہ یہ عراق کے اندر اور بیرون ملک سیٹلائٹ چینل اور سوشل میڈیا پر اظہار نظر کا بہانہ  بنا  کرانتشار پھیلاتے رہیں ،انھیں  سیٹلائٹ چینلوں کی سہولت مہا کرائی گئی ہے کہ اگر انٹر نیٹ بند بھی ہوجائے تویہ سیٹلائٹ چینلوں کے ذریعے اپنے پروپیگنڈوں کو جاری رکھیں ،رپورٹ کے مطابق بغداد کے التحریر میدان میں بھوک ہڑتال اور دھرنے کا گرام بنایا گیا ہے اس کے بعد  اعلی حکام کے گھروں کا گھر اؤ کیا جائے گا، رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ یہ بھی منصوبہ ہے کہ  بغداد میں قائم امریکا اور دیگر سفارت خانے ان مظاہروں کے قانونی ہونے کو بہانہ بنا کر اعلان کریں گے کہ ہم یہاں سے جا رہے ہیں، اس کے بعد باقی سفارتخانے پرانھیں کے نقش قدم پر عمل کریں گے ،یہاں تک کہ یہ بھی طے ہوچکا ہے کہ اگر انٹرنیٹ منقطع کر دیا جائے تو مظاہرہ کرنے کی جگہ بھی بدل دی جائے گی۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम