مغربی ایشیا میں منشیات کا مرکز

ایک امریکی اخبار نے لکھا کہ سعودی ولی عہد کی سعودی معاشرے کی ثقافت اور عقائد کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے نتیجے میں سعودی عرب میں منشیات کے استعمال کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی جریدے فارن پالیسی نے سعودی معاشرے کی صورتحال اور نوجوانوں میں منشیات کے استعمال میں ہوشربا اضافے پر اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ روایتی معاشرے میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں اور منشیات کے استعمال میں کمی کی امید میں تفریح میں اضافے کے باوجود، اس کے استعمال کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔
 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں کیپٹاگون سمیت منشیات کی درآمد عام ہو گئی ہے جسے مغربی ایشیا کا منشیات کا دارالحکومت قرار دیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ، منشیات کی مارکیٹ بہت منافع بخش ہو گئی ہے اور مانگ بہت بڑھ گئی ہے، فارن پالیسی نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب میں منشیات کا مسئلہ خطرناک مرحلے تک پہنچ گیا ہے، سعودی فوجی حکام نے گزشتہ ماہ میں 34 ملین سے زائد کیپٹاگون گولیاں ضبط کیں اور منشیات کی سمگلنگ کی تین کارروائیوں کو ناکام بنایا، کیپٹاگون کے علاوہ بھنگ اور قات کی بھی سعودی عرب میں بکثرت تجارت ہوتی ہے۔ اس دوران، کیپٹاگون اپنے چھوٹے سائز اور پیکنگ میں آسانی کی وجہ سے زیادہ درآمد کیا جاتا ہے۔
 یہ سائیکیڈیلک مادہ بنیادی طور پر سعودیوں کی درخواست پر شام اور لبنان میں تیار کیا جاتا ہے اور سعودی عرب بھیجا جاتا ہے،حال ہی میں شام کےصوبہ حلب میں دہشت گردوں سے تعلق رکھنے والی کیپٹاگون پروڈکشن ورکشاپ کا انکشاف ہوا ہے جہاں دہشت گرد پیداواری مواد سعودی عرب بھیج رہے تھے،جبکہ شام کے بحران کے دوران، دہشت گردوں نے زیادہ دیر تک لڑنے کے لیے  منشیات کو اپنے حملوں میں بھی استعمال کیا۔
 فارن پالیسی نے پھر لکھا کہ سعودی حکام کی سب سے بڑی پریشانی Captagon کا زیادہ استعمال  ہے جبکہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات اور جرائم UNODC کی رپورٹ کے مطابق 2015 اور 2019 کے درمیان مشرق وسطیٰ میں دریافت ہونے والے کیپٹاگون کا نصف سعودی عرب میں ملا ہے،یادرہے کہ  ریاض حکومت کے مخالفین کا خیال ہے کہ محمد بن سلمان کے مشورے پر سعودی عرب میں تفریح کے نام سے مشہور تقریبات میں اضافہ  اورمغربی گلوکاروں کی دعوت  کے نتیجہ  میں سعودی نوجوانوں بنیادی طور پر جرم اور شراب نوشی  میں اضافہ ہوا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین