Code : 962 34 Hit

امام محمد تقی(ع) اور امت کی سرپرستی

حکومت بنی عباس کی پوری مشینری کی مسلسل کوشش یہ تھی کہ امام محمد تقی علیہ السلام کے سامنے ایسی رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں کہ امام سے شیعوں کا تعلق محدود ہو جائے تاکہ شیعوں کی رگ حیات کو کاٹا جاسکے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ شیعوں کی رگ حیات، امامت سے انکا تعلق ہے، اور یہ بات بھی وہ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ شیعہ اپنے امام کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں۔جبکہ امام تقی علیہ السلام کی پوری کوشش تھی کہ شیعوں سے آپ کا رابطہ و تعلق ٹوٹنے نہ پائے

ولایت پورٹل:  قارئین کرام! حضرت امام محمد تقی علیہ السلام نے ایسے وقت میں منصب امامت کی سنگین ذمہ داریوں کو سنبھالا اور امت کی رہنمائی ہدایت و زعامت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا جب عالم اسلام پر بنی عباس کے سفاک و ظالم حکمرانوں کا منحسوس سایہ تھا جو ہر وقت علی اور آل علی(ع) کے سچے پیروں کاروں طرح طرح کی اذیتوں میں مبتلا کرکے امت کا دھیان اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے موڑ دینا چاہتے تھے لہذا حکومت بنی عباس کی پوری مشینری کی مسلسل کوشش یہ تھی کہ امام  محمد تقی علیہ السلام کے سامنے ایسی رکاوٹیں کھڑی کردی جائیں  کہ امام سے شیعوں کا تعلق محدود ہو جائے تاکہ شیعوں کی رگ حیات کو کاٹا جاسکے انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ شیعوں کی رگ حیات، امامت سے انکا تعلق ہے، اور یہ بات بھی وہ  خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ شیعہ اپنے امام کو اپنی پناہ گاہ سمجھتے ہیں اور امام کو ساری دنیا میں سب سے افضل فرد جانتے ہیں اپنی زندگی کے خطوط کو امام علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں ترسیم و تنظیم کرتے ہیں، لہذا حکومت کی پوری کوشش تھی کہ امام محمد تقی علیہ السلام سے کسی بھی طرح رابطہ نہ ہو سکے جبکہ امام تقی علیہ السلام کی پوری کوشش تھی کہ شیعوں سے رابطہ و تعلق ٹوٹنے نہ پائے ، اسی وجہ سے آپ نے دنیا بھر کے شیعوں کے درمیان اپنے وکیلوں کو بھیج رکھا تھا جو شیعوں کی ضرورتوں کو آپ تک پہنچایا  کرتے تھے ، آپ تک شرعی رقوم  وکیلوں  ہی کے ذریعہ پہنچتی تھیں۔ آپ جسے اپنے نمائندوں کے ہی ذریعہ ضرورت مندوں تک منتقل کردیتے تھے  جب امام علیہ السلام کی جانب سے شیعوں تک رسائی کے بارے میں ہم کتابوں میں تلاش کرتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ امام علیہ السلام کی جانب سے اہواز، ہمدان ، سیستان ، بصرہ، ری ، واسط، کوفہ اور قم میں ایسے نمائندے تھے جو آپ کے کاموں کو انجام دیتے اور شیعوں اور آپ کے درمیان پل کا کام کرتے تھے  یہاں پر ہم ان میں سے اہم شخصیتوں  کی طرف اس طرح اشارہ کر سکتے ہیں:
1۔ ابراہیم  بن محمد ہمدانی: یہ وہ شخصیت تھی جو  ہمدان کے علاقے میں امام کی جانب سے وکیل قرار دئے گئے  تھے   انکے بارے میں امام علیہ السلام کا یہ مکتوب ملتا ہے کہ آپ نے فرمایا: اس علاقے میں تمہارے علاوہ میرا کوئی دوسرا  وکیل نہیں ہے  میں نے ہمدان میں اپنے دوستوں سے کہہ دیا ہے کہ وہ تمہاری اطاعت کریں۔(1)
2 ۔ صفوان بن یحی: یہ  امام کاظم علیہ السلام ، امام رضا علیہ السلام اور امام جواد علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے اورامام جواد علیہ السلام کے وکیل تھے۔(2) شیعہ اپنی شرعی رقوم انکو دیتے تھے تاکہ امام علیہ السلام تک پہنچا دیں  معمر بن خلاد کا کہنا ہے کہ جن غالیوں کے بارے میں اسماعیل بن خطاب نے وصیت کی ہے وہ صفوان بن یحی کو دے دئے جائیں انہیں لیکر میں امام جواد علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت نے فرمایا: پروردگار  اسماعیل بن خطاب اور صفوان پر اپنی رحمتوں کو نازل کرے کہ وہ میرے بابا کی جماعت  میں ہیں اور جو میرے بابا کی جماعت میں ہو خدا سے جنت میں مأوی عطا کرے گا۔
صفوان 210 ہجری میں اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو  امام جواد علیہ السلام نے انکے لئے حنوط و کفن کا انتظام خود کیا اور اسماعیل بن موسی بن جعفر سے کہا کہ ان پر نماز پڑھیں۔(3)
3۔علی بن مہزیار: تیسری صدی ہجری کے بڑے مشہور فقیہ محدث اور عالم تھے کہ آئمہ علیہم السلام کے نزدیک جو بلند مقام  اور جلیل القدر منزلت کے حامل ہیں۔ جناب علی بن مہزیار کو امام علی رضا علیہ السلام امام محمد تقی علیہ السلام اور اسی طرح امام علی نقی و عسکری علیہا السلام کے خاص شاگردوں اور اصحاب میں سے تھے اور آئمہ(ع) کے اس مایہ ناز صحابی نے اسلامی معارف و دینی مسائل پر 30 (4) یا  33 کتابیں تحریر کیں، شیعوں کے ہمیشہ مدد گار رہے ،انکا طریقہ یہ تھا کہ وه زیادہ تر سوالات ان پانچ آئمہ(ع)  سے لکھ کر پوچھتے تھے اور جو ضروری باتیں ہوتیں آئمہ(ع) تک منتقل کرتے  آئمہ(ع) اور علی بن مہزیار کے درمیان بہت سے خطوط رد و بدل ہوئے ہیں چنانچہ ہم ذیل میں سے اس ایک خط کو ذیل میں پیش کر رہے ہیں جو امام محمد تقی علیہ السلام نے آپ کے نام تحریر کیا تھا:
 علی بن مہزیار نے  ایک خط کے ذریعہ جب امام محمد تقی علیہ السلام کو حکومتی کارندوں اور قم کے رہنے والے شیعوں کے درمیان تصادم کی  اطلاع دی تو امام محمد تقی علیہ السلام نے اس کے جواب میں لکھا: تم نے جو بھی قم کے بارے میں مجھے اطلاع دی ہے  اسے میں نے دیکھ لیا  ہے خدا انہیں نجات دے ،اور انکی مشکلات کو حل کرے ، تم نے جو باتیں مکتوب کی ہیں  ان سے اس قضیہ میں جان کر مجھے خوشی ہوئی ، اسی طرح سے یہی عمل کرتے رہو امید کرتا ہوں کہ خدا بدلے میں جنت دے کر تمہیں خوش کرے ، اور تم سے میری رضایت کی بنا پر راضی ہو جائے اس کے حضور عفو و کرم کا خواستار ہوں  حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔(5) اس مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ علی ابن مہزیار صرف اس علاقے میں آپ کے نمائندہ اور وکیل ہی  نہ تھے بلکہ آپ کو ایک خصوصی حیثیت بھی حاصل تھی اسی وجہ سے امام علیہ السلام فرماتے ہیں اسی طرح اپنی ذمہ داریوں کو نبھاتے رہو  اسکے علاوہ اور بھی ایسے مکتوب ہیں جنہیں امام علیہ السلام نے علی ابن مہزیار کے مکتوب کے جواب میں لکھ کر ان سے اپنی محبت اور اور اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے۔(6) علی  ابن مہزیار کی شخصیت اس اعتبار سے ہمارے لئے اہم ہے کہ انکے والد کا تعلق ہماری ہی سر زمین ہندوستان سے تھا اور مذہب کے لحاظ سے پہلے عیسائی تھے۔(7) انکے عیسائی مذہب ہونے کے بارے میں صراحت کے ساتھ کشی نے انکے بارے میں  بیان کیا ہے کہ پہلے وہ عیسائی تھے اور انکا تعلق ہندوستان سے تھا  لیکن خدا نے اپنے کرم و لطف سے انکی ہدایت کی۔(8)
علی ابن مہزیار کا یہ نمونہ ہمارے لئے قابل غور ہے کہ ہندوستان کا رہنے والا ایک شخص امام جواد علیہ السلام سے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ آپ کا مورد اعتماد بن جاتا ہے اور ان شخصیتوں میں قرار پاتا ہے جن کے لئے امام علیہ لسلام دعا کرتے ہیں ، جہاں یہ بات ہمارے لئے پیروی اور اطاعت کے اصولوں کو لیکر بہت کچھ سبق رکھتی ہے وہیں امام علیہ السلام کی طرز امامت کو بھی بیان کرتی ہے کہ کس طرح دور دراز کے علاقے کے لوگوں کو امام علیہ السلام نے اپنے کردار کے بل پر اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔
اگر ہم بھی اپنے کرادار و اخلاق کو ویسا سجا لیں جیسا ہمارے ائمہ طاہرین (ع)نے تأکید کی ہے تو ہم بھی دور دراز کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں، اور موجودہ دور میں ملک کی سالمیت ، قومی استحکام کے لئے یہ ضروری ہے، آج ہمارے  ملک  کے ساتھ ہماری قوم ہردور سے زیادہ تعلیمات ائمہ طاہرین علیہم السلام  کی محتاج ہے۔
……………………………………………………………………………………………….
حوالہ جات:
1۔ رجوع کیجئے:بحار، ج 50، ص 109.
2- الامام الجواد، قزوينى ، ص 197.
3۔ مسندالامام الجواد، ص 137.
4۔فهرست، شیخ طوسی، ص ۸۸
5۔رجوع کیجئے: رمضانعلی رفیعی, تاریخ زندگانی ائمه (امام محمدتقی علیه السلام)
6۔بحار الأنوار، ج ‏۵۰، ص ۱۰۵٫
7۔زرکلی‌، الاعلام، ج ۵، ص ۱۷۸
8۔اختیار معرفة الرجال، شیخ طوسی، ص ۵۴۸

 
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम