Code : 2314 71 Hit

فرانسسی صدر کی مقبولیت میں حد درجہ کمی ،احتجاج کا سلسلہ بدستور جاری

فرانس کے ہر 10 میں سے 8 لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ حکومت کو عوام کے مطالبات کی طرف توجہ دینا چاہیئے اور اسی درمیان کئی اداروں نے اپنی شائع کردہ رپورٹس میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانس کے اندر غربت کا گراف تیزی سے بڑھا ہے اور بے روزگاری مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔

ولایت پورٹل:

 رپورٹ کے مطابق فرانس کی مشہور ویب سائیٹ’’ Le Journal du Diemann‘‘ نے ایفوپ کے ذریعہ کرائے ایک تازہ سروے  میں خلاصہ کیا ہے کہ فرانس کے 64 فیصد لوگ موجودہ حکومت اور صدر میکرون کی پالیسوں سے ناخوش ہیں۔
موجودہ وقت میں فرانسسی عوام کے درمیان میکرون کی مقبولیت محض 36 فیصد رہ گئی ہے اور جو لگاتار گھٹی جارہی ہے اور گذشتہ ہفتوں کی نسبت اس کا گراف تیزی کے ساتھ گرتا جارہا ہے۔
فرانس کے ہر 10 میں سے 8 لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ حکومت کو عوام کے مطالبات کی طرف توجہ دینا چاہیئے اور اسی درمیان کئی اداروں نے اپنی شائع کردہ رپورٹس میں اس بات کا بھی خلاصہ کیا ہے کہ حالیہ برسوں میں فرانس کے اندر غربت کا گراف تیزی سے بڑھا ہے اور بے روزگاری مسلسل پھیلتی جارہی ہے۔
یاد رہے کہ میکرون نے الیکشن سے پہلے عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ بے روزگاری کو ملک سے ختم کردیں گے اور ملک کی اقتصادی حالت مضبوط کریں گے، لیکن یہ وعدے وعدے ہی رہے عملی جامہ پہننے کا تو سوال ہی نہیں! یہی وہ موضوع ہے جس کے سبب فرانسسی عوام میں میکرون کی حکومت کے خلاف شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے اور گذشتہ 46 ہفتوں سے پیلی جیکٹس پہن کر احتجاج اور مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جسے حکومت دبانے کے لئے لاکھ حربے استعمال کررہی ہے لیکن کوئی تدبیر کارگر ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम