Code : 1010 28 Hit

صاحبان ایمان کے متعلق جناب نوح(ع) کا فیصلہ

جناب نوح علیہ السلام نے فرمایا:اے قوم: میں اس دعوت کے بدلے تم سے مال و ثروت اور اجر و جزا کا مطالبہ نہیں کرتا۔یہ امر اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نہیں،میں سوائے خدا کے معنوی و روحانی اجر کے سوا کچھ بھی نہیں سوچتا اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نہیں ہوسکتا جو اس قسم کے سر درد ،ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ہی اپنے خرید لے اور یہ سچے رہبروں کی پہچان کے لئے ایک میزان ہے، ان جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں، کہ وہ جب بھی کوئی قدم اٹھاتے ہیں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف و مقصد ضرور ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم جناب نوح علیہ السلام اور آپ کی قوم کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے گذشتہ کالم میں بیان کیا تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام پر ایمان لانے والے کچھ بینوا اور تنگدست اور خستہ حال لوگ تھے لہذا قوم کے مالداروں نے یہ بہانا بنا لیا تھا کہ جب تک یہ فقراء و مساکین آپ کے اطراف میں ہمیں نظر آتے رہیں گے ہم ایمان نہیں لائیں گے۔قارئین گذشتہ آرٹیکل کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے:
اپنی بہانہ باز قوم کو حضرت نوح(ع) کا جواب
گذشتہ سے پیوستہ:جناب نوح نے اپنی قوم کے ان شاطر دفاغوں سے فرمایا کہ مجھے یہ حق نہیں پہونچتا کہ میں کسی صاحب ایمان کو دھتکاروں اور انہیں اپنے پاس سے بھگاؤں۔فرمایا:’’وَيَا قَوْمِ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مَالًا‘‘۔(۱)
اے قوم: میں اس دعوت کے بدلے تم سے مال و ثروت اور اجر و جزا کا مطالبہ نہیں کرتا۔
یہ امر اچھی طرح سے نشاندہی کرتا ہے کہ اس پروگرام سے میرا کوئی مادی ہدف نہیں،میں سوائے خدا کے معنوی و روحانی اجر کے سوا کچھ بھی نہیں سوچتا اور کوئی جھوٹا مدعی ایسا نہیں ہوسکتا جو اس قسم کے سر درد ،ناراحتی اور بے آرامی کو یوں ہی اپنے خرید لے اور یہ سچے رہبروں کی پہچان کے لئے ایک میزان ہے، ان جھوٹے موقع پرستوں کے مقابلے میں، کہ وہ جب بھی کوئی قدم اٹھاتے ہیں بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اس سے ان کا کوئی نہ کوئی مادی ہدف و مقصد ضرور ہوتا ہے۔
اس کے بعد ان کے جواب میں جنہیں اصرار تھا کہ حضرت نوح علیہ السلام،اپنے اوپر ایمان لانے والے غریب حقیر اور کم عمر افراد کو خود سے دور کردیں حضرت نوح(ع)(حتمی طور پر فیصلہ سناتے ہوئے ) کہتے ہیں:’’کیونکہ وہ اپنے پروردگار سے ملاقات کریں گے اور دوسرے جہان میں اس کے سامنے میرے ساتھ ہوں گے‘‘۔(۲)
آخر میں انہیں بتایا گیا ہے:’’ میں سمجھتا ہوں کہ تم جاہل لوگ ہو‘‘۔(۳)
اے قوم اگر میں ان با ایمان لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کے سامنے (اس عظیم عدالت میں بلکہ اس جہان میں) کون میری مدد کرے گا۔(۴)
کیا تم کچھ سوچتے سمجھتے نہیں ہو۔(۵)۔جان لو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہ عین حقیقت ہے۔
خدائی خزائے میرے قبضہ میں نہیں ہیں
اپنی قوم کے مہمل اعتراضات کے جواب میں حضرت نوح(ع) آخری بات کہتے ہیں کہ اگر تم خیال کرتے ہو اور توقع رکھتے ہو کہ وحی اور اعجاز کے سوا میں تم پر کوئی امتیاز یا برتری رکھوں، تو یہ غلط ہے میں صراحت سے کہنا چاہتا ہوں:’’میں نہ تم سے کہتا ہوں کہ خدائی خزانے میرے قبضے میں ہیں اور نہ ہر کام جب چاہوں انجام دے سکتا ہوں،نہ میں غیب سے آگاہی کا دعویٰ کرتا ہوں،اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں کوئی فرشتہ ہوں۔(۶)
ایسے بڑے اور جھوٹے دعوے جھوٹے مدعیوں کے ساتھ مخصوص ہیں اور ایک سچا پیغمبر کبھی ایسے دعوے نہیں کرے گا کیونکہ خدائی خزانے اور علم غیب صرف خدا کی پاک ذات کے اختیار میں ہیں اور فرشتہ ہونا بھی ان بشری احساسات سے مناسبت نہیں رکھتا لہذا جو شخص ان تین میں سے کوئی ایک دعویٰ کرے یا یہ سب دعوے کرے تو یہ اس کے جھوٹے ہونے کی دلیل ہے۔
آخر میں دوبارہ مستضعفین کا ذکر کرتے ہوئے تأکیداً کہا گیا ہے:’’میں ہرگز ان افراد کے بارے میں جو تمہاری نگاہ میں حقیر ہیں، نہیں کہہ سکتا کہ کدا انہیں کوئی جزائے خیر نہیں دے گا۔(۷) بلکہ اس کے برعکس اس جہان اور اس جہان کی خیر ، انہیں کے لئے ہے اگرچہ ان کا ہاتھ مال و دولت سے خالی ہے یہ تو تم ہو جنہوں نے خام خیالی کی وجہ سے خیر کو مال و مقام یا سن و سال میں منحصر سمجھ لیا ہے اور تم حقیقت سے بالکل بے خبر ہو۔
اور بالفرض اگر بات سچی ہو اور وہ پست اور اوباش ہوں تو خدا ان کے باطن سے آگاہ ہے ۔میں تو ان میں ایمان اور صداقت کے سوا کچھ نہیں پاتا لہذا میری ذمہ داری ہے کہ میں انہیں قبول کرلوں ، میں تو ظاہر پر مأمور ہوں اور بندہ شناس فقط خدا ہے۔ اور اگر میں اس کے علاوہ کچھ کروں تو یقیناً ظالموں میں سے ہوجاؤں گا۔‘‘(۸)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ ہود:۲۹۔
۲۔سابق حوالہ۔
۳۔سابق حوالہ۔
۴۔سورہ ہود:۳۰۔
۵۔سابق حوالہ۔
۶۔سورہ ہود:۳۱۔
۷۔سابق حوالہ۔
۸۔سابق حوالہ۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम