Code : 3460 43 Hit

قہرمان انتقام کربلاجناب مختار ثقفی کا روز شہادت

معصومین علیہم السلام نے متعدد مقامات پرتعریفی کلمات سےجناب مختار کی تائید بھی کی ہے اور اگرکسی کی نظر میں صرف امام وقت کی مصلحتا خاموشی کی وجہ سے قیام مختار مشتبہ ہوجاتا ہے تو ایسا سوچنے والے حقیقت میں ان لوگوں کے ساتھ ہم آواز نہیں ییں؟ جو دور غیبت میں کسی طرح کی اسلامی حکومت کو تشکیل کی ہر کوشش کو غلط قرار دیکر انقلاب اسلامی ایران کو نشانہ بنا چاہتے ہیں۔

ولایت پورٹل: ١۴رمضان المبارک تاریخ کے اس عظیم سورما کی تاریخ شہادت ہے جس نے اپنے حسن تدبیر سے واقعہ کربلا کے مجرمین کو موت کے گھاٹ اتار کےکربلا کی تلخ یادوں میں قدرے تسکین کا سامان فراہم کیا ۔
جناب مختار کی شخصیت اور ان کےکارناموں کوان کی حیات بابرکت سے متعلق کتابوں میں درج کیا گیا ہے آپ کے کارناموں کی عظمت اور انفرادیت کی کیفیت یہ ہے کہ کتابوں کی دنیا میں مختار نامہ کے نام سے ایک مستقل عنوان قائم ہے عام طور پر ایسے عظیم کارناموں کو انجام دینے والوں کی مظلومی یہ ہوتی ہے کہ انکے بہت سے فیصلے اور اقدامات سطحی نظر رکھنے والوں یا بزعم خود بہت مترقی نظر رکھنے والوں کے لئے ابہام کا سبب بن جاتےہیں ایسے موقعہ پر سطحی نظر رکھنے والے تو چاہے اپنی ناسمجھی کااعتراف اور اقرار کرکے خاموش ہوجائیں لیکن مترقی فکر کے زعم میں مبتلا افرادجو ایک طرح سے جہل مرکب کا شکار ہوتے ہیں اپنی لنترانیوں میں آکر ایسی شخصیات کو مشتبہ بنانے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھتے۔
تمام صاحبان ایمان جناب مختار کو  نبی یا امام ہرگز نہیں مانتے ہیں اور نہ ہی ان کی عصمت کے قائل ہیں ان میں سے کوئی بھی انھیں رہبر اور رہنما بھی نہیں مانتا کہ ان کے ہر عمل کے بارے میں بحث ضروری ہو کہ وہ کس حد تک صحیح تھا اور کس حد تک غلط۔
صاحبان ایمان کی نظر میں وہ  صرف جذبہ عشق اہلبیت نبی علیہم السلام سے سرشار ایک ایسے جوشیلے اور بہادر مرد مؤمن تھے جن کادل نصرت امام حسین علیہ السلام کےجذبہ سے لبریز تھا واقعہ کربلا کے وقت قید خانہ میں تھےاس لئےواقعی کربلا کےبعدجب قید سے رہائی ملی تودشمنان امام حسین علیہ السلام سےانتقام کےلئےپورے جوش و ولولے کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ اب کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ واقعہ کربلا کے بعد انتہائی گھٹن کے ماحول میں ابن زیاد جیسے خونخوار اور عیار سے تخت حکومت چھین کر چن چن کے مجرمین کربلا سے انتقام لینا کتنا مشکل امر تھا عصر عاشور کے بعدیزیداور ابن زیاد کے سیاہ کرتوتوں کے نتیجہ میں گھٹن کا جو ماحول بنا تھا اس میں چوتھے امام علیہ السلام کے لئےنسل نبوت اور منصب امامت کی حفاظت کی جو ذمہ داری تھی کیا ان حالات میں امام سے انتقام کے لئے قیام کی اجازت لینا وجود امامت کو خطرہ میں ڈالنا نہیں تھا؟ اور واقعہ حرہ کےمجرمانہ حالات میں امام علیہ السلام کی مظلومانہ خاموشی کیا اسی مصلحت الہی کاحصہ نہیں تھی؟ ایسے حالات میں امام سے مربوط کسی فرد کا انکی کھلی ہوئی اجازت سے قیام کیا امام کا قیام شمار نہ ہوتا؟ اور کیا ان حالات میں امامت کے لئے قیام ممکن تھا؟ یقینا اگر قیام امام کا امکان ہوتا توامام علیہ السلام خود قیام فرماتے اب جب امام کے لئے قیام یا براہ راست قیام کی اجازت دینے کاامکان نہیں تھا تو کیا قاتلان امام حسین علیہ السلام کو کھلا چھوڑ کر ان کے مزید جرایم کے لئے راستہ کھلا رکھنا مناسب تھا ہر گز نہیں اسی لئے امامت کے شیدائی  نے اپنی چشم بصیرت سے اپنے آقا کی مصلحت کے اشاروں کو سمجھ لیا انھوں نے اپنے قیام کو خانوادہ امیرالمؤمنین (ع) سے مستند کرانے کے لئے امام کے چچا محمد حنفیہ سے رجوع کرکے دوہرے مقاصد حاصل کرلئے امام وقت پر آنچ بھی نہ آنے پائے اور قیام وانتقام مستند بھی ہوجائے اس طرح اس باشعور عاشق اہلبیت (ع)نے بروقت صحیح فیصلہ کرکےانتقام کے لئے قدم اٹھایا وہ یقیناً قابل تعریف ہے اور یہی وجہ ہے کہ معصومین علیہم السلام نے متعدد مقامات پرتعریفی کلمات سےجناب مختار کی تائید بھی کی ہے اور اگرکسی کی نظر میں صرف امام وقت کی مصلحتا خاموشی کی وجہ سے قیام مختار مشتبہ  ہوجاتا ہے تو ایسا سوچنے والے حقیقت میں ان لوگوں کے ساتھ ہم آواز نہیں ییں؟ جو دور غیبت میں کسی طرح کی اسلامی حکومت کو تشکیل  کی ہر کوشش کو غلط قرار دیکر انقلاب اسلامی ایران کو نشانہ بنا چاہتے ہیں۔
قیام جناب مختار کی کامیابی کے بعد آل زبیر کے ذریعہ جناب محمد حنفیہ کے اغوا کئے جانے اور ان کو زندہ جلادینے کی ناکام سازش سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امام وقت کے لئے اس قیام کی اجازت دینا کتناخطرناک ہو سکتا تھا ۔  قیام جناب مختار کی کامیابی اور یزیدی افواج کے تمام سرکردہ افراد منجملہ ابن زیاد اور عمر سعد کے قتل نے  بنی امیہ اور بنی زبیر کے دل میں دشمنی کی جو دوہری آگ لگائی اس نے اس عظیم قہرمان تاریخ کی شخصیت کو مشتبہ بنانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑا اور اس مقدس قیام کےمقدس کردار پرہی سوالیہ نشان لگاناشروع کردیئے۔   بنی امیہ ' بنی زبیر اورپھر بعدمیں بنی عباس نے  اپنے اقتدار کے بل پر تاریخ کے حقایق میں تحریف کا جو بھیانک جرم کیا ہے وہ صاحبان شعور سے پوشیدہ نہیں ہے ایسے میں عاشقان آل محمد علیہم السلام سے حسن ظن نہ رکھ کر دشمن کی گڑھی ہوئی تاریخ اور ان کی طرف سے ایجاد کیے گئے شبہات کو پیش کرنا اور عاشقان امام حسین علیہ السلام کے لئے اس قہرمانی شخصیت پر انگلی اٹھانا اگر عناد نہیں تو کم ازکم بے شعوری ضرور ہے جب کہ روایات کی روشنی میں مومن کیس یعنی ذہین اور بابصیرت ہوتاہے اور تاریخ کے مطابق کیس یعنی ذہین اور باتدبیر جناب مختار کا بچپنے کا نام تھا گویا جناب مختار کا باشعور ہونا اور آپ کی شخصیت نیزآپ  کی نیت کا پاکیزہ ہونا بچپنے سے ہی ثابت تھادنیا ان کے عظیم کارنامے اورکامیاب قیام سے بخوبی واقف ہے ۔اس سلسلہ میں بعض مخلصین کی طرف سے دیگر ایرانی یا عراقی علما کے بعض اقوال کو شاہد کے طور پر پیش کرکے تائید کے پہلو نکالنے کی کوشش کرنا اوریہ تذکرہ کرناکہ پھر دیگر مقدس علما کوبھی نشانہ بنایاجائے بھی مناسب نہیں ہےاس کے بارےمیں یہ عرض کیاجاسکتا ہےنشانہ بنانے سے مراد اگر لعنت ملامت ہے توان میں کسی کےلئے منجملہ مورد نظر شخصیت کے لئےبھی مناسب نہیں اگرچہ علمی تنقیدکسی پربھی کی جاسکتی ہےاس کے علاوہ ایک اور بات جوکہی جاسکتی ہےوہ یہ کہ الگ الگ تہذیبیں الگ الگ ماحول میں الگ الگ حساسیتیں پیدا کرتی ہیں ممکن ہےکسی ثقافت میں بعض پہلوؤں کی طرف اشارہ اس قہر مانی شخصیت کی ابہت کے بارے میں حساسیت کا سبب نہ بنتاہو اس لئے  کہنے والامتوجہ نہ رہاہو اوراس نےکسی کو ٹھیس پہونچانے کی نیت سے  نہیں طردا للباب بعض ایسی باتوں کاتذکرہ کردیا ہوجو اس کی نظرمیں تاریخ کاحصہ تھیں اورچونکہ ان کی ثقافت میں حساسیت نہیں تھی لہذا کسی نے متوجہ بھی نہیں کیا ورنہ مقدس شخصیات قطعا ایسی کسی بات پر اصرار نہ کرتیں جس سے صاحبان ایمان کے درمیان بے چینی پیدا ہوتی ہو جبکہ ہمارا اردو زبان معاشرہ انتقام کربلا کے اس کردار کو ایک عظیم قہرمانی شخصیت سمجھتا ہے لہذا بغیر کسی علمی اور عملی ثمرہ کے صرف اپنے کو کچھ زیادہ پڑھا لکھا اور مترقی دکھانے کے لئےبار بار ایسےمسائل کواٹھانا جن سے سوائے اہل ایمان میں بے چینی پیداہونےکے دین و شریعت کا کوئی فائدہ نہ ہو  تشویشناک  ہے اور پھر ان تشویشناک تبصروں کی متعدد مسائل میں تکرار اور پھر خاص مریدوں کا ان پر اصرار صورت حال کو اور زیادہ خراب کردیتا ہے ۔
 ایسے حالات میں جہاں غیروں کے ساتھ اتحادکی ضرورت محسوس کی جارہی ہو اپنوں کی صفوں کو منتشر کرنا کہاں کی عقلمندی ہے اگر خدا نخواستہ العیاذ باللہ واقعی جناب مختار کی زندگی میں کچھ قابل گرفت  باتیں ہوں بھی  تو کیا ہر مؤمن کی ہر کمی کا برملا تذکرہ صاحبان ایمان کے شایان شان ہے  اور کیا اس کا کویی علمی یا عملی ثمرہ ہے  دیکھاتویہ جا رہا ہے کہ غیروں میں سے جس کسی نے ولائے اہل بیت علیہم السلام  کی حق میں دو جملے بول دئے اسے سر پہ چڑھایا جا نے لگتا ہے تو جس نے واقعہ کربلا کے بعد خطرناک گھٹن کے ماحول میں اپنے جان ومال وعزت آبرو کی پرواہ کیے بغیر دشمنان اہل بیت علہیم السلام کو فی النار کرنے کے لئے رات دن ایک کردیے ہوں اس کی شخصیت میں کمیاں نکالنے کا کیامطلب ہو سکتا ہے اگر ان سے محبت اور دوستی کی کوئی وجہ نہ بھی ہو اگرچہ ہزاروں وجہیں ہیں تو کم از کم دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے کے فامولے پر عمل کرتے ہوئے جناب مختار سے دوستی کا دم بھرناہرعا شق امام حسین علیہ السلام کی ذمہ داری ہےآور اگر خدانخواستہ اب بھی کہیں کوئی کمی دکھائی  دے رہی ہے توشریعت کے احکام اوردوستی کے تقاضوں کےمطابق حسن ظن سے کام لینا بھی ایک راستہ ہوتا ہے  کیسا انصاف ہے کہ چودہ سو سال پہلے کے ایک شیعہ پربے لگام تبصرہ روا ہو جب کی اس کا کوئی بھی علمی یا عملی فائدہ نہ ہو اور عصر حاضر میں زبان و قلم سے محترمانہ زبان میں متوجہ کرنا جرم سمجھا جائے۔
امید ہے دینی شعورو بصیرت کو بروئے کار لاکر دونوں طرف کے افراد راہ اعتدال پر گامزن رہیں گےاورفتنوں سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتےہوئے صرف خوشنودئ پروردگارکو پیش نظررکھیں گے تو اس طرح رضائے  آل محمد علیہم السلام کا سامان بھی فراہم ہو گا جس سےدنیا عزت اورآخرت میں  راحت میسر ہوگی ۔انشاءاللہ !

تحریر : سید حمید الحسن زیدی(الاسوہ فاؤنڈیشن سیتاپور)


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین