Code : 3572 9 Hit

امریکہ میں غلامی کا کلچر اب بھی زندہ ہے: امریکی پروفیسر

امریکی یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے حالیہ مظاہروں کے بعد اپنے ایرانی دوستوں سے امریکی عوام کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ولایت پورٹل:ہیوسٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر جیرالڈ ہورن ، جنہوں نے امریکی تاریخ اور غلامی کے بارے میں متعدد کتابیں تصنیف کیں ، نے ایک گفتگو میں کہا کہ امریکہ میں غلامی کا کلچر اب بھی زندہ  اورمعاشرے میں اثراندازہے۔
یہ اظہار خیالات اس وقت سامنے آیا ہے جب سیاہ فاموں کے خلاف  امریکی پولیس کی بربریت کے خلاف مختلف امریکی شہروں میں جاری احتجاج کے نویں دن ہونے والے مظاہروں میں اب تک 13 افراد ہلاک اور سیکڑوں گرفتار ہوئے ہیں۔
یادرہے کہ امریکہ کے متعدد شہروں میں کرفیو نافذ ہونے کے باوجود امریکی پولیس کے ہاتھوں حال ہی میں 46سالہ سیاہ فام امریکی شہری کی المانک موت کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد لوگ سڑکوں پر آئے۔
پروفیسر ڈاکٹر جیرالڈ  کاکہنا ہے  کہ امریکی تاریخ  گواہ ہے سیاہ فاموں کو غلام بنا کرامریکہ لایا گیا تھا یہی وجہ ہے کہ وہ ہمیشہ آزادی کے لئے کوشاں رہے ہیں۔
ان کوششوں نے پوری تاریخ میں امریکی سکیورٹی فورسز کو سیاہ فاموں کو ایک خطرہ کے طور پر دیکھنے کی راہ پر گامزن کردیا۔
سوال یہ ہے کہ  غلامی کے دور کے خاتمے کے بعد  امریکی پالیسیوں نے ابھی تک اس سوچ کا خاتمہ کیوں نہیں کیا ہے اور ہم ابھی بھی کالوں کے خلاف تشدد کے واقعات دیکھ رہے ہیں؟
انھوں نے کہا کہ سیاست تبدیل نہیں ہوئی ہے خاص کر اس لئے کہ  اگرچہ غلامی رک گئی ہے لیکن سستی مزدوری بند نہیں ہوئی ہے  اور بہت سے کالے اس زمرے میں آتے ہیں۔
مزید یہ کہ ایک ایسی ثقافت جو غلامی سے نکلی ہے  جس کا مطلب افریقیوں کو کمترسمجھنا اور زیادتی کے سوا کچھ نہیں یہ  ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔


 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین