Code : 1416 102 Hit

یمن کی تباہی میں فرانس کا کتناحصہ؟

یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ کا آغاز ۲۶ مارچ ۲۰۱۵ سے ہوکر آج بھی جاری ہے اور جہاں یہ جنگ امریکہ،فرانس، برطانیہ اور اسرائیل کی سیاسی اور تلسیحاتی حمایت سے انجام پارہی ہے وہیں اس جنگ میں مستقیم طور پر کچھ نام نہاد اسلامی ممالک بھی سعودی عرب کے شانہ بشانہ جیسا کہ متحدہ عرب امارات،سوڈان یمن کو تباہ کرنے میں شریک و سہیم ہیں۔

ولایت پورٹل: فرانس کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کی طرف سے ۲۵ ستمبر ۲۰۱۵ کو ۱۵ صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ اس ملک کے صدر کے سامنے پیش کی گئی جس میں ان تمام جدید ہتھیاروں اور جنگی ساز و سامان کا ڈیٹا تھا جو سن ۲۰۱۰ سے ۲۰۱۹ تک حکومت فرانس نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو یمن پر مسلط کردہ جنگ کے لئے فروخت کیا ہے:
(CAESAR)سزار توپخانہ
سزار ایک ایسا توپخانہ ہے جو بم برسانے کے لئے خود بخود حرکت کرتا ہے اور ۴۲ کیلومیٹر کے اندر کے تمام اہداف کو نشانہ بنانے میں ماہر ہے یہ توپخانہ خود فرانس کی سرکاری کمپنی(نِکستِر) کہ جو شہر ’’روآن‘‘ میں واقع ہے، نے بنایا گیا ہے۔
بین الاقوامی امن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سٹاکہوم(SIPRI) کی تازہ رپورٹ میں بتلایا گیا ہے کہ ہے فرانس نے ۲۰۱۰ سے اب تک ۱۳۲ توپخانے سعودی حکومت کو فروخت کئے ہیں اور نئی قرارداد کے مطابق ۲۰۲۳ تک کم سے کم ۱۲۹ توپخانے نیز فرانس سعودی عرب کو سپرد کردے گا۔
(LeClerc)لوکلرک ٹینک
فرانس کی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کی تازہ رپورٹ کے مطابق فرانس نے اب تک ۷۰ جدید ٹکنالوجی سے لیس لوکلرک ٹینک سعودی عرب کی طرف سے یمن پر مسلط کردہ جنگ میں استعمال کئے ہیں۔
ڈیموکلس پاڈ(Damocles Pod)
یہ ایک ایسا جنگی طیارہ ہے جس سے مختلف کام بیک وقت انجام پاتے ہیں ۔فوج کے جاسوسی سسٹم کو بحال رکھنے کے ساتھ ساتھ آٹو ہتھیاروں کو کنٹرول کرکے انہیں نابود کرنا بھی اس طیارہ کا کام ہے۔یہ ٹکنالوجی کے اس دور میں کسی شاہکار سے کم نہیں جسے فرانس کی ایک فوجی کمپنی نے ڈیزائن کیا ہے جو یمن پر مسلط کردہ سعودی اتحاد کی جنگ میں کافی مقدار میں متحدہ عرب امارات اور سعودی کے پاس ہیں۔
(Black Shaheen) بلیک شاہین میزائیل
فرانس کی خفیہ رپورٹ سے یہ بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات کی فوج نے یمن پر بلیک شاہین نامی میزائیل بھی باقاعدہ طور پر استعمال کئے ہیں اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ میزائیل فرانس اور برطانیہ کا مشترکہ پروڈیکٹ ہے۔
لائیفٹ اور باینونا نامی تسلیحاتی کشتیاں (La Fayette & Baynunah)
۲۰۱۵ سے آج تک سعودی اتحاد نے یہ ۲ تسلیحاتی غول پیکر کشتیاں فرانس سے خریدی ہیں جن سے وہ اقوام متحدہ کی قرار داد کے اجراء کو بہانا بنا کر کئی مرتبہ دنیا سے پہونچنے والی انسان دوستی کے نام پر امداد کو پہونچنے میں مانع ہوئے ہوئے ہیں اور رپورٹس سے یہاں تک پتہ چلتا ہے کہ سعودی اتحاد دشمنی کی اس حد تک پہونچ چکا ہے کہ یمنیوں کو بنیادی ضرورتوں کا سامان بھی نہیں نصیب ہوپارہا ہے اور یمن کے ۲ کروڈ لوگ شدید محاصرہ میں ہیں۔
اقوام متحدہ کی منع کرنے کے باوجود بھی فرانس کا سعودی کو ہتھیار فروخت کرنا
۳۰ اکتوبر ۲۰۱۸ کی بات ہے کہ فلورنس پارلی(فرانسسی وزیر دفاع) نے BFMTV کو دیئے ایک انٹریو میں اعتراف کیا تھا کہ سعودی حکومت کو  آئندہ ہتھیار فروخت کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں ہے۔جبکہ فرانسیسی فوجی انٹیلی جنس ایجنسی کے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ اسی وقت فرانس حکومت ریاض کے ساتھ ۲۰۲۳ تک ہونے والے ہتھیاروں کے معاہدوں کو عملی جامہ پہنانے پر غور کرہے تھے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اب تک یمن میں ۸۳۰۰ عام شہری کہ جن اکثریت بچوں اور عورتوں کی ہے اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور یمن مین تاریخ بشریت کا سب سے بڑا المیہ رونما ہونے جارہا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम