Code : 3043 18 Hit

مشرقی قدس میں صیہونی بستیوں کی تعمیر غیر قانونی ہے:جرمنی

جرمن وزارت خارجہ نے مقبوضہ مشرقی قدس میں صیہونی حکومت کے 5 ہزار نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے فیصلے پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔

ولایت پورٹل:جرمنی کی وزارت خارجہ نے صہیونی حکومت کے مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی بستیوں میں 5 ہزار ہاؤسنگ یونٹ بنانے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا۔
جرمن وزارت خارجہ نے مزید کہاکہ اس اقدام سے مقبوضہ مشرقی یروشلم  مغربی پٹی سے مزید الگ تھلگ ہو جائے گا اوراس فلسطینی ریاست کا امکان مزید کمزور ہوجائے گا۔
جرمنی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہاکہ ہم ایک بار پھر اسرائیلی حکومت پر زور دیتے ہیں کہ مقبوضہ قدس  کے علاقوں حار حوما اور گیواٹ ہاماٹوس میں میں رہائش گاہیں قائم کرنے اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو ترک کریں۔
یادرہے کہ صہیونی وزارت ہاؤسنگ نے دو روز قبل مقبوضہ قدس کے شمال میں جو کبھی قدس ایئرپورٹ کی زمین تھی ، اس پر 9،000 رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے لئے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔
واضح رہے کہ ائر پورٹ قدس کے شمال میں قلندیا ضلع میں واقع ہے جس کے آس پاس کے محلوں اور علاقوں میں فلسطینی کنبے آباد ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ مغربی پٹی کا یہ واحد ائر پورٹ ہے جو 1967 کی جنگ سے پہلے اردن کے کنٹرول میں تھا۔
قابل ذکر ہے کہ 1967 کے بعد اسرائیل نےاس ہوائی اڈے کو اندرونی پروازوں اور فوجی مقاصد کے لئے استعمال کیا لیکن اکتوبر 2000میں شروع ہونے والے دوسرے انتفاضہ کے بعد اس کو یہ بھی بند کرنا پڑا۔
صیہونی اخبار ہارٹز کے مطابق ، اس پراجیکٹ کو 1،200 ہیکٹر رقبے پر نافذ کیا جائے گا جس میں 6،000 رقبہ  پررہائشی یونٹس ، تجارتی منصوبوں ، ہوٹلوں کی تعمیر اور دیگر سہولیات تعمیر کی جائیں گی۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम