Code : 2411 134 Hit

معتمد کی سازش اور امام عسکری(ع) کی شہادت

معتمد نے اپنے پانچ معتبر اور مؤثق نوکروں کو امام کے بیت الشر ف سے خبریں لانے کے لئے معین کردیا اسی طرح اس نے صبح و شام امام(ع) کی دیکھ بھال کرنے کے لئے حکیموں کی ایک جماعت معین کی اور ان سے یہ عہدلیاکہ وہ بالکل امام کے بیت الشرف سے جدا نہیں ہوںگے۔اور یہ سب امام کے مصلح اعظم فرزند کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے تھا جس کی نبی(ص) نے بشارت دی تھی۔

ولایت پورٹل: معتمد پچیس سال کی عمر میں خلیفہ بناوہ اپنے ماں باپ کا نافرمان بیٹا اور لہو لعب میں مشغول رہتا تھا۔اس نے رعایا کے امور انجام دینے سے چشم پوشی کرلی تھی اسی وجہ سے قبیلے اس کو بری نظر سے دیکھنے لگے تھے۔ اس کے عہد حکومت میں امام حسن عسکری(ع) کو بہت ہی زحمت و مشقت اور سختیوں کا  سامنا کرناپڑا،اُ س نے امام کو نظر بند کرنے کا حکم دے دیا اور داروغۂ زندان سے کہا کہ وہ امام کے متعلق تمام اخبار و واقعات اور ان کی گفتگو کی خبریں اُن تک پہنچایا کرے، داروغہ زندان نے معتمد کو خبر دی کہ امام ؑنے عباسی سیاست کے خلاف کوئی بھی عمل انجام نہیں دیا، انھوں نے تو دنیا کو خیر باد کہہ دیا ہے ،وہ دن میں روزہ رکھتے ہیں اور رات عبادت میں بسر کرتے ہیں، اُس (معتمد )نے دوسری مرتبہ پھر داروغہ زندان سے امام(ع) کے سلسلہ میں معلومات حا صل کیں تو اُس نے پہلے کی طرح خبر دی تو معتمد نے امام(ع) کو قید سے آزاد کرنے اور اُن سے عذر خواہی کا حکم دیا ، داروغہ زندان نے امام(ع) کو قید سے آزاد ہونے کی خبر دینے میں جلدی سے پہنچا تو اس نے دیکھا کہ آپ(ع) وہاں سے نکلنے کے لئے اپنا لباس اور نعلین وغیرہ پہن کر آمادہ ہو گئے ہیں ،داروغہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا اس نے امام(ع) کی خدمت میں معتمد کا خط پیش کیا، قید خانہ میں آپ(ع) کے ہمراہ آپ کا جعفر نام کا بھائی تھا۔ امام(ع) اس وقت تک قید خانہ سے باہر نہیں آئے جب تک آپ(ع) نے اپنے بھا ئی جعفر کو قید خانہ سے آزاد نہیں کرالیا۔
بہر حال امام(ع)نے اس سرکش کے دور میںبہت سخت حالات کا سامنا کیا۔ آپ کو بہت سی فوجیں گھیرے رہتی تھیں جس میں آپ کو سانس لینا دو بھر ہو گیا تھا اور آپ کے شیعہ آ پ کی ملاقات سے دور ہوگئے۔
امام عسکری(ع) پر قاتلانہ حملہ
عباسی سرکشوں پر امام بہت گراں گذرنے لگے حالانکہ امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ آپ تقدس تعظیم اور ترجیح میں تمام علویوں اور عباسیوں سے افضل تھے اور سب کے نظریہ کے مطابق اس نے امام(ع) کی اہانت کی اور ان پر قاتلانہ حملہ کیا آپ(ع)کو زہر ہلاہل دیا گیا۔جب آپ(ع) نے تناول کیا تو آپ کا سارا بدن شریف مسموم ہوگیا اور آپ بستر مرگ پر لیٹ گئے اور زہر کی شدت سے مضطرب ہوگئے، آپ(ع) صابر تھے لہٰذا آپ نے اپنے عام امور اللہ کی پناہ میں دے دئے۔
معتمد نے اپنے پانچ معتبر اور مؤثق نوکروں کو امام کے بیت الشر ف سے خبریں لانے کے لئے معین کردیا اسی طرح اس نے صبح و شام امام(ع) کی دیکھ بھال کرنے کے لئے حکیموں کی ایک جماعت معین کی اور ان سے یہ عہدلیاکہ وہ بالکل امام کے بیت الشرف سے جدا نہیں ہوںگے۔اور یہ سب امام کے مصلح اعظم فرزند کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے تھا جس کی نبی(ص) نے بشارت دی تھی۔
جنۃالماویٰ کی طرف
امام کی حالت بگڑتی گئی اور حکیموں نے جواب دے دیا،موت آپ(ع) کے نزدیک آتی گئی، امام اللہ کاذکر اور قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگے،یہاںتک کہ آپ کی عظیم روح خدا کی بارگاہ کی طرف پروازکرگئی،جس کوملائکۂ رحمٰن نے اپنے احاطہ میں لے لیا اور اللہ کے انبیاء(ع) اور رسولوں نے اس کااستقبال کیا۔
آپ(ع) کی وفات اس دور کے مسلمانوں کے لئے ایک عظیم مصیت تھی، وہ اپنی مصلحتوں  کی رعایت کرنے والے اپنے قائد،مربی اور مصلح سے محروم ہوگئی۔
تجہیز و تکفین
امام(ع) کے جسد مبارک کو غسل دیاگیا،حنوط کیا گیا اور کفن پہنایاگیا،نماز جنازہ پڑھی گئی آپ کی نماز جنازہ آپ(ع)کے فرزند ارجمند زمین پر اللہ کی حجت امام منتظر(عج)نے ادا فرمائی،ابوعیسیٰ بن متوکل نے امام حسن عسکری(ع)کے چہرے سے ردا ہٹائی اور اس کوعلویوں میں سے بنی ہاشم،عباسیوں لشکر کے سپہ سالار،حکومت کے نامہ نگار اداروں کے رئیس اور قاضیوں وغیرہ کودکھاکر کہا:یہ حسن بن محمدبن رضا ہیں جنھوں نے اپنے گھر میں وفات پائی، وہاں پر امیرالمؤمنین(ع) کے فلاں فلاں خدام فلاں فلاں حکیم اور فلاں فلاں قاضی موجود تھے، اس کے بعد آپ(ع) کا چہرۂ مبارک ڈھک دیا گیا۔امام حسن عسکری(ع) کومعتمد کے ذریعہ شہید کئے جانے کی خبر جو چاروں طرف پھیل گئی تھی یہ سارا پروپیگنڈہ اس کا انکار کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔
تشییع جنازہ
سامراء کے ہر طبقہ کے لوگوں نے امام حسن عسکری(ع) کے جنازہ میں شرکت کی۔ حکومتی ادارے، تجارت گاہیں اورتمام بازاربندکردیئے گئے، سامراء میں قیامت کامنظردکھائی دے رہاتھا۔اس وقت تک کسی کی ایسی تشیع جنازہ نہیں ہوئی تھی ،وہ سب امام (ع)کے فضائل بیان کر رہے تھے اورکچھ افراد امام(ع)کے انتقال پر ملال پر مسلمانوں کے لئے عظیم خسارہ پرحزن وغم کا اظہار کر رہے تھے۔
آخری قیام گاہ
امام(ع) کاجسم اطہرتکبیر اورتعظیم کے سایہ میں آخری قیام گاہ تک لایاگیا اور آپ(ع) ہی کے بیت الشرف میں آپ(ع) کے پدر بزرگوار کی قبر کے پہلو میں آپ(ع) کودفن کردیاگیا۔آپ کے ساتھ حلم،علم اورتقویٰ اس دنیا سے رخصت ہوگیا اورجگرگوشۂ رسول اعظم(ص)کو زمین میں چھپا دیا گیا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम