Code : 452 126 Hit

شادی میں سادگی کا تصور

شادی کے موقع پر دوسرے مؤمنین کی آبرو کا خیال کرتے ہوئے انواع و اقسام کے کھانوں کے اہتمام سے پرہیز کیا جائے تاکہ کم وسائل والے افراد کے اندر احساس محرومی پیدا نہ ہو۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے میمونہ بنت حارث سے شادی کےموقع پر خرما کے معجون کا ولیمہ دیا تھا۔

ولایت پورٹل: شادی میں خوشی اور جشن منانا نہ صرف یہ کہ برا نہیں بلکہ اچھا ہے اور سیرت معصومین علیہم السلام میں اسکی مثالیں پائی جاتی ہیں، لہذا جشن منانا سادگی کے منافی نہیں ہے۔سادگی کے بہت سے مصادیق ہو سکتے ہیں۔ہم ان میں سے بعض کا تذکرہ ذیل میں کر رہے ہیں:
شادی کرنا سنت رسول(ص) اور عبادت ہے لہذا کوشش کی جائے کہ اس میں معنویت کا خیال رکھا جائے اور جو باتیں معنویت کے خلاف ہوں ان سے پرہیز کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ انسان اس موقع پر مکمل غفلت میں پڑا رہے اور اس مشترکہ زندگی کا آغاز غفلت اور گناہ کے ذریعہ ہو۔
غیر ضروری تکلفات،اسراف، پیسہ خرچ کرنے کے بارے میں تقابل اور دکھاوے جیسے امور سے اجتناب کرنا چاہیئے۔ اسلام زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال اور میانہ روی کا قائل ہے اور حد سے تجاوزکو ناپسند کرتا ہے ، اس لئے اس کے نزدیک اظہار مسرت میں بھی حد سے تجاوز اور اسراف(فضول خرچی) ناپسندیدہ ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّيَاطِيْنِ‘‘۔(سورہ الاسراء: 27)۔یقیناً فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔
تفاخر اور شأن وشوکت کا بے جا اظہار بھی اسلام کی نظر میں مذموم ہے۔ اللہ نے دنیاوی وسائل سے نوازا ہے تو اسے اللہ کے دین کی نشر و اشاعت اور ان ضرورتوں پر خرچ کیا جائے جن کی معاشرے میں ضرورت ہے۔لڑکی کو جہیز کے نام پر لڑکے والوں کی فرمائش کے مطابق انواع و اقسام کی ضروری اور غیر ضروری چیزیں اور قیمتی ساز و سامان دینے کے بجائے ضروریات کا مختصر سامان دیدیا جائے اور وہ بھی امکان کی صورت میں سنت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ کے مطابق مہر کی رقم سے خریدا جائے۔گانے بجانے اور دیگر لہو لعب سے پرہیز کیا جائے، اسکے بجائے مختصر محفل مقاصدہ کا انعقاد کیا جائے۔زنانہ مردانہ مخلوط پروگرام بالکل نہ ہوں بلکہ دونوں کے لئے جداگانہ انتظام ہو۔خواتین حجاب اور مرد حضرات حیا اور مروت کا خیال رکھیں۔بناؤ سنھگار کے ساتھ اور سجی ہوئی دلہن پر نامحرم کی نگاہیں نہ پڑیں۔نماز کا وقت آنے پر نماز کا اہتمام کیا جائے اور جو مولانا نکاح کے لئے مدعو کئے گئے ہیں اگر ممکن ہو تو انکی قیادت میں نماز جماعت قائم کی جائے۔ولیمے میں اپنی حیثیت کے مطابق مہمانوں کی دعوت کی جائے۔اور اس میں   غرباء کی شرکت کو ناپسندیدہ اور اپنے مقام ومرتبہ کے خلاف نہ سمجھا جائے۔ ایک روایت کے مطابق اس طرح کے کھانے کو شر الطعام کہا گیا ہے جس میں غریبوں کو نہ بلایا جائے۔اسکے علاوہ دعوت کی بارے میں یہ بھی تأکید کی گئی ہے کہ نیک لوگوں کو مدعو کیا جائے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نےفرمایا:’’ لَا تُصَاحِبْ إِلَّا مُؤْمِنًا، وَلَا يَأْكُلْ طَعَامَكَ إِلَّا تَقِيٌّ ‘‘۔(بحار الأنوار : 77/84/3 )
ترجمہ:دوست اور ساتھی مؤمن ہی کو بناؤ اور تمہارا کھانا بھی سوائے متقی کے اور کوئی نہ کھائے۔
نیز دوسرے مؤمنین کی آبرو کا خیال کرتے ہوئے انواع و اقسام کے کھانوں کے اہتمام سے پرہیز کیا جائے تاکہ کم وسائل والے افراد کے اندر احساس محرومی پیدا نہ ہو۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے میمونہ بنت حارث سے شادی کےموقع پر خرما کے معجون کا ولیمہ دیا تھا۔(فروع کافی، ج 5، ص 368)۔

  نکاح مہر سادگی اسراف

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین