Code : 1277 34 Hit

اسلام میں آزادی کا تصور

اللہ نے انسان کو تکوینی و فطری طور پر آزاد خلق کیا ہے تاکہ وہ اپنے اختیار و انتخاب سے درست و صحیح راستے کو چُن کر اپنی منزل اور کمال تک پہونچے اور یہی انسان کی دیگر مخلوق پر برتری و امتیاز کا معیار ہے۔اگرچہ اللہ نے اشرف المخلوقات(انسان) کو انتخاب و اختیار کا پورا حق دیا ہے اور یہ بات بھی حق ہے کہ انسان کا اختیار و انتخاب الہی توفیقات کے سائے میں ہی ثمر بخش ہوتا ہے لیکن چاہت انسان کی اختیاری چیز ہے اور یہ اس کی فطرت کا تقاضہ ہے البتہ یہ چاہت ہی سبب بنتی ہے کہ انسان درست و صحیح راستہ کا انتخاب کرکے اللہ کی طرف سے ملنے والے اجر عظیم کا مستحق قرار پائے اور اگر راستے کا انتخاب درست نہیں کیا تو اسے الہی گرفت کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔

ولایت پورٹل: ہر چیز کو اپنی بقا و استمرار کے لئے کچھ بنیادی چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے مثال کے طور پر درخت کو رشد و نمو کے لئے مناسب مٹی، ہوا، پانی اور نور کے ساتھ ساتھ ایک اچھے مالی و باغبان کی بھی ضرورت پڑتی ہے اب اگر درخت کے رشد و نمو کرنے کے اسباب کو قطع کردیا جائے یا باغبان کو اس کی صحیح دیکھ بھال کرنے سے روک دیا جائے تو وہ رشد نہیں کرسکتا اور کچھ دنوں میں اس کے پتے و پھول مرجھانے لگیں گے۔
چونکہ آدمی میں  روحانی پہلو زیادہ قوی ہوتا ہے یہ مسئلہ بہت حساس ہے اسے پانی غذا اور ہوا کے علاوہ آزادی کی بھی سخت ضرورت پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے انسان کی آزادی کو خاص اہمیت دی ہے۔ اور اس باب میں اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ آدم(ع) کی اولاد حر و آزاد پیدا ہوئی ہے اور پیدائشی طور پر اس کی گردن میں کسی کی بھی غلامی کا طوق نہیں ہے چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) کا ارشاد گرامی ہے:’’ ایها النَّاسُ انَّ آدَمَ لَمْ یلِدْ عَبْداً وَ لاامَةً وَ انَّ النَّاسَ کلَّهُمْ احْرارٌ‘‘۔(۱)
اے لوگو! حضرت آدم(ع) نے نہ کوئی غلام پیدا کیا اور نہ کنیز اور بے شک تمام کے تمام انسان آزاد خلق ہوئے ہیں۔
پس جس طرح اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ کوئی انسان انسان کا غلام بنے اسی طرح اسلام انسان کو یہ بھی اجازت نہیں دیتا کہ انسان خود اپنی خواہشات ہی کا اسیر بن جائے اور کچھ غیر صحیح آداب و رسومات کی سلاسل میں خود کو گرفتار کرلے یہی وجہ ہے کہ اسلام کی نظر میں ہر وہ چیز بُری ہے جو انسان کو اپنے پنجوں میں جکڑ لیتی جیسا کہ حرص ،طمع و لالچ چونکہ جس انسان پر لالچ غالب آجاتا ہے وہ دنیا کا غلام بن جاتا ہے۔چنانچہ اسی حساس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے امیرالمؤمنین(ع) نے لالچ و طمع کو غلامی سے تعبیر فرمایا ہے:’’لا یسْتَرِقَنَّک الطَّمَعُ وَ قَدْ جَعَلَک اللَّهُ حُرّاً‘‘۔(۲)
ہوشیار رہو! کہ لالچ تمہیں غلامی و اسیری کی زنجیروں میں نہ جکڑ دے جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد بنایا ہے۔
کسی انسان کا دوسروں سے  کوئی بے جا توقع۔اگرچہ محدود سطح پر ہی کیوں نہ ہو۔ ایک طرح کا تملق،چاپلوسی،غلامی و بردگی ایجاد کرتا ہے لہذا اسلام نے دوسروں کی تملق و چاپلوسی سے ایک مسلمان کو منع کیا ہے چنانچہ امیرالمؤمنین کا ارشاد گرامی ہے:’’ایاک وَ الْمَلَقَ فَانَّ الْمَلَقَ لَیسَ مِنْ خَلائِقِ الْایمانِ‘‘۔(۳)
دوسروں کی چاپلوسی سے بچو چونکہ چاپلوسی با ایمان لوگوں کا شیوہ نہیں ہے۔
بہر حال دین اسلام غیر خدا کی بندگی کے علاوہ ہر طرح کے وابستگی کو غلامی تصور کرتا ہے اور اس سے روکتا ہے امیرالمؤمنین(ع) ارشاد فرماتے ہیں:’’لا تَکنْ عَبْدَ غَیرِک وَ قَدْ جَعَلَک اللَّهُ حُرّاً‘‘۔(۴)
اپنے غیر کے غلام مت بنو جبکہ اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے۔
فطری آزادی
اللہ نے انسان کو تکوینی و فطری طور پر آزاد خلق کیا ہے تاکہ وہ اپنے اختیار و انتخاب سے درست و صحیح راستے کو چُن کر اپنی منزل اور کمال تک پہونچے اور یہی انسان کی دیگر مخلوق پر برتری و امتیاز کا معیار ہے۔
اگرچہ اللہ نے اشرف المخلوقات(انسان) کو انتخاب و اختیار کا پورا حق دیا ہے اور یہ بات بھی حق ہے کہ انسان کا اختیار و انتخاب الہی توفیقات کے سائے میں ہی ثمر بخش ہوتا ہے لیکن چاہت انسان کی اختیاری چیز ہے اور یہ اس کی فطرت کا تقاضہ ہے البتہ یہ چاہت ہی سبب بنتی ہے کہ انسان درست و صحیح راستہ کا انتخاب کرکے اللہ کی طرف سے ملنے والے اجر عظیم کا مستحق قرار پائے اور اگر راستے کا انتخاب درست نہیں کیا تو اسے الہی گرفت کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔
اجتماعی آزادی
جس طرح فطری اور تکوینی آزادی اللہ نے انسان کو عطا کی ہے اسی طرح اجتماعی آزادی بھی انسان کا مسلم حق ہے اور اس بارے میں کسی دانشور یا عالم کی رائے مختلف نہیں ہے لیکن اس باب میں جو چیز قابل بحث و گفتگو ہے وہ یہ ہے کہ اجتماعی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ اور یہی وہ سوال ہے جس کے جواب علماء و دانشور مختلف انداز سے دیتے ہیں۔کچھ نے اجتماعی آزادی کو ایک محدود دائرے میں دیکھنے کی کوشش کی ہے تو کچھ نے اس کا وسیع و عریض مفہوم بیان کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ بات بھی یقینی ہے کہ تمام دانشوروں نے انسان کی مطلق اجتماعی آزادی کو قبول نہیں کیا ہے اور ہر ایک نے کچھ خاص شرائط و ضوابط کے تحت اس آزادی کے دائرے کو بیان کیا ہے۔
آزادی کے باب میں وسواسی نظریات کا سرچشمہ
معنیٰ ہمیشہ لفظ کا محتاج ہوتا ہے جیسا لفظ ہوگا اس سے ویسا ہی معنٰی سمجھا جاتا ہے اب اگر الفاظ کی تحقیق کی جائے تو ان کی متعدد اقسام اہل لغت بیان کرتے ہیں۔لیکن ہم الفاظ کی تمام اقسام پر تو گفتگو نہیں کرسکتے لیکن آزادی کے باب میں یہ چیز سب سے پہلے سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی یا اس جیسے دیگر الفاظ کے معنٰی کیسے مشخص اور معین ہوتے ہیں۔
الفاظ کی تمام اقسام کو چھوڑتے ہوئے ہم صرف دو اقسام کے بیان کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں۔
۱۔کچھ الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کا مفہوم عینیت رکھتا ہے یعنی خارج میں وہ اشیاء پائی جاتی ہیں جنہیں الفاظ بیان کرتے ہیں جیسا کہ: پانی،مٹی،آسمان،ہاتھ پیر وغیرہ۔یہ ایسے مفاھیم ہیں کہ جنہیں خارج میں مشاہدہ کرکے تصدیق کرنا آسان ہوتی ہے۔
۲۔لیکن کچھ الفاظ حقیقی و واقعی معنٰی پر دلالت نہیں کرتے بلکہ ایک انتزاعی مفہوم کو پہونچاتے ہیں یعنی ان کے مصادیق ذہن میں ہوتے ہیں لہذا ان کا سمجھنا تھوڑا دشوار ہوتا ہے چونکہ ہر ایک کے ذہن میں ان سب کا ایک خاص تصور پایا جاتا ہے جبکہ دوسرا انسان ان الفاظ سے کچھ اور مراد لیتا ہے۔جیسا کہ انسانی حقوق،تمدن،دہشتگردی،امن،آزادی وغیرہ۔یہ ایسے الفاظ ہیں کہ ان کا تصور ہر ایک کے ذہن میں الگ ہوتا ہے۔اب کس شخص کو انسانی حقوق کا پاسبان کہنا ہے؟دہشتگردی کس چیز کا نام ہے؟ آزادی کسے کہتے ہیں؟
یہ وہ دلفریب الفاظ ہوتے ہیں کہ الفاظ کے بازی گر ہمیشہ ان کا استعمال کرکے عوام کو بیوقوف بناتے ہیں اور خاص طور پر سیاست کی دنیا میں تو یہ الفاظ سونے سے بھی زیادہ قیمت پر فروخت ہوتے ہیں۔کیا آپ نے ملاحظہ نہیں کیا کہ جب افغانستان میں سویت یونین کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے محاذ آرائی کی تو انہوں نے وہابی فکر کا استعمال کرکے بنام اسلام پاکستان میں کچھ مجاہدین کو تیار کیا۔انہیں سعودی عرب سے فکری و مالی حمایت ملی تاکہ ان کے جذبات کا سہارا لیکر افغانستان سے سویت یونین کے قبضہ کا خاتمہ کردیا جائے۔چنانچہ ہوا بھی ایسے ہی جب تک یہ لوگ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مفاد کے لئے کام کرتے رہے تو انہیں مجاہد کہا گیا لیکن جب یہ لوگ بے لگام ہونے لگے اور خود امریکی منافع کے لئے خطرہ بننے لگے تو اب ان پر دہشتگردی کا ٹائیٹل و عنوان چپکا دیا گیا۔
اب آپ ان لوگوں سے دریافت کیجئے کہ جنہوں نے اسلام کی حمایت کے جھانسے میں آکر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے کام کیا کہ اب تم میدان چھوڑ دو! مزاحمت مت کرو! کیونکہ تم لوگ دہشتگرد ہو۔ تو کیا وہ لوگ اپنے کو دہشتگرد تسلیم کریں گے؟ نہیں! بلکہ وہ تو آج بھی اسی طرح اپنا کام کررہے ہیں کہ جس مقصد کے لئے انہیں تیار کیا گیا تھا اور وہ اپنے کو قطعاً دہشتگرد نہیں مانتے بلکہ اپنے کو اسلام کا سچا مجاہد و مبلغ مانتے ہیں۔
اسی طرح یہ لفظ آزادی بھی ہے جب سیاست یا اجتماعیات کی دنیا میں اس کا نام لیا جاتا ہے تو ہر ایک اسے اپنے حساب سے سوچتا ہے۔
انشاء اللہ ہم اپنے اگلے مضمون میں اس کی مزید وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] نهج السعاده- جلد 1- صفحه 198.
[2] غرر الحكم.
[3] غرر الحكم.
[4] بحار الانوار- جلد 77- صفحه 214.


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम