Code : 1795 9 Hit

بحرین کے بادشاہ کے القاعدہ اور ایرانی دہشتگرد تنظیم الفرقان کے ساتھ قریبی تعلقات کا انکشاف

قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ نے تازہ ترین اسناد اور شواہد نشر کئے ہیں جن میں بحرین کے بادشاہ کے القاعدہ اور ایران کے اندر ایک دہشت گرد گروہ کے ساتھ قریبی تعاون کا پردہ فاش کیا گيا ہے۔

ولایت پورٹل:قطر کے ٹی وی چینل الجزیرہ نے تازہ ترین اسناد اور شواہد منتشر کئے ہیں جن میں بحرین کے بادشاہ کے القاعدہ اور ایران کے اندر ایک دہشت گرد گروہ کے ساتھ تعاون کا پردہ فاش کیا گيا ہے،اطلاعات کے مطابق بحرین کی خفیہ ایجنسی نے 2003 میں القاعدہ کے ساتھ ملکر بحرین میں حکومت مخالفین کو قتل کرنے کامنصوبہ بنایا اور اس منصوبے میں بحرین کے بادشاہ احمد بن عیسی  کے براہ راست حکم سے بحرین کے تین اعلی اہلکار بھی شریک ہوئے،بحرینی حکومت نے مخالفین کو قتل کرانے کی ایک فہرست آمادہ کی، جس میں مخالف رہنما عبد الوہاب حسین کانام بھی شامل تھا، رپورٹ کے مطابق بحرینی بادشاہ نے اس سلسلے میں سعودی عرب کے بادشاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بحرینی حکومت کےمخالفین کو قتل کرنے کے سلسلے میں تشکیل دی جانے والی ٹیم کی سرپرستی کے لئے القاعدہ کے رہنما محمد صالح کو آزاد کرے، جو اس وقت سعودی عرب کی قید میں تھا، بحرینی بادشاہ نے ایران میں سرگرم دہشت گرد ٹیم الفرقان کی بھی بھر پور حمایت کی اور اس سلسلے میں 2003 میں ہشام البلوچی کو ایران کے اندر دہشت گردی اور جاسوسی کے لئے انتخاب کیا ، جبکہ ایرانی سکیورٹی فورس نے الفرقان دہشت گرد تنظیم کے رہنما ہشام البلوچی کو2015 میں ایک کاروائی کے دوران ہلاک کردیا ، الجزیرہ نے اپنے پروگرام میں البلوچی کو یہ کہتے ہوئے دکھایا ہے کہ بحرینی بادشاہ نے اسے 2003 میں ایران کے اندر دہشت گردانہ کاروائیوں اور جاسوسی کے لئے انتخاب کیا ، ابھی تک بحرینی حکومت اور بادشاہ نے الجزیرہ سے نشر ہونے والی اس دستاویزی فلم  کی تردید یا تائید کے بارے میں کوئی بیان صادر نہیں کیا، ذرائع کے مطابق بحرین کی ایران کے ساتھ خصومت اور عداوت کا سلسلہ جاری ہے اور بحرین ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکہ، اسرائیل اور سعودی عرب کے ساتھ بھی قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
مہر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम