Code : 2346 112 Hit

امام رضا(ع) کی حدیث کی روشنی میں حقیقی مؤمن کے خصوصیات

امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:مؤمن اس وقت تک حقیقی معنیٰ میں مؤمن نہیں بن سکتا جب تک اس میں یہ 3 خصلتیں اور صفات پیدا نہ ہوجائیں۔1۔اپنے پروردگار کی سنت پر عمل پیرا ہونا۔2۔ اپنے رسول کی سنت پر عمل کرنا۔3۔ اپنے ولی و امام کی سنت کا اتباع کرنا۔ پس اس کے رب کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے اسرار اور رازوں کو چھپائے اور ان سے کسی کو آگاہ نہ کرے۔ اور اپنے رسول کی سنت کا اتباع یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور بھلائی سے پیش آئے اور اپنے ولی و امام کی سنت کا اتباع یہ ہے کہ تنگدستی اور پریشانی کے زمانے میں بھی صبر کا مظاہرہ کرے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! شہنشاہ خراسان، عالم آل محمد حضرت علی ابن موسیٰ الرضا علیہ الاف التحیۃ و السلام کی دردناک شہادت کے ایام ہیں لہذا ہمیں امام علیہ السلام کے فرامین کو صرف سننے سنانے اور بیان کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ہمیں ان گہربار کلمات کو سن کر انہیں اپنے وجود میں اتار کر وہ نورانیت حاصل کرنی چاہیئے جو ہمارے آئمہ(ع) کو ہم سے مطلوب ہے چنانچہ ہم نے امام رضا علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے آپ کے کلمات گہربار میں سے ایک حدیث کا انتخاب کیا ہے جس میں آپ نے ارشاد فرمایا:’’لا یَکُونُ الْمُؤْمِنُ مُؤْمِنًا حَتّی تَکُونَ فیهِ ثَلاثُ خِصال:1 سُنَّةٌ مِنْ رَبِّهِ. 2 وَ سُنَّةٌ مِنْ نَبِیِّهِ. 3 وَ سُنَّةٌ مِنْ وَلِیِّهِ. فَأَمَّا السُّنَّةُ مِنْ رَبِّهِ فَکِتْمانُ سِرِّهِ. وَ أَمَّا السُّنَّةُ مِنْ نَبِیِّهِ فَمُداراةُ النّاسِ. وَ أَمَّا السُّنَّةُ مِنْ وَلِیِّهِ فَالصَّبْرُ فِی الْبَأْساءِ وَ الضَّرّاءِ‘‘۔(1)
مؤمن اس وقت تک حقیقی معنیٰ میں مؤمن نہیں بن سکتا جب تک اس میں یہ 3 خصلتیں اور صفات پیدا نہ ہوجائیں۔1۔اپنے پروردگار کی سنت پر عمل پیرا ہونا۔2۔ اپنے رسول کی سنت پر عمل کرنا۔3۔ اپنے ولی و امام کی سنت کا اتباع کرنا۔ پس اس کے رب کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے اسرار اور رازوں کو چھپائے اور ان سے کسی کو آگاہ نہ کرے۔ اور اپنے رسول کی سنت کا اتباع یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور بھلائی سے پیش آئے اور اپنے ولی و امام کی سنت کا اتباع یہ ہے کہ تنگدستی اور پریشانی کے زمانے میں بھی صبر کا مظاہرہ کرے۔
حدیث کی شرح و تفسیر:
اسرار کو چھپانا اللہ کی سنت
سر یعنی راز، اس چیز کو کہتے ہیں جو انسان کے دل میں مخفی ہو اور جیسے مخفی رہنا چاہیئے یا صرف خاص افراد کو ہی بتلائی جائے۔لہذا اپنے اسرار اور رازوں کو کیسے مخفی رکھنا ہے مؤمن کو یہ اللہ سے سیکھنا چاہیئے چونکہ اللہ تعالیٰ ہر کسی سے پہلے اور ہر کسی سے زیادہ اپنے بندوں کے حالات،عیوب اور گناہوں سے باخبر و آگاہ ہے۔لیکن اس کا حلم اس کی بردباری، رازداری اور پردہ پوشی سب سے زیادہ و بڑھ کر ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:’’عَالِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلَى غَیْبِهِ أَحَدًا‘‘۔(2) وہ عالم الغیب ہے اور اپنے غیب پر کسی کو بھی مطلع نہیں کرتا۔
اللہ تعالیٰ تمام اسرار سے آگاہ اور تمام حوادث پر مطلع ہے لیکن ان سب کے باوجود کوئی بھی اس کے اسرار غیبی سے آگاہ نہیں ہے ،اللہ اپنے بندوں کے رازوں کو چھپاتا ہے اور اسی وجہ سے وہ رازداری پر تأکید بھی کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امیر علیہ السلام کا ارشاد ہے:’’مَن ضَعُفَ عَنْ حِفْظِ سِرِّهِ لَم یَقْوَ لِسِّرِ غَیرهِ‘‘۔(3)۔جو شخص اپنے راز اور اسرار کو چھپانے میں کمزور و ناتواں ہو وہ ہرگز دوسروں کے راز چھپانے پر قادر نہیں ہوسکتا۔
اور اس حدیث کے مفہوم سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جو شخص اپنے اسرار کی پردہ پوشی میں کمزور ہے یا بے توجہ ہے اسے ہرگز یہ توقع نہیں رکھنا چاہیئے کہ دوسرے لوگ اس کے اسرار کی حفاظت کرسکیں گے چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے:’’لَم یَخُنْکَ الْاَمینُ و لکِن اِئْتَمَدْتَ الخائنَ‘‘۔(4) امین تمہارے ساتھ خیانت نہیں کرے گا لیکن اگر تم نے خائن کے سپرد اپنی امنت کی ہو(تو پھر کوئی ضمانت نہیں ہے)۔
لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا نبی کی سنت
مؤمنین کے ساتھ مودت اور لوگوں کے ساتھ خوش خلقی و نرمی سے پیش آنا اسلام کی ایک سنت حسنہ ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ مختلف حالات میں لوگوں سے کچھ لغزیشیں ہوجائیں لہذا ایسے حالات کے پیش نظر لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آنا چاہیئے اور ہرگز سختی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔اور اگر ہم نے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی لغزشوں کو نظرانداز نہ کیا اور ان سے باز پرس کرنے پر اصرار کیا  تو یہ ایک اخلاق کے منافی عمل کہلائے گا۔چونکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کی سنت اور کردار یہ تھا کہ آپ منافقین اور اپنے سر سخت دشمنوں کے ساتھ بھی نرمی سے پیش آتے تھے اور سامنے والوں کو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آپ ان کے متعلق کچھ  بھی نہیں جانتے ہیں اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ افراد جھوٹ بول رہے ہیں پھر بھی آپ ان کے ظاہر کلام پر اکتفاء کرتے تھے ۔(5)
اگر روائی منابع کا مطالعہ کیا جائے تو اس مرحلہ میں بہت سی احادیث انسان کے لئے رہنما اصول کے طور پر سامنے آتی ہیں از جملہ یہ کہ رسول اللہ(ص) لوگوں سے نرمی برتنے اور خوش روئی سے پیش آنے کو اپنے لئے اللہ کا فرمان سمجھتے تھے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’أَمَرَنى رَبّى بِمُداراةِ النّاسِ كَما أَمَرَنى بِأَداءِ الفَرائِضِ‘‘۔(6) مجھے میرے پروردگار نے جس طرح فرائض اور واجبات کو انجام دینے پر مکلف بنایا ہے ویسے مجھ پر ہی لوگوں کے ساتھ نرمی برتنے اور بردباری سے پیش آنے کو واجب کیا ہے۔
ایک دوسری حدیث میں سرکار ختمی مرتبت لوگوں کے ساتھ مدارہ کرنے والے کو زمانے کے سب سے عقل مند انسان کے طور پر تعارف کرواتے ہیں:’’أعقَلُ الناسِ أشَدُّهُم مُداراةً للناسِ‘‘۔(7) لوگوں میں سب سے عقل مند انسان وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئے۔
بہر کیف رسول اسلام(ص) اور آئمہ معصومین(ع) لوگوں سے اسی خصلت کی بنیاد پر پیش آتے تھے اور درحقیقت یہی ان کے کام کی اصل و اساس تھی اور اگر ان کے پاس یہ اصول نہ ہوتا تو وہ لوگوں کے ساتھ ایک دن بھی زندگی بسر نہیں کرسکتے تھے چونکہ کسی بھی زمانے کے لوگ ایک جیسے،ہم رتبہ اور ہم سطح نہیں ہوتے بلکہ ان کی ثقافتیں،اخلاقیات، عادات و اطوار مختلف ہوتے ہیں، ایک بہت جلد غصہ ہوجاتا ہے تو دوسرا تند خو اور عجلت پسند ہے، تیسرے میں صبر و تحمل نام کی کوئی شئی نہیں پائی جاتی وغیرہ وغیرہ ،اور اگر دینی رہبروں میں کہ جن کا ہر آن دوسرے لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا  یہ صفت اور خصلت یعنی نرمی اور لوگوں کے ساتھ خوش روئی سے پیش آنا نہ ہوتی تو  انہیں کبھی اپنے مقاصد میں کبھی کامیابی نہ ملتی اور وہ کبھی میدان میں قائم و ثابت قدم نہ رہ پاتے۔(8)
اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ(ص) نے لوگوں پر انبیاء کی برتری و فضیلت کا ایک پہلو لوگوں کے ساتھ نرمی اور خوش خلقی سے پیش آنے کو قرار دیا ہے:’’إِنَّ الانبیاءَ إِنَّما فَضَّلَهُمُ اللّه عَلى خَلقِهِ بِشِدَّةِ مُداراتِهِم لأَعداءِ دینِ اللّه و َحُسنِ تَقیَّتِهِم لأَجلِ إِخوانِهِم فِى اللّه‘‘۔(9)
اللہ تعالیٰ نے انبیاء(ع) کو دوسرے لوگوں پر اس وجہ سے فضیلت دی ہے کہ وہ دین خدا کے دشمنوں سے بھی نرمی کے ساتھ پیش آتے تھے  اور اپنے دینی بھائیوں کی حفاظت کی خاطر بہترین تقیہ کرتے تھے۔
تنگدستی اور پریشانی کے زمانے میں صبر کرنا امام کی سنت
اللہ تعالیٰ کے فیض اور اس کی عنایت کے حصول کا بہترین ذریعہ صبر و تحمل ہے چنانچہ یہی وہ خصلت اور صفت ہے جس کے سبب آئمہ(ع) مقام ولایت و امامت تک پہونچے ہیں چنانچہ قرآن مجید اس کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:’’وَ جَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّهً یَهْدُونَ بِأَمْرِنا لَمَّا صَبَرُوا...‘‘۔(10)
اور ہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کو امام اور پیشوا قرار دیا ہے جو ہمارے امر سے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے صبر کیا ہے۔
امام علی بن ابی طالب علیہ السلام نے صبر کے متعلق عجیب تعبیر بیان فرمائی ہے:’’الصَّبرُ فِی الامورِ بمَنزِلَةِ الرَّأسِ مِنَ الجَسَدِ، فإذا فارَقَ الرَّأسُ الجَسَدَ فَسَدَ الجَسَدُ و إذا فارَقَ الصَّبرُ الامورَ فَسَدَتِ الامورُ‘‘۔
جملہ امور میں صبر کا مقام وہی ہے جو پورے بدن میں سر کا ہوتا ہے، اگر سر بدن سے جدا ہوجائے تو بدن خراب ہوجاتا ہے اسی طرح اگر صبر زندگی کے امور سے نکال دیا جائے تو تمام امور تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔
منقول ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ(ص) نے جبرئیل امین  سے صبر کے معنٰی و تفسیر دریافت فرمائے، جبرییل نے عرض کیا:’’تَصبِرُ فی الضَّرّاءِ كما تَصبِرُ فی السَّرّاءِ و فی الفاقَةِ كما تَصبِرُ فی الغَناءِ و فی البَلاءِ كما تَصبِرُ فی العافیَةِ، فلا یَشكُو حالَهُ عندَ المَخلوقِ بما یُصِیبُهُ مِن البَلاءِ‘‘۔(11)۔ آپ سختیوں میں ویسے ہی تحمل کیجئے جس طرح آپ آسانیوں میں صبر کرتے ہیں،تنگدستی میں بھی ویسے ہی صابر رہیئے جس طرح سازگار حالات میں صبر کرتے ہیں،بیماری میں ویسے ہی صبر کیجئے جس طرح عافیت و تندرستی کے زمانے میں صبر کرتے ہیں چنانچہ حقیقی صابر وہ ہے جو طرح طرح کی بلاؤں میں گرفتار رہنے کے باوجود بھی مخلوق کے سامنے حالات کی ناسازگاری کا شکوہ نہ کرے۔
پیغمبر اکرم(ص) نے ایک حدیث میں فقر،مصیبت اور درد کو چھپانے کو بہشت کا خزانہ قرار دیا ہے کہ اگر کسی کو یہ توفیق نصیب ہوجائے تو اس کے پاس خدائی سنت کا اتباع( یعنی راز داری اور اسرار کو چھپانا) اور امام کی خصلت یعنی صبر دونوں ایک ساتھ ہونگے۔
ارشاد فرمایا:’’أربعٌ مِن كُنوزِ الجنّةِ: كِتْمانُ الفاقةِ و كِتْمانُ الصَّدقَةِ و كِتْمانُ المُصیبَةِ و كِتْمانُ الوَجَعِ‘‘۔ (12) چار چیزیں بہشت کا خزانہ ہیں، اپنے فقر و تنگدستی کو چھپانا،صدقہ کو چھپا کر دینا، مصیبت کو چھپانا،اور اپنے درد کو چھپانا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حوالہ جات:
1-کافی، ج 2، ص 241؛ امالی صدوق، ج 1، ص 339؛ عیون اخبارالاخبار، ج 1، ص 256؛ معانی الاخبار، ص 184؛ تحف العقول، ص 312 و 442؛ چنان که در منابع دسته دوم؛ مانند مشکاة الانوار، ص 85؛ کشف الغمة، ج 2، ص 292؛ روضة الواعظین، ج 2، ص 432؛ التمحیص، ص 67؛ و... نیز آمده است
2-جن، 26۔
3-غرر الحكم: 8941۔
4-تهذیب الأحكام: 7/ 232/ 1013۔
5-توبه: 6۔
6-كافى (ط-الاسلامیه) ج 2، ص 117، ح 4۔
7-میزان الحكمه، ج ، 493، حدیث: 7563۔
8-فرازهای برجسته از سیره امامان شیعه (ع) جلد دوم، محمد تقی عبدوس و محمد محمدی اشتهاردی۔
9-بحارالأنوار (ط-بیروت) ج 72، ص 401، ح 42۔
10-سجده:24۔
11-میزان الحكمه، ج 6  156، حدیث 1024۔
12- میزان الحكمه، ج 2  299 ، حدیث 2808۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम