Code : 3029 14 Hit

امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ بھی ہماری جنگ کا حصہ ہے:سید حسن نصراللہ

سید حسن نصرللہ نے کہا کہ ہمارے کمانڈوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے سرحدوں سے باہر نکل کراپنی ذمہ داری کا احساس کیا اور اس کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگادی جس کی وجہ سے ہماری تحریک میں جان آگئی نیز ان ہستیوں نےانسانی،دینی،اخلاقی اور جہادی اقدار کو مجسم بنا کر پیش کیا ہے۔

ولایت پورٹل:المنار نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصراللہ  نے مزاحمتی تحریک کے شہداءشهید راغب حرب ،شهید سید عباس موسوی ،شهید حاج عماد مغنیه کی یاد میں اور شہید جنرل قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی الہندس کے چہلم کی مناسبت سے تقریر کی۔
سید حسن نصراللہ نے اپنی تقریر کے آغاز میں مزاحمتی تحریک کے شہدا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں آج کی تقریر میں خطہ کی صورتحال نیز لبنان کے اندرونی حالات پرگفتگو کروں گا۔
انھوں نے ایرانی قوم کی استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت  کی وجہ سے آج ایران کا اسلامی انقلاب  تمام تر جنگوں اور محاصروں کے باوجود ترقی کی منزل کی طرف رواں دواں ہے،ہم اس عظیم انقلاب کی اکتالیسیویں سالگرہ کے موقع پررہبر معظم اور ایرانی قوم کی خدمت میں مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
سید حسن نصراللہ نے بحرین کے قیام کی نویں سالگرہ کی مناسبت سے بحرینی عوام اور ان کے رہبر آیت اللہ شیع عیسی قاسم  کی خدمت میں بھی  مبارکباد پیش کی۔
سید حسن نصرللہ نے کہا کہ ہمارے کمانڈوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے سرحدوں سے باہر نکل کراپنی ذمہ داری کا احساس کیا اور اس کے لیے اپنی جانوں کی بازی لگادی جس کی وجہ سے ہماری تحریک میں جان آگئی نیز ان ہستیوں نےانسانی،دینی،اخلاقی اور جہادی اقدار کو مجسم بنا کر پیش کیا ہے۔
تحریک  کے آغاز میں شہیدراغب حرب کے خون نے اس تحریک کو نئے مرحلہ میں داخل کیا اس کے بعد شیخ عباس الموسوی اور حاج عماد کےسلسلہ میں بھی یہی بات صدق کرتی ہے۔
حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے شہید قاسم سلیمانی  کا تذکرہ کرتے ہوئے  کہا کہ جنرل سلیمانی ایک مجاہد اور عارف کمانڈر تھے،جب ہم ان کا وصیت نامہ پڑھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے  کہ  وہ ایک عارف اور مجاہد کمانڈر تھے جن کا ہم وغم اپنا ملک اور قوم تھی،خدا وند عالم  نے انھیں دنیا میں جہاد اور شہادت اور آخرت میں بھی انھیں عزت عطا کرتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ آج شہید قاسم سلیمانی کی شہادت نے مزاحمتی تحریک اور اسلامی جمہوریہ کو نئے مرحلہ میں داخل کردیا ہے جو نہایت ہی حساس اور فیصلہ کن  ہے۔
سید حس نصراللہ نے اپنی تقریر میں آگے چل کر متعدد مسائل پر روشنی ڈالی جن میں سے کچھ اہم اس طرح ہیں:
بحرین
بحرینی قوم آج اسلامی امت کے درمیان اپنے ملک کے مقام کوواپس لانے کے لیے لڑرہے ہیں  اس لیے کہ ان کے حکمرانوں نےصیہونیوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور صدی ڈیل کا مرکز بنا دیا ہے۔
فلسطین
فلسطین کی عوام اپنے جائز حقوق کو حاصل کرنے کے لیے سڑکوں پر آئے ہیں اور اس کے لیے انھوں نےبے شمار قربانیاں دی ہیں نیز جیل کی صعوبتیں برداشت کی ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔
خطہ میں ٹرمپ کے دو بڑے جرائم
ٹرمپ نے خطہ میں دو بڑے جرائم انجام دیے ہیں؛ایک جنرل قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المہندس جیسے کماندروں کو شہید کرنا اور دوسرے صدی ڈیل۔
امریکہ نے مسئلۂ کو ختم کرنے کے لیےصدی ڈیل کا منصوبہ مسلط کیا ہے۔
یادرہے کہ امریکہ نے اس سے پہلے بھی کئی منصوبے پیش کیے ہیں لیکن سب ناکام ہوئے ہیں  اس لیے کہ دیگر ممالک اور قوموں نے ان کا مقابلہ کیا ہے۔
فلسطینیوں کے درمیان کوئی نہیں ہے جوکسی ایسے منصوبے کو قبول کرے جس میں مسئلۂ فلسطین اور قدس شریف کا ذکر نہ ہو۔
ٹرمپ کے منصوبے کے خلاف لبنانی قوم کا موقف
ہم ٹرمپ کے مسلط کردہ منصوبے کو رد کرنے میں لبنانی عوام  کے اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
یمن
امریکہ یمن میں جاری جنگ کی حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ جارح اتحاد کو اسلحہ فرخت کرکےاپنی معاشی حالت ٹھیک کرنا چاہتا ہے،سب کو معلوم ہے یمن کی جنگ امریکہ کی پشت پناہی میں جاری ہے۔



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम