Code : 2403 93 Hit

امام حسن عسکری(ع)کا کرم

امام ابو محمد (حسن عسکری (ع)لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،آپ(ع) غریبوں پر بہت زیادہ احسان کیا کرتے تھے ،آپ(ع)کا اپنے معین کردہ حقوق شرعیہ وصول کرنے والوں سے فقیروں محروموں اصلاح ذات البین اور اُن کے علاوہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے والوں پر انفاق کا معاہدہ تھا ۔آپ(ع) کے فیض کرم کے متعلق مورخین نے سینکڑوں واقعات تاریخ میں موجود ہے جن میں سے ایک کا مطالعہ آپ ذیل میں کریں گے!

ولایت پورٹل: امام ابو محمد (حسن عسکری (ع)لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ،آپ(ع) غریبوں پر بہت زیادہ احسان کیا کرتے تھے ،آپ(ع)کا اپنے معین کردہ حقوق شرعیہ وصول کرنے والوں سے فقیروں محروموں اصلاح ذات البین اور اُن کے علاوہ لوگوں کو فائدہ پہنچانے والوں پر انفاق کا معاہدہ تھا ۔آپ(ع) کے فیض کرم کے متعلق مورخین نے محمد بن علی بن ابراہیم بن امام مو سیٰ بن جعفر(ع) سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں:ہمارا زندگی بسر کرنا دشوار ہو گیا تو میرے والد نے کہا چلو ہم اس شخص ’’یعنی ابو محمد ‘‘کے پاس چلتے ہیں جن کی ہم نے بہت زیادہ تعریفیں سنی ہیں،میں نے اُن سے عرض کیا:کیا آپ(ع)انھیں پہچانتے ہیں؟میرے والد صاحب نے کہا: نہیں پہچانتا اور نہ ہی میں نے آج تک اُن کو دیکھا ہے لیکن اُن کا کہنا ہے:ہم چل پڑے ،راستہ میں میرے والد نے کہا :ہم کو پانچ سو درہم کی ضرورت ہے دوسو درہم لباس وغیرہ کے لئے ،دوسو درہم آٹا اور خورد و نوش کے لئے اور سو درہم اور دوسرے مخارج کے لئے۔میں نے اپنے دل میں کہا :کاش امام(ع) مجھے تین سو درہم عنایت فرما دیںتو میں سو درہم سے اپنی سواری خریدوں گا، سو درہم خرچ کروں گا اور سو درہم سے لباس وغیرہ مہیاکروں گا۔جب ہم پہاڑ سے گذر کر امام(ع) کے دروازے پر پہنچے تو گھر سے ایک بچہ نے نکل کر کہا :علی بن ابراہیم اور اُن کے بیٹے کو اندر بلا لو جب ہم نے اندر جاکر سلام کیا تو اُس بچہ نے میرے والد سے کہا:’’اے علی! تم نے اتنی دیر کیوں لگائی؟‘‘
اے میرے سید و آقا میں آپ سے ملاقات کرنے میں شرم محسوس کر رہاتھا۔
امام میرے اور میرے بیٹے کے پاس کچھ دیر ٹھہرے اور پھر ہم دونوں کو خدا حافظ کہہ کر چلے گئے کچھ دیر کے بعد امام (ع) کا غلام آیا اُس نے علی بن ابراہیم کو پانچ سو درہم کی تھیلی دیتے ہوئے کہا:یہ دو سو درہم لباس ،دو سو درہم آٹا وغیرہ اور سو درہم خرچ کے لئے ہیں اور مجھ کو تین سو درہم کی تھیلی دیتے ہوئے کہا:سودرہم سواری ،سو درہم لباس اور سو درہم خرچ کے لئے ہیں ۔اور اب پہاڑ کی طرف سے نہ جانا ،محمد نے امام (ع)کے حکم کے مطابق سوراء کی طرف سے راستہ طے کیا اور اس کے تمام امور اچھے طریقے سے انجام پائے ،اور اس کا دولت مندوں میں شمار ہونے لگا۔
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम