Code : 3108 45 Hit

ماہ رجب کی برکتیں

بہت سے مہینے اس وجہ سے کہ ان میں کچھ اہم اور پُر برکت اتفاقات اور حوادث رونما ہوئے ہیں ، کی اہمیت اور قدر و قیمت دیگر مہینوں کی نسبت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ انہیں پُر برکت مہینوں میں سے ایک رجب کا مہینہ ہے چنانچہ قرآن مجید کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں اس مہینہ کی عظمت اور فضیلت کو سمجھا جاسکتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ! بہت سے مہینے اس وجہ سے کہ ان میں کچھ اہم  اور پُر برکت اتفاقات اور حوادث رونما ہوئے ہیں ، کی اہمیت اور قدر و قیمت دیگر مہینوں کی نسبت بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ انہیں پُر برکت مہینوں میں سے ایک رجب کا مہینہ  ہے چنانچہ قرآن مجید کی آیات اور معصومین علیہم السلام کی احادیث کی روشنی میں اس مہینہ کی عظمت اور فضیلت کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِی كِتابِ اللَّهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضَ....‘‘ ۔
اللہ تعالیٰ نے رجب کو دیگر حرمت والے مہینوں ، ذی القعدہ، ذی الحجہ اور محرم کے ساتھ  ایک صف میں اور اس کے احترام و تقدس کے سبب اس میں جنگ و جدال کرنے کو  حرام قرار دیا ہے ۔ ان مہینوں میں جنگ کو حرام قرار دیا جانا درحقیقت طویل المدتی جنگوں کو روکنا اور لوگوں کو صلح کی دعوت دینا ہے چونکہ جب جنگ کرنے والے لوگ ان مہینوں میں اپنی خون آلود تلواروں کو نیام میں رکھ لیتے ہیں اور انہیں غور و فکر کرنے کا  موقع ملتا ہے تو ایسے میں جنگ کا ختم ہوجانا ایک ممکن امر ہے اور یہ خود اسلام کی صلح طلبی کی ایک عظیم نشانی ہے۔
قارئین کرام ! جب سے اللہ تعالیٰ نے اس منظومہ شمسی کو موجودہ شکل میں خلق کیا ہے اور جب سے دن، مہینے اور سال خلق ہوئے ہیں۔ سال یعنی سورج کے اطراف میں زمین کا پورا ایک چکر ، اور اسی طرح مہینہ یعنی چاند کا زمین کے اطراف میں مکمل ایک چکر لگانا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مہتاب (چاند ) پورے سال میں زمین کے ۱۲ چکر مکمل کرتا ہے۔
یہ ایک طبیعی تقویم اور غیر قابل تغیر حقیقت ہے کہ جس سے ہر انسان کی زندگی میں طبیعی نظم پیدا ہوتا ہے اور جو انسان کے حق میں اللہ کی ایک نعمت محسوب ہوتی ہے۔ لہذا رجب کے مہینہ میں کچھ ایسے پر برکات واقعات رونما ہوئے  ہیں کہ اللہ نے اسے(ماہ رجب ) بہت سی خصوصیات سے نوازہ ہے۔
رجب حرمت والا مہینہ
رجب کے معنی قربانی اور تعظیم کے ہیں۔ رجب قمری کلنڈر کے حساب سے سال کا ساتواں مہینہ ہے کہ جو جمادی الثانی اور شعبان کے درمیان میں واقع ہوتا ہے۔ یہ مہینہ بڑا عظمتوں اور برکتوں والا ہے چنانچہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں :’’ رجب بڑا عظیم المرتبت مہینہ ہے  کہ اس میں نیکیوں کا اجر کئی گنا ہوجاتا ہے اور انسان کے گناہ اس میں بخش دیئے جاتے ہیں جو شخص اس مہینہ میں روزہ رکھتا ہے تو جہنم کی آگ سو برس کے فاصلہ پر اس سے دور ہوجاتی ہے اور بہشت کے دروازے اس کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں۔
اسی طرح آپ سے نقل ہوا ہے کہ جنت میں رجب نام کی ایک نہر ہے کہ جس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور جو شخص اس مہینہ میں روزہ رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے پاک و شفاف پانی میں سے روزہ دار کو پلائے گا ۔
ایک حدیث میں رسول اللہ (ص) سے مروی ہے کہ :’’ آگاہ ہوجاؤ ! رجب ، اللہ کا خاموش اور عظیم مہینہ ہے اسی وجہ سے اسے ’’ اصم ‘‘ بھی کہا جاتا ہے اور کوئی بھی مہینہ حرمت و فضیلت میں اس کے برابری  نہیں کرتا۔ جاہلیت کے زمانہ میں بھی لوگ اس کا احترام کرتے تھے اور جب اسلام آیا اس کی فضیلت و عظمت میں چار چاند لگ گئے ۔ آگاہ ہوجاؤ ! کہ رجب اللہ کا ، شعبان میرا اور رمضان المبارک میری امت کا مہینہ ہے۔
ماہ رجب کی پُر برکت گھڑیاں
مفسرین نے سورہ علق کی ان آیات :’’اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِی خَلَقَ، خَلَقَ الْإِنْسانَ مِنْ عَلَقٍ....عَلَّمَ الْإِنْسانَ ما لَمْ یَعْلَم ‘‘ ۔کے ذیل میں یہ نکتہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ رسول اللہ (ص) اس مہینہ (رجب) کی ۲۷ کو مبعوث برسالت ہوئے۔اور رسول اللہ(ص) کے قلب اقدس پر نازل ہونے والی یہ ابتدائی آیات ہیں جو اسلام کے کامل و اکمل دین ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں اور جو تمام ادیان میں سب میں آخری دین ہے اور جسے اللہ نے پسند کیا ہے۔
مفسرین کے بیان کے مطابق صرف یہی ایک گھڑی پر برکت نہیں ہے بلکہ اس مہینہ میں اور بھی بُر برکت واقعات رونما ہوئے ہیں چنانچہ مفسرین این آیات :’’قَدْ نَرى‏ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّماءِ فَلَنُوَلِّیَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضاها فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ وَ حَیْثُ ما كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ... ‘‘ کے ذیل میں بیان کرتے ہیں کہ عین نماز کے عالم میں تبدیلی قبلہ کا حکم بھی رجب سن ۲ ہجری میں آیا تھا۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حدیث کی روشنی میں جب رسول اللہ(ص) نماز ظہر کی پہلی دو رکعات پڑھ چکے تو  جبریل امین نازل ہوئے اور حضرت کے بازو پکڑ کر آپ کا رُخ بیت اللہ (کعبہ معظمہ) کی طرف کردیا اور مذکورہ آیت کی تلاوت کی۔
آپ یہ تصور نہ کیجئے کہ صرف ایک مرتبہ ہی بغیر تمہید کے ایسا ہوگیا بلکہ بارہا پیغمبر اکرم (ص) کو یہودیوں کی طرف سے طعنے دیئے گئے کہ آپ کا کیسا دین ہے؟ آپ کا تو اپنا کوئی قبلہ بھی نہیں ہے آپ تو ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے عبادت کرتے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کا دین ہمارے دین سے زیادہ محکم اور افضل و برتر نہیں ہے۔
اسی طرح کچھ مفسرین اس آئیہ کریم :’’ سُبْحانَ الَّذِی أَسْرى‏ بِعَبْدِهِ لَیْلاً مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى ...‘‘ کے ذیل میں اس نظریہ پر متفق نظر آتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) کو معراج بھی اسی مہینہ میں ہوئی تھی۔
اسلامی دانشورں کے درمیان مشہور ہے کہ پیغمبر اسلام(س) جب  ابھی مکہ ہی میں تھے ۔ اللہ کی قدرت سے ۔ ایک ہی رات میں آپ مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) اور پھر وہاں سے آسمان کی سیر پر گئے اور اللہ کی عظمت کے آثار کو تمام آسمانوں میں دیکھ کر اسی شب مکہ لوٹ آئے نیز یہ بھی مشہور ہے کہ یہ سیر صرف ایک روحانی سیر نہیں تھی بلکہ آپ روح اور جسم دونوں کے ساتھ اس سفر پر تشریف لے گئے تھے۔ جکبہ مفسرین کا ایک گروہ یہ بھی نظریہ رکھتا ہے کہ حضرت کی معراج روحانی تھی یعنی ایک خواب یا مکاشفہ کی مانند تھی، کہ جو  قرآن مجید کی آیات سے  سے مطابقت نہیں کھاتا ۔
آخری بات
امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول بہت سی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ جناب نوح کی کشتی نے بھی اسی مہینہ (رجب ) کے آغاز میں اللہ کے حکم سے حرکت کی تھی چنانچہ جناب نوح (ع) نے اس دن اپنے ساتھیوں سے کہا کہ روزہ رکھیں اور فرمایا جو روزہ رکھے گا جہنم کی آگ اس سے ایک سال کی مسافت تک  دور ہوجائے گی۔ اور جو سات دن روزے رکھے گا اس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند ہوجائیں گے اور جو آٹھ دن روزہ رکھے گا بہشت کے آٹھوں دروازے اس کے لئے کھول دیئے جائیں گے اور جو پندرہ دن اس مہینہ میں روزہ رکھے گا اس کی تمام آرزوئیں پورا کردی جائیں گی اور جو اس سے زیادہ روزہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کے اجر و ثواب کو مزید بڑھا دے گا۔


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम