یورپی یونین کا تاریک مستقبل

بعض یورپی ممالک میں گزشتہ مہینوں کے پارلیمانی انتخابات دائیں بازو کی بنیاد پرست جماعتوں کے عروج کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو ایک ایسا مسئلہ جو یورپی یونین کے انتظام کو مشکل اور اس کا مستقبل غیر واضح بناتا ہے۔

ولایت پورٹل:فرانس میں اپریل کے پارلیمانی انتخابات نے ظاہر کیا کہ دائیں بازو کی جماعتیں اس ملک میں تیسری طاقت ہیں، سویڈن میں چند ہفتے قبل انتخابات کے دوران یہ جماعتیں دوسرے نمبر پر آئیں اور آج اس ملک میں انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کو فاتح قرار دیا گیا۔
واضح رہے کہ پیر کی صبح اطالوی پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے اعلان نے ظاہر کیا کہ جیسا کہ پولز نے پیش گوئی کی تھی، اطالوی ووٹرز نے نو فاشسٹ جڑوں والی پارٹی اور انتہائی دائیں بازو کے اتحاد کی طرف رجوع کیا ہے جس میں انتہائی دائیں بازو کے برادرس  آف اٹلی پارٹی کی قیادت جیورجیو میلونی کر رہے ہیں۔
 امیگریشن مخالف پارٹی لیگا نورڈ جس کی قیادت میٹیو سالوینی کر رہے ہیں اور سلویو برلسکونی کی قیادت میں فورزا اٹالیا نے اپنے ملک کی قیادت کرنے کا انتخاب کیا، انتہائی دائیں بازو کے اتحاد نے 47 فیصد ووٹ حاصل کیے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اٹلی دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنی پہلی انتہائی دائیں بازو کی قیادت والی حکومت کی طرف بڑھ رہا ہے۔
 اس کے علاوہ، جارجیا میلونی ایک پوسٹ فاشسٹ پارٹی سے پہلی خاتون سربراہ حکومت بنیں جنہوں نے یورپی یونین کے بانی ممالک میں سے ایک کی سربراہی سنبھالی، قابل ذکر ہے کہ یوکرین میں جنگ کے مسئلے سے ہٹ کر قوم پرستی پر زور دینے والی جماعتوں کا اقتدار حاصل کرنا یورپی یونین کے مستقبل اور یورپی اتحاد کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یورپی یونین کے بعض سیاست دانوں نے رائے عامہ کے ان جائزوں کے جواب میں جن میں انتہائی دائیں بازو کی پارٹی کی جیت کی پیش گوئی کی گئی تھی، ایک جمہوریت اور یورپ مخالف حکومت کے قیام کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین