Code : 936 100 Hit

اہل قبور کی زیارت کا بہترین وقت

۔اہل قبور کی زیارت کو جانے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ انسان ان سے وہ وعظ اور نصیحت حاصل کرسکتا ہے کہ جو شاید اسے کسی بڑے سے بڑے مبلغ کی تقریر سے بھی نہ مل پائے اور وہ یہ ہے کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے اور آگاہ ہوجاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ باقی نہیں رہے گی لہذا وہ اس مختصر سی دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنے میں مصروف ہوسکتا ہے اور وہاں کے لئے عمل صالح انجام دینا شروع کردیتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو آمادہ و تیار کرکے اپنے رب کی ملاقات کے لئے جائے۔چنانچہ اسی سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’زوروا القبور فانها تذكركم الاخرة‘‘۔اہل قبور کی زیارت کے لئے جاؤ چونکہ اس عمل سے تمہارے ذہن میں ذہن میں آخرت و قیامت کی یاد تازہ ہوجائے گی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! فریقین(شیعہ و سنی) کی کتابوں میں منقول روایات کی روشنی میں مرحوم مؤمنین کی قبور کی زیارت کے 3 اہم فوائد بیان ہوئے ہیں جن کی طرف ہم ذہل میں اشارہ کررہے ہیں:
1۔اہل قبور کی زیارت کو جانے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ انسان ان سے وہ وعظ اور نصیحت حاصل کرسکتا ہے کہ جو شاید اسے کسی بڑے سے بڑے مبلغ کی تقریر سے بھی نہ مل پائے اور وہ یہ ہے کہ انسان خواب غفلت سے بیدار ہوجاتا ہے اور آگاہ ہوجاتا ہے کہ دنیا ہمیشہ باقی نہیں رہے گی لہذا وہ اس مختصر سی دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنے میں مصروف ہوسکتا ہے اور وہاں کے لئے عمل صالح انجام دینا شروع کردیتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو آمادہ و تیار کرکے اپنے رب کی ملاقات کے لئے جائے۔چنانچہ اسی سلسلہ میں پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:’’زوروا القبور فانها تذكركم الاخرة‘‘۔(1)
اہل قبور کی زیارت کے لئے جاؤ چونکہ اس عمل سے تمہارے ذہن میں ذہن میں آخرت و قیامت کی یاد تازہ ہوجائے گی۔
2۔اہل قبور کی زیارت کو جانے کا دوسرا فائدہ مستقیم طور پر خود اس مرحوم مؤمن کو پہونچتا ہے جس کی زیارت کے قصد سے وہ قبرستان میں داخل ہوا ہے۔اور وہ فائدہ یہ ہے کہ جب وہ صاحب قبر کے سرہانے بیٹھ کر قرآن مجید اور سورہ فاتحہ پڑھے گا تو تو اس سے مرحوم کی مغفرت میں بہت سی رکاوٹیں دور ہوجائیں گی اور اس سے وہ خوش ہوگا چنانچہ امیرالمؤمنین(ع) کا ارشاد گرامی ہے:’’زوروا موتاكم فانهم یفرحون بزیارتكم‘‘۔(3)
اپنے مرحومین کی زیارت کرو چونکہ تمہارے اس عمل سے انہیں خوشی ملتی ہے۔
3۔زیارت کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ اہل قبر کو ملنے والے ثواب کے علاوہ خود زیارت کرنے والا بھی عظیم ثواب کا حقدار ہوجاتا ہے  کہ جس کے سبب اللہ کی رحمت و مغفرت اس کے شامل حال ہوجاتی ہے۔
چنانچہ اس سلسلہ میں امام علی رضا علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں نقل ہوا ہے:’’ من اتی قبر اخیه ثم وضع یده علی القبر و قرأ انا انزلناه فی لیلة القدر سبع مرّات امن یوم الفزغ الاكبر‘‘۔(4) جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی قبر پر ہاتھ رکھ کر 7 مرتبہ سورہ’’انا انزلناہ فی لیلة القدر‘‘ پڑھے گا اسے روز قیامت کی سختیوں سے امان الہی نصیب ہوگی۔
اہل قبور کی زیارت کا بہترین وقت
حضرات معصومین علیہم السلام سے منقول روایات کی روشنی مؤمنین اہل قبور کی زیارت کے لئے پیر اور جمعرات اور جمعہ کے دن کی خصوصی تأکید ملتی ہے اور رسول اکرم(ص) کی سنت اور اہل بیت عصمت و طہارت(ع) کی سیرت بھی اسی طریقہ پر استوار ہے۔
چنانچہ روایات کی روشنی میں اپنے مؤمنین مرحومین کی قبور کی زیارت کو جانے کے لئے جمعرات کو دن میں ظہر سے لیکر غروب آفتاب تک اور پیر اور جمعہ کی صبح میں اذان صبح سے طلوع آفتاب تک اہل قبور کی زیارت کو جانا بہت فضیلت رکھتا ہے۔
کتاب جامع الاخبار میں ایک حدیث نقل ہوئی جس میں بیان ہوا ہے کہ مردہ مؤمنین کی روحیں شب جمعہ اپنے گھروں کے اطراف میں آتی ہیں اور اپنے عزیزوں سے گڈگڈاکر ملتمسانہ یہ اظہار کرتی ہیں کہ وہ ان کے لئے کوئی کار خیر یا صدقہ نکالیں۔(4)

...................................................................................

حوالہ جات:
1۔سوره نسأ: آیت 64
2۔طرح التثریب، ص 297۔
3۔مصنف عبدالرزاق 3: 572،مستدرك حاكم،ج 1، 377، السنن الكبری 4، 131 ، تمهید شرح مولا، 3، 234 ،شفأ السقام، ص 44 و وفأ الوفأ 4، 1340۔
4۔جامع الاخبار،ص 169۔
 
 


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम