Code : 4762 48 Hit

قرآن مجید کی روشنی میں اتحاد کے فوائد و برکات

اتحاد، افراد کی کثرت کے یکجا و اکھٹا ہونے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ حقیقی اتحاد یعنی ایک ایسے گروہ کا پرچم توحید کے تلے جمع ہوجانا جس کا ایمان راسخ اور عمل پائدار ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ہمیں کچھ ایسے گروہوں اور جماعتوں کے بارے میں بھی بتلاتی ہے کہ جو تعداد میں تو بہت کم تھے لیکن اپنے مد مقابل، کثیر فوج پر غالب آگئے تھے جیسا کہ صدر اسلام میں جنگ بدر اور جنگ خندق اس کے عظیم نمونے ہیں۔

ولایت پورٹل: اسلامی امت کے درمیان اخوت بھائی چارگی اور اتحاد اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہے جسے پیغمبر اکرم(ص) اور معصومین(ع) نے اپنی پاک سیرت کے ذریعہ ہم تک پہونچایا ہے۔ نیز قرآن مجید نے بھی مؤمنین کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا ہے۔ ان سب چیزوں سے پتہ چلتا ہے کہ اتحاد اور آپسی ہماہنگی کتنی اہم چیز ہے لہذا ہم قرآن کی کچھ آیات کے تناظر میں اس دینی مقولہ کا جائزہ لیتے ہیں تاکہ اس کی اہمیت مزید واضح ہوسکے اور مسلمان آپسی اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے دین اسلام کی سربلندی اور اعتلائے پرچم حق کے بارے میں فکر کریں۔
اتحاد کے بارے میں عقلی مشرب
عقل انسان کو یہ حکم دیتی ہے کہ وہ اس چیز کو اختیار کرے جس میں اس کا فائدہ اور بھلائی ہو اور جہاں اسے نقصان نظر آئے وہ اس سے دوری اختیار کرلے ۔ اور چونکہ انسان ایک معاشرتی اور اجتماعی مخلوق ہے وہ اپنی حیات کے سلسلہ میں ان امور سے چشم پوشی نہیں کرسکتا جو اس کے معاشرے سے تعلق رکھتے ہوں ۔یہی وجہ ہے وہ اپنے انفرادی مقاصد کو نظر انداز کرکے بھی اپنے اجتماعی و معاشرتی مقاصد پر زیادہ توجہ کرتا ہے۔ اتحاد بھی ان چیزوں میں سے ایک ہے جس کے لئے عقل سلیم یہ حکم کرتی ہے کہ اسے اپنے معاشرتی یا دینی اغراض و مقاصد کے لئے اپنے دینی بھائیوں اور امت کے ساتھ فکر سے فکر ملاتے ہوئے چلنے کی ضرورت ہے تاکہ اس کا وقار بھی محفوظ رہ سکے اور اس کا دین بھی باقی رہ سکے۔
قرآن مجید کی نظر میں اتحاد کے فوائد
قرآن مجید میں امت اسلامی کے متحد ہونے کے بہت سے فوائد کا تذکرہ ملتا ہے جن میں سے کچھ اہم فوائد کا تذکرہ ہم ذیل میں کر رہے ہیں:
۱۔کامیابی و کامرانی
طبیعی طور پر انسان میں یہ خواہش موجود ہوتی ہے کہ اسے ہر محاذ پر کامیابی نصیب ہو اور ہر میدان میں فتح اس کے قدم چومے ۔ اب چاہے یہ کوئی سیاسی معرکہ ہو یا اقتصادی، دینی یا تہذیبی۔
اور کوئی معرکہ انسان ایک طاقت کے بھروسے سر نہیں کرسکتا مثلاً اسے اگر کسی امتحان اور ایکزام میں بھی کامیاب ہونا ہے تو جب تک اس کا جسم اس کی روح کا ساتھ نہ دے اور اس سے مکمل طور پر ہماہنگ نہ ہو تو اسے کامیابی نصیب نہیں ہوسکتی۔ اور ظاہر ہے کامیابی کا مقصد جتنا عظیم ہوتا ہے اس میں اتنے ہی بڑے پیمانے پر اتحاد کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔
چاروں طرف سے آج اسلامی اقدار کو خطرات کا سامنا ہے اور ہمارے سامنے ان اقدار کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے لہذا جتنی حملات میں شدت ہے اتنی ہی اتحاد کی کوششیں تیز ہونا چاہیئے اور جتنی اتحاد کی کوششیں ہوں گی اتنی ہی کامیابی کے اندازہ بڑا ہوتا چلا جائے گا ۔ اگرچہ اس راستہ میں سختیاں ہیں ، خطرات ہیں لیکن اگر یہ اتحاد ہوجائے تو پھر اللہ کی طرف سے مدد اور کامیابی یقیناً آئے گی چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
’’أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلواْ الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَأْتِکُم مَّثَلُ الَّذِینَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِکُم  مَّسَّتهُمُ الْبَأْسَاءُ وَ الضَّرَّاءُ وَ زُلْزِلُواْ حَتىَ‏ یَقُولَ الرَّسُولُ وَ الَّذِینَ ءَامَنُواْ مَعَهُ مَتىَ‏ نَصْرُ اللَّهِ  أَلَا إِنَّ نَصْرَ اللَّهِ قَرِیب‘‘۔(۱)
ترجمہ: کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تم یوں ہی جنت میں داخل ہو جاؤگے حالانکہ ابھی تک تمہارے سامنے تم سے پہلے گزرے ہوئے (اہل ایمان) کی سی صورتیں (اور شکلیں) آئی ہی نہیں۔ جنہیں فقر و فاقہ اور سختیوں نے گھیر لیا تھا۔ اور انہیں (تکلیف و مصائب کے) اس قدر جھٹکے دیئے گئے کہ خود رسول اور ان پر ایمان لانے والے کہہ اٹھے کہ آخر اللہ کی مدد کب آئے گی؟ آگاہ ہو جاؤ کہ اللہ کی مدد یقیناً نزدیک ہی ہے۔
البتہ یہاں پر اس نکتہ کی طرف بھی توجہ رہے کہ اتحاد، افراد کی کثرت کے یکجا و اکھٹا ہونے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ حقیقی اتحاد یعنی ایک ایسے گروہ کا پرچم توحید کے تلے جمع ہوجانا جس کا ایمان راسخ اور عمل پائدار ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ ہمیں کچھ ایسے گروہوں اور جماعتوں کے بارے میں بھی بتلاتی ہے کہ جو تعداد میں تو بہت کم تھے لیکن اپنے مد مقابل، کثیر فوج پر غالب آگئے تھے جیسا کہ صدر اسلام میں جنگ بدر اور جنگ خندق اس کے عظیم نمونے ہیں کہ جب لشکر کفار کے پاس سب کچھ موجود تھا اور لشکر اسلام خالی ہاتھ تھا لیکن تعداد میں کم ہونے کے باوجود جنگ کا پانسا پلٹ گیا اور کفر کو شکست فاش ہوئی۔
آج بھی مسلمانوں کو اسی طرح کے اتحاد کی ضرورت ہے اور اگر واقعاً سب ایک ساتھ آجائیں تو ہم ہر محاذ پر کامیابی کے پرچم لہرا سکتے ہیں۔
۲۔ قدرت و طاقت
طاقت و قدرت کسی بھی معاشرہ کے سکون کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے چونکہ اگر کسی قوم کے پاس طاقت اور قدرت نہ ہو تو اس کے پاس سب کچھ ہوتے ہوئے بھی وہ نادار ہے ۔ اس کے مال، عزت اور جان سب پر اغیار کی نظریں جمی رہتی ہیں چنانچہ قرآن مجید اس طاقت و قدرت کا اصلی سرمایہ اتحاد و یکجہتی کو جانتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’ قُلْ إِنَّمَا أَنَا مُنذِرٌ  وَ مَا مِنْ إِلَاهٍ إِلَّا اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّار‘‘۔(۲)
ترجمہ: آپ کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف (عذابِ خدا سے) ایک ڈرانے والا ہوں اور اللہ کے سوا جو یکتا اور غالب ہے اور کوئی خدا نہیں ہے۔
مفسرین نے اس آیت سے یہ مراد لیا ہے کہ قدرت و طاقت کا اصلی سرچشمہ خدای واحد کی ذات ہے۔ یعنی وحدت نہ ہو تو یہ اقتدار حاصل نہیں ہوسکتا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں یہ تعبیر’’ الْواحِدُ الْقَهَّارُ‘‘ متعدد سیاق و سباق میں استعمال ہوئی ہے کہ جو اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ اگر سب کے سب خدائے واحد و قہار کے گوش بفرمان ہوں تو کبھی کمزور نہیں پڑ سکتے ۔(۳)
یا ارشاد ہوتا ہے:’’ وَ أَطِیعُواْ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لَا تَنَزَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَ تَذْهَبَ رِیحُکُمْ  وَ اصْبِرُواْ  إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِین‘‘۔(۴)
ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور آپس میں جھگڑا نہ کرو۔ ورنہ کمزور پڑ جاؤگے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اور (ہر قسم کی مصیبت و تکلیف میں) صبر سے کام لو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
۳۔ مؤمنین کے درمیان آپسی محبت
اگر مؤمنین آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوجائیں تو فطری طور پر ان میں ایک دوسرے کے لئے رواداری کا جذبہ پروان چڑھے گا اور وہ ہمیشہ ایک دوسرے کی بھلائی کے لئے فکرمند رہیں گے یہی وجہ ہے قرآن مجید نے مؤمنین کے آپسی محبت و الفت کو اللہ تعالیٰ کی نعمت قرار دیا ہے اور خود اللہ تعالیٰ نے اس آپسی محبت و الفت کو امت اور خود رسول اللہ(ص) پر ایک احسان کے طور پر تذکرہ فرمایا ہے ۔(۵) اسی اتحاد کے سبب یہ نعمت با آسانی حاصل ہوجاتی ہے اور معاشرے میں ایک طرح کے نفسیاتی تحفظ و امن کا احساس زندہ ہوتا ہے چنانچہ مؤمنین کی آپسی محبت و الفت کےبارے میں ارشاد ہوتا ہے:’’ وَ أَلَّفَ بَینَ قُلُوبِهِمْ  لَوْ أَنفَقْتَ مَا فىِ الْأَرْضِ جَمِیعًا مَّا أَلَّفْتَ بَینَ قُلُوبِهِمْ وَ لَکِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَیْنَهُمْ  إِنَّهُ عَزِیزٌ حَکِیم‘‘۔(۶)
ترجمہ: اور اسی نے ان (اہلِ ایمان) کے دلوں میں الفت پیدا کی۔ اگر آپ تمام روئے زمین کی دولت بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت پیدا نہیں کر سکتے تھے۔ مگر اللہ نے (اپنی قدرتِ کاملہ سے) ان کے درمیان الفت پیدا کر دی بے شک وہ غالب اور بڑا حکمت والا ہے۔
ہاں ! جب دشمن یہ دیکھ لیتا ہے کہ مسلمان کا آپسی شیرازہ منتشر ہے تو اس میں حملے کی مزید جرأت و جسارت پیدا ہوجاتی ہے اور صرف مسلمانوں پر ہی نہیں بلکہ ہمارے مقدسات کی توہین سے بھی دریغ نہیں کرتا جیسا کہ ہم آج خود مشاہدہ کررہے ہیں۔
۴۔ آپسی اختلاف و نزاع سے چھٹکارا
آفتاب اسلام کے طلوع ہونے سے پہلے عرب کے متعدد قبائل کے درمیان آپسی اختلافات کی ایک گہری کھائی موجود تھی اس طرح کے بات بات پر جنگ کرنا ان کا مشغلہ بن چکا تھا لیکن اسلام کی برکت ، قرآن مجید کی تعلیمات اور پیغمبر اکرم(ص) کی رہنمائی اور زحمات کے سبب ان کے درمیان آپس میں اتحاد پیدا ہوا اس طرح وہ  برسوں پُرانی دشمنی اخوت میں تبدیل ہوگئی۔(۷)
۴۔ عذاب الہی سے نجات
اللہ تعالٰی چونکہ خود واحد، احد و صمد ہے لہذا اس نے اپنے تمام امور کی خیرات و برکات ، اتحاد میں قرار دی ہے ۔ یہاں تک کہ وہ اعمال جنہیں انفرادی طور پر بھی اگر ادا کرلیا جائے تو وہ مجزئی تکلیف ہیں جیسا کہ فرادی نماز، لیکن اگر ایک ساتھ مل کر جماعت سے ادا کی جائے تو اس کا ثواب کئی گُنا بڑھ جاتا ہے۔
یہ دنیا اور اس کا نظام بھی ایک ہماہنگی اور ایک نظم واحد کا مطالبہ کرتا ہے۔ اگر اس دنیا کا نظام  ایک قطب واحد کے مدار پر حرکت نہ کرے تو پھر ساری چیزیں ویسی نہیں ہونگی جیسی ہم دیکھ رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں کو ایک کرنے اور ان میں اتحاد کے نور کو جلوہ افروز کرنے کے لئے ہی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کو مبعوث کیا ہے اور جو لوگ اس اتحاد کو دل و جان سے قبول کرتے ہیں ان کے لئے اللہ کی رحمتیں ہیں اور انہیں عذاب سے نجات ملے گی ۔ اور جو لوگ وحدت کی راہ روڈے اٹکاتے ہیں انہیں اللہ کے دردناک عذاب کا سامنا ہوگا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’و لاتَکونوا کالَّذینَ تفرَّقوا و أختَلِفوا مِن بَعدِ ماجاءَهُمَ البیِّناتُ و اولئِکَ لَهُم عذابٌ عظیم‘‘۔(۶)
ترجمہ :اور خبردار تم ان لوگوں(یہود و نصاری) کی طرح نہ بننا جو انتشار کا شکار ہوگئے اور کھلی ہوئی نشانیوں (دلیلوں) کے آجانے کے بعد اختلاف میں مبتلا ہوگئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لئے بڑا عذاب ہے۔
قارئین کرام! قرآن مجید کے دامن میں تمام انسانیت کو نجات کے راستے کی نشاندھی کی گئی ہے اور خاص طور مسلمانوں پر یہ فرض بنتا ہے کہ وہ قرآن مجید سے سبق لیتے ہوئے اتحاد کے لئے کوشش کریں ۔ اور جو اس راہ میں جتنی کوشش کرے گا اس کا مقام اللہ کی نظر میں اتنا ہی عظیم ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ بقرہ : ۲۱۴۔
۲۔سورہ ص: ۶۵۔
۳۔قرائتى، محسن، تفسیر نور، 10جلد ص124۔
۴۔سوره انفال: 46۔
۵۔تفسیر نور، ج‏3، ص350۔
۶۔سوره انفال: 63۔

تحریر : سجاد ربانی





0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین