امریکی پالیسیوں میں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کا بھی دور دور تک پتا نہیں:شام

شام کی وزارت خارجہ کے ایک رکن نےاپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی پالیسیاں انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں سے بھی  ٹکراتی ہیں۔

ولایت پورٹل:شام کی سرکاری نیوز ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق  شام کی وزارت خارجہ کے ایک رکن  نے اتوار کے روز روس کے داخلی امور میں امریکی مداخلت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی، رپورٹ کے مطابق شام کی وزارت خارجہ کے رکن نے کہا کہ ہمارے خیال میں  روس کے اندرونی معاملات میں امریکی مداخلت کی مکمل مذمت کی جانا چاہیے، امریکہ اور مغرب ہمیشہ ہر جگہ عدم تحفظ پیدا کرتے رہتے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ  امریکہ اور مغربی طریقوں میں منافقت اور دو روئی بالکل واضح ہے،خاص طور پر جب امریکہ اور یورپ کے رہنما جمہوریت جیسے معاملات پر بات کر تے ہیں، شام کی وزارت خارجہ کےرکن نے کہاکہ امریکی پالیسی انسانی حقوق کے سب سے بنیادی اصولوں سے متصادم ہےجبکہ امریکہ اور مغرب میں ذرا بھی ایمانداری اور شفافیت نہیں ہے اور ایسے لوگ دوسروں کو ایمانداری اور جمہوریت کی تعلیم دیتے ہیں،قابل ذکر ہے کہ امریکی جمہوریت کا بھانڈا اسی دن ٹوٹ گیا جب ایک پولیس آفیسر نے ایک سیاہ فام شہری کو گردن دبا کر قتل کر دیا جبکہ وہ مانی مانگتے مانگتے دم توڑ گیا، اس طرح کی سیکڑوں مثالیں اور امریکہ اور جموریت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مغربی ممالک میں آئے دن دیکھنے کو ملتی ہیں۔
اس کے بعد ستم ظریفی یہ ہے ان ممالک کے رہنما دوسروں کی انسانی حقوق کی تعلیم دیتے پھرتے ہیں اور اپنی غنڈہ گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب چاہیں کسی بھی ملک پر انسانی حقوق کی پائمالی کا الزام عائد کر دیتے ہیں جبکہ انھیں شام ، عراق  اور یمن میں انسانی حقوق  نہیں دکھائی دے ہیں شائد ان ممالک کے  انسانی حقوق پر سعودی ڈالر بھاری پڑ جاتے ہیں  اور زبانوں پر ریالوں کے تالے نگ جاتے ہیں۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین