Code : 2659 18 Hit

آل سعود کے ہاتھوں شہید ہونے والےیمنیوں کے اصل اعدادوشمار

یمنی وزارت صحت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یمن کی جنگ میں شہید ہونے والے افراد کی تعداد منظر عام پر آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔

ولایت پورٹل:یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارت صحت کے ترجمان یوسف الحاضری نےمرآه الجزیره ویب سائٹ کو دیے جانےوالے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ یمن کی قومی نجات کی وزارت صحت کے ترجمان ، یوسف الحزری نے مارجہ الجزیرہ ویب سائٹ سے جنگ کے نتائج کے بارے میں بات کی اور کہا کہ  سعودی اتحاد کی جانب سے صنعا ایئر پورٹ سے مریضوں کو بیرون ملک جانے سے  روکنا ،ملک میں ادویات کی قلت اور الحدیدہ کے قریب بڑھتی ہوئی جھڑپوں نے یمن میں جاری انسانی بحران کو خطرناک حد تک پہنچا دیا ہے،انہوں نے مزید کہاکہ اتحادی فوج کے حملوں سے ہلاکتوں کی تعداد منظر عام پر آنے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہے  جس میں41000 ہلاکتوں کا اندراج وزارت صحت کے پاس ہے ،الحاضری نےاس سلسلہ میں  مزید کہا کہ  ہزاروں ایسے افراد ہیں جنہیں طبی مراکز منتقل  کیے بغیر ہی دفن کردیا گیا ہے،ایک اندازے کے مطابق شہید اور زخمی ہونے والوں کی تعداد60000افراد سے تجاوز کرچکی ہے  جن میں صنعا کے ہوائی اڈے کی بندش کےنتیجےمیں43000افراد ہلاک ہوئے ہیں اور  ، 600افراد غذائی قلت اور ہیضے کی وجہ سے جاں بحق ہوئے ہیں  جن میں زیادہ تر بچے ہیں،الحاضری نےان ہلاکتوں کا ذمہ دار  سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، سوڈان ، مصر اور بحرین  سے مل کر بننے والے عربی غربی  اتحاد کو قرار دیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ان بے گناہ افرد کی ہلاکتوں کی ذمہ داری  امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور ان ممالک پر بھی عائد ہوتی ہے جو سعودی عرب کی عسکری، لاجسٹکس ، مالی  ، میڈیا اور سیاسی طور پر حمایت کرتے ہیں  ۔

0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम