صیہونی حزب اللہ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں :عطوان

ممتاز عربی تجزیہ نگار نے نشاندہی کی کہ صیہونی کسی بھی طرح سے حزب اللہ کے ساتھ تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے کہ انہیں یقین ہے کہ اگلی جنگ صہیونی ریاست کا خاتمہ ہوگی۔

ولایت پورٹل:ممتاز عربی تجزیہ نگار نے نشاندہی کی کہ صیہونی کسی بھی طرح سے حزب اللہ کے ساتھ تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے کہ انہیں یقین ہے کہ اگلی جنگ صہیونی ریاست کا خاتمہ ہوگی۔
عرب دنیا کے معروف تجزیہ کار اور انٹر ریجنل اخبار رائے الیوم کے ایڈیٹر عبدالباری عطوان نے اپنے نئے کالم میں جولائی 2006 کی 33 روزہ جنگ کی 17 ویں برسی کے موقع پرحزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ کی حالیہ تقریر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ طویل غیر حاضری کے بعد، ان کی یہ تقریر دوسری تقریروں سے مختلف تھی ان کے لہجے ایک خاص سکون تھا۔
عطوان نے مزید کہا کہ سید حسن نصر اللہ کے لہجے میں اس سکون نے ہمیں حیران کر دیا کیونکہ اس وقت حالات کشیدہ ہیں اور خاص طور پر لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر کافی کشیدگی ہیں نیز خود لبنان بھی کئی بحرانوں کا شکار ہے تو کیا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کا یہ سکون طوفان سے پہلے کا یا لبنان کی سرحدوں پر اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے بڑے فیصلے سے پہلے کا سکون تھا ؟ ہمارے پاس عمومی یا جزوی طور پر ان سوالات کے جوابات نہیں ہیں کیونکہ یہاں ہم ایک حقیقی اور فیصلہ کن جنگ کی بات کر رہے ہیں نہ کہ یہاں اور وہاں کشیدگی پیدا کرنے کے بارے میں۔
عطوان کے کالم میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے شعلے کو روشن کرنے کے فیصلے کے لیے معلومات، تیاری، مشاورت اور مکالمے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ یکطرفہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو لبنان کے جغرافیہ سے باہر ہے اور اس میں پورا خطہ شامل ہو سکتا ہے جبکہ ان دنوں لبنان کی سرحدوں پر جنگ شروع ہونے کا امکان جولائی 2006 کی جنگ کے دنوں سے بھی زیادہ ہے جس کی وجہ حزب اللہ کی طاقت میں غیرمعمولی اضافہ ، مزاحمتی ہتھیاروں کی عسکری صلاحیتوں کا مضبوط ہونا بالخصوص مقبوضہ فلسطین میں اور اسرائیل کے داخلی بحران کا بڑھ جانا نیز بنیامین نیتن یاہو کی کابینہ اور امریکی حکومت کی سربراہی میں تعلقات کا کمزور ہونا ہے۔
اس کالم کے مطابق 4 اہم صورتحال ہیں جو مختصر یا طویل مدت میں جنگ کی آگ کو بھڑکا سکتی ہیں جو صہیونیوں کے لیے بہت سے خطرات ہیں:
1۔ پہلی صورتحال کا تعلق لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر گزشتہ دنوں کے دوران ہونے والے واقعات سے ہے جو دھماکے کے دہانے پرہیں۔
2 ۔ دوسری صورتحال شبعا کے میدانوں کے علاقے میں حزب اللہ کے خیموں کے قیام سے متعلق ہے جہاں لبنانی مزاحمت نے صیہونی حکومت کی ان خیموں کو نہ اٹھانے کی کسی درخواست پر توجہ نہیں دی۔
3۔ سید حسن نصر اللہ نے اپنے خطاب میں لبنان کے سرحدی گاؤں الغجر پر صیہونیوں کی حالیہ جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ الغجر گاؤں لبنان کا ہے اور اس پر صیہونی حکومت کا تسلط برداشت نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ہم اس کے بارے میں خاموش رہیں گے، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے شعبا کے میدانوں میں مزاحمتی مجاہدین کو صیہونی حکومت کے کسی بھی جارحانہ اقدام کا جواب دینے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔
4۔ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل نے اپنی حالیہ تقریر میں لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی زمینی سرحدوں کے تعین کے سلسلے میں مذاکرات کرنے کے لیے امریکی ایلچی آموس ہاکسٹین کے مشن پر تمام دروازے بند کر دیے، جیسا کہ سمندری سرحدوں کی حد بندی میں ہوا تھا، سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی زمینی سرحدوں کا سرکاری طور پر گزشتہ 20 کی دہائی میں تعین کیا گیا تھا اور اسرائیل نے لبنان کی سرزمین کے بہت سے مقامات پر قبضہ کر لیا تھا کہ الغجر گاؤں ان مقبوضہ علاقوں میں سے ایک تھا اور یہ علاقے ایسے نکات ہیں کہ ہم انہیں جانے نہیں دے سکتے اور ہم ان کی آزادی کے لیے کاروائی کریں گے۔
صیہونیوں کا حزب اللہ سے تصادم کا خوف
عبدالباری عطوان نے کہا کہ لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں پر مزاحمتی اقدامات کا جواب دینے میں صیہونی افواج کی ناکامی اور شعبا کے میدانوں میں حزب اللہ کے خیموں کو ختم کرنے میں ناکامی صہیونیوں کا نتائج سے خوفزدہ ہونے کا ثبوت ہے، اسرائیلی حزب اللہ کے ساتھ کسی بھی محدود یا وسیع تصادم سے خوفزدہ ہیں اور وہ اس سے گریز کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ عبرانی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ نے بعض ثالثوں کے ذریعے حزب اللہ کو پیغام بھیجا کہ وہ امن کی تلاش میں ہے اور کشیدگی کی کوئی خواہش نہیں رکھتی،اس فلسطینی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ کس چیز نے قابض حکومت کو خوفزدہ کیا اور اس وقت تک حزب اللہ کا مقابلہ کرنے سے گریز کرنے پر مجبور کیا اس وقت تک اس طرح کے عوامل کا مجموعہ ہے۔
1۔ حزب اللہ کی رضوان نامی خصوصی یونٹ، جس کی افواج کو خصوصی تربیت دی گئی ہے، مقبوضہ فلسطین کے شمال میں مقبوضہ الجلیل کے علاقے پر حملہ کرنے اور کنٹرول کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
2۔ حزب اللہ کے بڑے میزائل ہتھیاروں میں لاکھوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون شامل ہیں، اور یہ ہتھیار اور اس کی جدید ترین صلاحیتیں اب بھی ان بڑے رازوں میں سے ایک ہیں جنہیں اسرائیلی انٹیلی جنس سروس دریافت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔
3۔ حالیہ عرصے میں میزائلوں اور ڈرونز کی ٹیکنالوجی مغربی کنارے میں منتقل کی گئی ہے ،اس سلسلہ میں واضح اور مضبوط اشارے موجود ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی اردن اور فلسطین کی سرحدوں سے مغربی کنارے میں داخل ہوتی ہے اور اردن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے ہمیں اس حوالے سے دلچسپ معلومات فراہم کیں جس سے امریکہ اور اسرائیل کافی پریشان ہیں۔
4۔ 1948 کی مقبوضہ سرزمین میں رہنے والے عربوں نے قابض حکومت کے خلاف ایک بے مثال احتجاج شروع کیا ہے ، ہم نے دیکھا کہ کس طرح اس خطے کے مختلف شہروں جن میں اللد، یافا اور کفر قاسم شامل ہیں،کے لوگ مئی 2021 میں سیف القدس کی جنگ کے دوران مزاحمتی بٹالین میں شامل ہوئے۔
5۔ ایران سے لے کر عراق، یمن، شام اور فلسطین تکت مام مزاحمتی گروہ اس جنگ میں حصہ لیں گے جو لبنانی مزاحمت مستقبل میں اسرائیل کے خلاف شروع کرے گی۔
عبدالباری عطوان نے اپنا کالم میں مزید لکھا ہے کہ سید حسن نصر اللہ نے اپنی حالیہ تقریر میں کچھ چیزوں کی طرف اشارہ کیا جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،جن میں سے ایک یہ کہ لبنان کمزور نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ مزاحمت کے ہتھیاروں کو نقصان پہنچانا صیہونی حکومت کی سب سے بڑی خدمت ہے اور ہم اس پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
عطوان کا کہنا ہے کہ بعض جماعتیں جو صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور اسے تسلیم کرنے کی حمایت کرتی ہیں،یہ دلیل دے سکتی ہیں کہ حکومت اب بھی مضبوط ہے، ہم نے پچھلے کالموں اور تجزیوں میں ان جماعتوں کو جواب نہیں دیا اور نظر انداز کر دیا لیکن اب ان کے بارے میں ہمارا جواب وہی ہے جو اسرائیلی میڈیا اور ان کے ماہرین کی طرف سے متعدد بار بیان کیا جا چکا ہے کہ اگلی جنگ صرف اسرائیل کے بنیادی ڈھانچے کی تباہی ، اسرائیلیوں کے حوصلے پست ہونے اور عدم تحفظ کے احساس تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کی قیمت صیہونی ریاست کا خاتمہ ہوگا۔
عطوان کے مطابق، 2000 میں مزاحمت کی فتح نے گریٹر اسرائیل کے منصوبے کو ختم کر دیا اور 2006 میں حزب اللہ کی فتح گریٹر اسرائیل” کے منصوبے کو کالعدم قرار دینے کے مترادف تھی تو پھر مزاحمت کی اگلی فتوحات کیا ہوں گی؟ اگر جولائی کی جنگ کے بارے میں وینوگراڈ کمیٹی کی رپورٹ میں اسرائیل کے لیے 156 مرتبہ شکست کا لفظ استعمال کیا گیا تو اگلی شکست پر اس کا ردعمل کیا ہوگا؟اس فلسطینی تجزیہ نگار کے کالم کے آخر میں آیا ہے کہ پہلے سوال کے جواب میں ہمیں یہ کہنا ضروری ہے کہ مزاحمت کی اگلی فتح دراصل صہیونی منصوبے کی 80ویں سالگرہ سے قبل اس کا خاتمہ ہے اور دوسرے سوال کا ہمارا جواب یہ ہے کہ اس جنگ میں صیہونی حکومت کو ایسی شکست ہوگی جس کا ازالہ ممکن نہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین