صیہونیوں کو بھی اپنی تباہی کا یقین

ایک اسرائیلی ماہر نے اسرائیل کو گزشتہ ایک دہائی کے دوران درپیش مختلف بحرانوں اور تناؤ نیز صیہونی معاشرے میں شدید تقسیم کا حوالہ دیتے ہوئے اسے اسرائیل کے خاتمے کے بارے میں ایک انتباہ قرار دیا۔

ولایت پورٹل:صیہونی سکیورٹی اور عسکری امور کے ماہر ایفرائیم گانور نے معاریو اخبار میں شائع ہونے والے ایک تجزیہ میں کہا کہ گزشتہ دہائی کو اسرائیل کی سیاسی اور سماجی تاریخ کا سب سے تاریک اور مشکل ترین دور سمجھا جاتا ہے، جس میں زیادہ اسرائیل میں ماضی کے مقابلے میں قیادت کا بحران زیادہ پیدا ہو گیا۔
اس تجزیہ نگار نے مزید لکھا کہ لیکوڈ پارٹی کے رہنما بنیامین نیتن یاہو، جو اس وقت کابینہ کی تشکیل کی تیاری کر رہے ہیں، اس دہائی کے دوران اسرائیل کے وزیراعظم تھے اور 2009 سے 2021 تک اس عہدے پر رہے، اس کے باوجود صیہونی قیادت کا بحران اس دہائی کی خصوصیات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
 انہوں نے مزید کہا کہ اس دہائی کی خصوصیات میں سے ایک کنیسیٹ کے سات انتخابات کا انعقاد تھا حتیٰ کہ اسرائیل کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم ایہود اولمرٹ پر رشوت لینے کے الزام میں انتہائی خطرناک حالات میں مقدمہ چلایا گیا اور انہیں دھوکہ دہی کے جرم میں سزا سنائی گئی۔
اسی طرح اسرائیل کے آٹھویں صدر موشے کاٹسو کو بھی عصمت دری اور ناشائستہ حرکتوں کے جرم میں سزا سنائی گئی اور جیل بھیج دیا گیا، نیز اس دہائی کی تاریکی میں جو چیز شامل ہوئی وہ تین الزامات ہیں جو وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف ان کی وزارت عظمیٰ کے دوران دائر کیے گئے ، جس نے سیاسی منظر نامے کے دو بلاکس کے درمیان تناؤ کو پہلے سے زیادہ شدید بنا دیا۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین