Code : 4105 4 Hit

صیہونی کابینہ بحرانی حد تک اختلافات کا شکار

صیہونی حکومت کی اتحادی کابینہ کے سربراہان ، جو "نیلے سفید" اتحاد اور "لیکوڈ" پارٹی پر مشتمل ہے ، اس میں سخت اختلاف رائے پیش آیا ہے، بہت سارے ماہرین کا کہنا ہے کہ کابینہ کہیں کی نہیں رہ گئی ہے۔

ولایت پورٹل:صہیونی حکومت کی کابینہ کے اندر بحران شدت اختیار کرگیا ہے ، اور اس کے ایجنڈے میں اختلاف رائے کے باعث ہفتہ وار اجلاس ملتوی کردیئے گئے ہیں۔
عرب48 نیوز ویب سائٹ نے صیہونی فوج کے  ریڈیو کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "نیلے اور سفید" اتحادی رہنما بنی گانٹر نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو پر تنقید کی ہے اس لیے کہ  نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ اس سال کا بجٹ بند کردیا جانا چاہئےجبکہ لیکن گانٹر چاہتے ہیں کہ اس سال اور اگلے سال کےبجٹ کی منظوری دی جائے،گویا ان کے مابین اتحادی معاہدے کے متن میں اس مسئلے کاذکر کیا گیا ہے، اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں دونوں سربراہاں کے درمیان ہونے والی خفیہ بات چیت کی فائلوں کو نشر کیا ، گانٹز نے فائل میں کہا ، "میرے خیال میں یہ اچھا نہیں ہے کہ وزیر اعظم پر تین الزمات عائد کیے جائیں اورمیں بھی اس بارے میں اپنا خیال نہیں بدلوں گا۔
گانٹر کا کہنا ہے کہ میں تقسیم کرکے حکمرانی نہیں کرنا چاہتا اور اپنی انتخابی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے لئے کسی سے نفرت میں اضافہ نہیں کرنا چاہتالیکن آپ خود ہی بتائیےکہ کون ایسا سلوک کر رہا ہے؟ کون اپنی پوزیشن کو مضبوط بنانے کے لئے نفرت میں اضافہ کرتا ہے؟ ۔
مذکورہ صہیونی عہدیدار نے گذشتہ رات صیہونی ٹی وی  کے چینل 12 کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ نیتن یاھو جلد انتخابات کرانا چاہتے ہیں لیکن میں انتخابات نہیں چاہتا ہوں اور میں اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا کیوں کہ حکومت کو معاشی اور سیاسی استحکام کی ضرورت ہے ،انھوں نے مزید کہا کہ اتحادی معاہدے کے مطابق کچھ نہیں ہوا ہے، میں نیتن یاھو کے ساتھ کام کرنے نہیں آیا تھالیکن ہم معاہدے پر باقی رہیں گے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین