Code : 3505 17 Hit

یمنی عوام نے آل سعود کے توسیع پسندی کے خواب کو مٹی میں ملا دیا ہے:رای الیوم

سعودی عرب نے 2015 میں یمنی عوام کے خلاف اپنی جارحیت کا آغاز کیا تھا لیکن اب جمود کی حالت میں ہے اور خود کو یمنی دلدل سے نکال نہیں پارہا ہے۔

ولایت پورٹل:رای الیوم نے یمنی مصنف اور تجزیہ کار علی محسن حامد نے یمنی عوام پر چھ سالہ حملے کے دوران سعودی عرب کی حالت زار پر ایک مضمون شائع کیا ہے  جس میں آیا ہے کہ کون سوچ سکتا تھا کہ مٹھی بھر پا برہنہ اور محصور یمنی لوگ عرب ممالک میں سرکش گھوڑے کی طرح سعودی عرب کے  توسیع پسندی کے خواب کو مٹی میں ملا دیں گے۔
رپورٹ میں مزید آیا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں سعودی حکام کواپنی فتح پر پورا اعتماد تھا  لیکن ان کا حساب کتاب غلط نکلا۔
یہ تکبر یمن کے میدانی علاقوں اور صحراؤں میں خود ہی ظاہر ہوا۔
 در حقیقت سعودی عرب کی فتح کا مطلب یمن اور خلیج فارس کے تمام خلیجی ممالک کی طویل مدت کے لیے اپنا غلام بنانا تھا۔
اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ  بلاشبہ  سعودی توسیع پسندی منصوبے کی ناکامی کا دنیا بھر کی ان عرب اقوام کی طرف سے خیر مقدم کیا جائے گا جواس قت خاموش ہیں۔
سعودی عوام کو بھی نہیں معلوم کہ ان کی حکومت "ہمسایہ ملک" سے کیوں لڑ رہی ہے ، جس نے 26 مارچ 2015 سے پہلے ان پر ایک گولی بھی نہیں چلائی تھی اور نہ ہی اس سے ان کو کوئی خطرہ لاحق تھا بلکہ اس کے برعکس وہ  ہمیشہ کسی بھی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کی حمایت کرنے کے لئے تیار تھا۔
یمنی مصنف نے زور دے کر کہا کہ سعودی عرب کی توسیع طلبی کی امنگوں کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا گیاکیونکہ اپریل 2013 میں صنعا میں فرانسیسی آئینی ماہر  فرانسوائس فریسو نے کہا تھا کہ سعودی عرب کو یمن کو لوٹنے کی بھوک ہے۔
ایک فرانسیسی ماہر نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سلفیوں کے ذریعے یمن کو سعودی عرب بنانے کا ارادہ رکھتا ہے  لیکن ہم میں سے ایک (یمنی عوام) نے کہا کہ یمن بیک وقت سعودی  اور خوشحال نہیں ہوسکتا۔
 


 
 


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین