Code : 1458 91 Hit

دعائے جوشن کبیر کی فضیلت

اس دعا کا کفن پر لکھنا مستحب ہے جیسا کہ علامہ بحر العلوم نے اپنی کتاب درہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، انہوں نے تحریر کیا ہے کہ مرنے والے کے کفن پر اسلام اور ایمان کی گواہی کے بعد قرآن اور جوشن کبیر کا لکھنا مستحب عمل ہے جس سے مرنے والا اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جوشن کبیر وہ دعا ہے جس کا عام دنوں اور خاص کر ماہ رمضان المبارک میں پڑھنے کا بیحد ثواب ذکر کیا گیا ہے چنانچہ انہیں روایات میں سے چند ایک کو ہم یہاں آپ کے سامنے پیش کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔
بلد الامین اور مصباح کفعمی میں موجود ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے اپنے والد ماجد امام حسین علیہ السلام اور انہوں نے اپنے والد امام علی(ع) سے اور انہوں نے پیغمبر اکرم(ص) سے روایت نقل کی ہے کہ یہ دعا ایک جنگ کے دوران حضرت جبریل نے پیغمبر اکرم(ص) تک اس وقت پہونچائی جب آپ جنگ کی شدت کے باعث بھاری زرہ پہنے ہوئے تھے جس سے آپ کے جسم اقدس کو کافی تکلیف ہورہی تھی جبریل نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ص)! اللہ نے آپ کی خدمت میں سلام کہلوایا ہے اور فرماتا ہے کہ اے میرے حبیب! یہ بھاری زرہ اتار دیجئے اور یہ دعا پڑھئے چونکہ یہ دعا آپ کی اور آپ کی امت کی حفاظت کرے گی۔ پھر اس کے بعد جبریل امین نے اس دعا کے فضائل بیان کرنا شروع کئے، فرمایا: جو شخص اسے اپنے کفن پر لکھے تو اس کا جہنم میں جانا اللہ کی رحمت کے خلاف ہے اور جو پہلی رمضان المبارک کی رات کو خلوص کے ساتھ یہ دعا پڑھے اسے شب قدر کا ادراک نصیب ہوگا اور اللہ اس کے لئے ۷۰ ہزار فرشتے پیدا کرے گا جو اللہ کی تسبیح اور تقدیس کریں گے جس کا ثواب اس دعا پڑھنے والے کو ملے گا۔
ایک دوسری روایت میں اس مقدس دعا کی فضیلت میں بیان ہوا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان المبارک میں اس دعا کو ۳ مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کردے گا۔ اور جنت اس پر واجب کردے گا اور اس کے ساتھ ۲ فرشتوں کو مأمور کردیا جائے گا جو اسے گناہ کرنے سے روکنے میں مدد کریں گے اور وہ پوری زندگی اللہ کی حفاظت میں رہے گا اور اس روایت کے آخر میں امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : میرے والد امام علی(ع) نے مجھے یہ دعا یاد کرنے کی وصیت فرمائی اور مجھ سے اپنے کفن پر بھی لکھنے کو کہا اور ساتھ ہی یہ تأکید بھی فرمائی کہ میں اپنے اہل بیت میں سے ہر ایک کو اس دعا کو تعلیم دوں اور انہیں یہ دعا پڑھنے کی تأکید کروں چونکہ اس دعا میں اللہ تعالٰی کے ایک ہزار نام ہیں جنہیں اسم اعظم کہا جاتا ہے۔
اس روایت میں دو اہم باتیں سامنے آتی ہیں:
۱۔ پہلی بات تو یہ کہ اس دعا کا کفن پر لکھنا مستحب ہے جیسا کہ علامہ بحر العلوم نے اپنی کتاب درہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ، انہوں نے تحریر کیا ہے کہ مرنے والے کے کفن پر اسلام اور ایمان کی گواہی کے بعد قرآن اور جوشن کبیر کا لکھنا مستحب عمل ہے جس سے مرنے والا اللہ کے عذاب سے محفوظ رہے گا۔
۲۔دوسری بات یہ کہ اس دعا کو ماہ رمضان کے شروع میں پڑھنا مستحب ہے اور جیسا کہ علامہ مجلسی نے روایت نقل کی ہے کہ دعائے جوشن کبیر کو رمضان المبارک کی تینوں راتوں میں پڑھنا بے حد ثواب رکھتا ہے۔
اس دعا کے سو حصہ ہیں اور ہر حصہ میں اللہ تعالٰی کے دس نام ذکر ہیں  اور ہر حصہ کے بعد’’سُبْحانَکَ یَا لاَ إلہَ إلاَّ ٲَنْتَ الْغَوْثَ الْغَوْثَ خَلِّصْنا مِنَ النَّارِیَارَبِّ ‘‘ پڑھا جاتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تو پاک ہے اے وہ ذات کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں ۔اے فریادیوں کی فریاد سننے والے رب ،ہمیں جہنم کی آگ سے نجات عطا فرما۔
خدایا ہم سب کو اس مبارک مہینہ میں اس دعا اور دوسری ساری دعائیں خلوص سے پڑھنے کی توفیق دے اور ہماری ہر جائز دعا کو قبول فرما!



0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम