Code : 3405 23 Hit

خطبہ شعبانیہ کی روشنی میں رمضان المبارک کی فضیلت

یہ مہینہ خدا کی نظر میں سب سے برتر و بہتر اور افضل مہینہ ہے۔اس کے دن بہترین ایام اور اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں ،اس کی گھڑیاں بہترین گھڑیاں ہیں۔اگر ماہ رمضان افضل ہے تو کس جہت سے اور اس افضلیت کا کیا مطلب ہے؟اس افضلیت کا معیار کیا ہے؟ اس کے دن بہترین ہیں،اس کی راتیں بہترین ہیں،اس کے لمحے بہترین ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس میں انجام دئے جانے والا ہر نیک عمل دوسرے دنوں میں انجام دئے والے عمل سے افضل ہے اور اس میں انجام دیا جانے والا برا عمل دوسرےمہینوں سے زیادہ برا ہے۔اس مہینے کے احترام کا خیال رکھنا دوسرے مہینوں سے زیادہ ضروری ہے اور اس مہینے کی بے احترامی دوسرے مہینوں سے زیادہ گناہ رکھتی ہے۔

ولایت پورٹل: سب سے پہلے تمام مؤمنین کی خدمت میں آمد ماہ رمضان کی مبارکباد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ پروردگار بحق چہاردہ معصومین علیہم السلام  ہم سب کو اس مبارک مہینے میں اپنی عبادت و اطاعت،روزہ داری،قرآن خوانی اور دعا و استغفار کی توفیق عنایت فرمائے اور ہماری سعی و کوشش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے۔
مؤمنین کرام !اس مبارک مہینے میں جسے"خدا کا مہینہ " کہا جاتا ہے جیسا کہ رسول خدا(ص)نے بھی اپنے معروف خطبے، خطبہ شعبانیہ میں ارشاد فرمایاہے جو ہمارا موضوع گفتگو بھی ہے ،ہم کوشش کریں گے روزانہ مختلف موضوعات پر آپ کے سامنے کچھ عرائض پیش کئے جائیں تاکہ اس مہینے میں جہاں ہم روحانی تربیت میں مشغول ہیں ،وہیں فکری تربیت کا سامان بھی فراہم ہوتا رہے۔
خطبہ شعبانیہ کیا ہے؟
ہم اپنی  گفتگو کا آغاز خطبہ شعبانیہ سے کر رہے ہیں۔یہ کون سا خطبہ ہے؟ روایات میں ہے کہ پیغمبر اکرم(ص)کا یہ معمول تھا کہ ہر سال ماہ مبارک رمضان شروع ہونے کے پہلے شعبان المعظم کے آخری دنوں میں خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اور لوگوں کو خدا کے مہینے کے استقبال اور دلوں کو اس کے لئے آمادہ کرنے کے لئے وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔انہی خطبوں میں سے ایک خطبہ یہ ہے جسے "خطبہ شعبانیہ"کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس خطبے کے بارے میں بہت سے علما نے لکھا ہے کہ اس کی سند "سلسلۃ الذہب"ہے یعنی اس کو نقل کرنے والے سبھی معصوم ہیں جیسا کہ اس کے شروع میں بھی آیا ہے کہ اسے امام رضاؑ نے اپنے اجداد سے نقل کرتے ہوئے امیرالمؤمنینؑ سے نقل کیا ہے۔اس لئے اس عنوان سے یہ ایک  ایسا خطبہ ہے جسے  رسول خدا (ص) سے بیان کرنے والی  تمام ہستیاں معصوم ہیں۔
یہ مہینہ خاص کیوں؟
اب ہم خطبے کا آغاز کرتے ہیں:’’ عَنِ الرِّضَا عَنْ آبَائِهِ عَنْ عَلِيٍّ (ع) قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص خَطَبَنَا ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ قَدْ أَقْبَلَ إِلَيْكُمْ شَهْرُ اللَّهِ بِالْبَرَكَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَ الْمَغْفِرَةِ،شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِ‘‘.
 امام رضا(ع) اپنے اجداد کے ذریعہ امیرالمؤمنین(ع) سے یہ روایت نقل کرتے  ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا:ایک دن نبی کریم (ص)نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ’’اے لوگو! خدا کا مہینہ اپنی آغوش پھیلائے تمہاری جانب بڑھ رہا ہے اور برکت،رحمت اور مغفرت ساتھ لارہا ہے۔
غور کیجئے کہ اللہ کے رسول(ص)نے اس مہینے کو خدا کا مہینہ قرار دیا ہے،اس لئے یہ مہینہ نہایت خاص ہے۔یوں اگر دیکھا جائے تو سبھی چیزیں خدا کی مخلوق ہیں  اور ہر ایک کی نسبت خدا  سے ہے لیکن جسے بطور خاص خدا اور اولیائے خدا کی طرف نسبت دی جائے وہ بہت خاص بن جاتی ہے اور اس میں خاص برکت اور اثر ہوجاتا ہے۔سارے مہینوں میں رمضان المبارک کو خدا سے خاص نسبت ہے اس لئے اس کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔اس کی خاص چیز کیا ہے؟ اللہ کے رسول(ص)تین چیزوں کو بطور خاص بیان کرتے ہیں:
1۔برکت 2۔رحمت3۔اور مغفرت
یہ برکتوں والا مہینہ ہے،جو بھی اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھائے گا اس پر خدا اپنی خاص رحمتیں نازل فرمائے گا اور جس پر اس کی خاص رحمتیں اور عنایتیں ہوں گی وہ اس مہینے میں بخش دیا جائے گا۔
برکت کیا ہے؟
برکت کا مطلب ہے تھوڑی چیز سے زیادہ سے زیادہ فائدہ  اٹھانا اور اس کے ذریعہ کامیابی و سعادت حاصل کرنا۔برکت کا مفہوم ہماری پوری زندگی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔عمر میں برکت،علم میں برکت،رزق میں برکت،مال میں برکت،کام میں برکت۔ برکت کے لئے صحیح پلاننگ اور خلوص دو بنیادی شرطیں ہیں۔اگر ہم بڑے بڑے علما اور دانشوروں کی زندگی پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ مختصر عمر میں انہوں نے اتنے کام کئے جتنا آج بڑی بڑی آرگنائزیشنز میں دسیوں لوگ مل کر بھی انجام نہیں دے پاتے ۔علامہ محمد باقر مجلسی  کی مثال لیجئے،انہوں نے جو کتابیں لکھی ہیں ان کی عمر کے لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو تقریباً روزانہ کے حساب سے 500  صفحات انہوں نے لکھے ہیں۔500 صفحات روزانہ کوئی معمولی بات نہیں ہے،لیکن دوسری طرف کوئی معجزہ بھی نہیں ہے۔پھر کیا ہے؟عمر کے ہر لمحے کو پلاننگ کے ساتھ جب انسان استعمال کرتا ہے اور اس کے کام میں خلوص بھی شامل ہو تو خدا کی طرف سے ایک  خاص توفیق نصیب ہوتی ہے اور خدا انسان کو خاص کاموں اور کارناموں کے لئے چن لیتا ہے۔
یا عام زندگی میں آپ دیکھتے ہوں گے کہ  ایک انسان کی کمائی ماہانہ کئی لاکھ ہے لیکن وہ پھر بھی رونا روتا ہے کہ ضرورتیں پوری نہیں ہورہی ہیں۔لیکن دوسری طرف ایک ایسا شخص بھی آپ کو نظر آتا ہے  جو بیس تیس ہزار میں خوشحال زندگی بسر کررہا ہے۔یہ برکت کا ایک نمونہ ہے۔
ماہ رمضان میں اگر پم پہلے سے تیاری اور پلاننگ کے ساتھ وارد ہوں اور ساتھ خلوص بھی شامل ہوتو اس مہینے کی برکتیں ہمارے شامل حال بھی ہوں گی انشاء  اللہ۔اور اسی کے ساتھ خدا کی  رحمتیں بھی آئیں گی اور مغفرت کا سامان بھی فراہم ہوگا۔
سب سے افضل مہینہ
’’شَهْرٌ هُوَ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ الشُّهُورِوَ أَيَّامُهُ أَفْضَلُ الْأَيَّامِ وَ لَيَالِيهِ أَفْضَلُ اللَّيَالِي وَ سَاعَاتُهُ أَفْضَلُ السَّاعَاتِ‘‘۔یہ مہینہ خدا کی نظر میں سب سے برتر و بہتر اور افضل مہینہ ہے۔اس کے دن بہترین ایام اور اس کی راتیں بہترین راتیں ہیں ،اس کی گھڑیاں بہترین گھڑیاں ہیں۔
اگر ماہ رمضان افضل ہے تو کس جہت سے اور اس افضلیت کا کیا مطلب ہے؟اس افضلیت کا معیار کیا ہے؟ اس کے دن بہترین ہیں،اس کی راتیں بہترین ہیں،اس کے لمحے بہترین ہیں اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اس میں انجام دئے جانے والا ہر  نیک عمل  دوسرے دنوں میں  انجام دئے والے عمل سے افضل ہے اور اس میں انجام دیا جانے والا برا عمل دوسرےمہینوں سے زیادہ برا ہے۔اس  مہینے کے احترام  کا خیال رکھنا دوسرے مہینوں سے زیادہ ضروری ہے اور اس مہینے کی بے احترامی دوسرے مہینوں سے زیادہ گناہ رکھتی ہے۔
بندے خدا کے مہمان
’’هُوَ شَهْرٌ دُعِيتُمْ فِيهِ إِلَى ضِيَافَةِ اللَّهِ وَ جُعِلْتُمْ فِيهِ مِنْ أَهْلِ كَرَامَةِ اللَّهِ‘‘۔اس مہینے میں تمہیں خدا کا مہمان بنایا گیا ہے اور خدا کی کرامت کا تاج تمہارے سر پر رکھا گیا ہے۔
خدا کی اس مہمانی  کی مختلف جہات ہیں:
1۔میزبانی
میزبانی  دو طرح کی ہوتی ہے،کبھی عام کبھی خاص۔رمضان کی میزبانی  عام ہے یعنی سب کے لئے ہے۔اس کی عمومیت کا مطلب یہ نہیں ہے سب کو آنے کی اجازت دی گئی ہے اور کہا گیا ہے کوئی بھی  جس کو آنا ہو آئے  بلکہ اس کی عمومیت کا مطلب یہ ہے کہ سب کو بلایا گیا ہے کہ سب آئیں۔"دُعِيتُمْ فِيهِ إِلَى ضِيَافَةِ اللَّهِ " اس میں خدا کا مہمان بنایا گیا ہے۔سب کے لئے دروازہ کھلا رکھنے میں اور سب کو بلانے میں فرق ہے۔یہاں دروازے نہیں کھولے گئے ہیں بلکہ بلایا گیا ہے۔
2۔میزبان
دعوت کیسی ہوگی اور اہتمام کیا ہوگا اس کا دارومدار میزبان پر ہوتا ہے۔ایک میزبان  تنگدست ہے تو اس کی میزبانی بھی ویسی  ہی ہوگی،ایک میزبان مالدار ہے لیکن کنجوس ہے،اس کی دعوت کا انداز الگ ہوگا،لیکن ایک میزبان ایسا ہے  جس  کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہے اور ساتھ ہی وہ کریم بھی ہے،اس کا انداز میزبانی بالکل الگ ہوگا۔یہاں میزبان رب کائنات ہے،جس کے قبضہ قدرت میں دو جہاں کے خزانے ہیں اور اس کے کرم کی کوئی انتہا نہیں ہے۔اب اندازہ لگائیے جب اس نے خود بلایا ہے تو کیااہتمام کیا ہوگا۔
3۔مہمان
جب ہم کسی کے یہاں دعوت پر جاتے ہیں تو ہمارے لباس سے لے کر ،گفتگو،رویے اور دوسری چیزوں کے آداب کا لحاظ ہم میزبان کی شخصیت اور عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں۔  ہماری آمادگی دعوت اور میزبان کی حیثیت کے  مطابق ہوتی ہے۔اب ہم جب مہمان بن کر جارہے ہیں تو ہمیں توجہ رکھنا  کہ ہمارا میزبان کون ہے،اس کی عظمت کیا  ہے،اس کی شان ومنزلت کیا ہے؟اس کے لئے ہم نے کیا تیاری کی ہے اس کی طرف توجہ رکھنا ہے؟
4۔دعوت  میں شرکت
اگر کسی کو ایسی  میزبانی میں دعوت دی جائے جہاں دسترخوان ہر طرح کی نعمتوں سے سجا ہو اور ہر ایک کا استقبال کیا جاتا ہو تو اس میں شرکت نہ کرنے والا صرف اپنا نقصان کرتا ہے اور خود کو ان نعمتوں سے محروم کرتا ہے۔اگر کوئی دعوت میں جائے اور ان نعمتوں سے فائدہ نہ اٹھائے جو مہیا کی گئی ہیں تو بھی نقصان میں ہے۔اس  لئے ہماری  پہلی کوشش یہ ہونا چاہیے کہ  خدا کی دعوت پر لبیک کہیں اور دوسری کوشش یہ ہونا چاہیے کہ جو روحانی نعمتیں دسترخوان رمضان پر سجائی گئی ہیں ان سے بطور احسن استفادہ کریں۔یہ روزہ،تلاوت قرآن،خالصانہ عبادت،دعائیں،توبہ و استغفار،خیرات،افطاری کرانا یہ  سب وہ نعمتیں ہیں جن سے جتنا ممکن ہو فائدہ اٹھانا چاہیے اور اپنے قلب وروح کو منور کرنا چاہیے۔
دعوت الہٰی کی عظمت کی نشانی
اس کے بعد اللہ کے رسول فرماتے ہیں:"أَنْفَاسُكُمْ فِيهِ تَسْبِيحٌ وَ نَوْمُكُمْ فِيهِ عِبَادَةٌ وَعَمَلُكُمْ فِيهِ مَقْبُولٌ وَ دُعَاؤُكُمْ فِيهِ مُسْتَجَابٌ"۔تمہاری  سانسیں اس میں تسبیح،تمہارا سونا عبادت ،تمہارے اعمال مقبول بارگاہ خداوندی اور تمہاری دعائیں مستجاب ہیں۔
کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کا تعلق ہر انسان بلکہ جاندار کی عام زندگی سے ہے ،شاید ان کے بارے میں اچھے اور برے،نیک اور بد  یا عبادت جیسی چیزوں کا تصور نہ کیا جاسکے۔جیسے سانس لینا ہر جانور کی زندگی کی ضرورت ہے،سونا ہر جاندار کی زندگی میں شامل ہے۔لیکن  ماہ مبارک میں جب انسان  خدا کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس کی روحانی فضا میں داخل ہوتا ہے تو نہ صرف اس کی نمازیں ،روزے ،دعا و تلاوت قرآن عبادت کا درجہ  رکھتی ہیں بلکہ اس کی سانسیں تسبیح  کہلاتی ہیں اورا س کا سونا عبادت بن جاتا ہے۔

 

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین