امریکہ عراق میں اپنی موجودگی کی خاطر پورے ملک کو آگ کے شعلوں میں ڈھکیلنے کے لئے تیار ہے: عراقی پارلیمانی عہدہ دار

عراقی پارلیمنٹ کی سلامتی اور دفاع کمیٹی کے ایک رکن نے عراقی دارالحکومت میں حالیہ دھماکوں اور عوامی فورسز پرہونے والے داعش کے حملے پر ردعمل کا اظہار کیا۔

ولایت پورٹل:عراقی پارلیمنٹ کی سلامتی اور دفاعی کمیٹی کے رکن کریم علیوی کا کہناہے کہ امریکہ اور کچھ عرب ممالک عراق میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، انہوں نے مزید کہاکہ ہم انٹیلی جنس کوششوں کو بڑھانا چاہتے ہیں جن کا مقصد دہشت گردوں کے خلاف حیرت انگیز کاروائیاں کرنا ہے تاکہ ان کے حملوں میں اضافہ کو روکا جاسکے، علیوی نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو دہشت گردی کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی تیاری کے عروج پر ہونا چاہئے، پیشن گوئیاں بتاتی ہیں کہ مستقبل قریب میں ان حملوں میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ سکیورٹی فورسز کو بغداد اور دیگر صوبوں میں داعشی عناصر کے خلاف قبل از وقت شدید اور حیرت انگیز آپریشن کرنا چاہئے، علیوی نے کہاکہ امریکہ عراق میں اپنی فوجیں رکھنے کے لئے اس ملک کو جلا دینے کے لئے تیار ہے، واضح رہے کہ جمعرات کے روز بغداد کے الطیران اسکوائر میں دو خودکش بم دھماکے ہوئے تھے جس کے نتیجہ میں 32 افراد ہلاک اور 110 زخمی ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ عراق میں داعش کا خاتمہ کرنے کے بہانے آیا تھا جس کی آڑ میں وہ اس بدنام زمانہ تنظیم کو امداد فراہم کر رہا تھا لیکن اب جبکہ اس ملک میں داعشی حکومت کا کوئی باضابطہ ٹھکانہ نہیں رہا ہے اور عراق  فوج اور عوام کے ہاتھوں دہشتگردوں کا قلع قمع ہو گیا ہے تب بھی امریکہ اس ملک سے نکلنے کا نام نہیں لے رہا ہے جبکہ نہ عراق کی حکومت اور نہ ہی عوام اپنے ملک کے امریکی غیر قانونی موجودگی کے خواہاں ہیں، یہاں تک کہ عراقی پارلیمنٹ تو غیر ملکی افوج کے انخلا پر مبنی قرارد بھی پاس کرچکی ہے۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین