Code : 2916 32 Hit

امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ گیس معاہدہ ہم پرتھونپا ہے: اردنی پارلیمنٹ

اردن کے پارلیمانی توانائی کمیشن کے ترجمان نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی حکومت نے 2016میں اردن پر صہیونی حکومت کے ساتھ گیس معاہدہ زبردستی تھونپا ہے۔

ولایت پورٹل:رای الیوم بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اردن کی پارلیمانی توانائی کمیشن کے ترجمان جمال قموہوا نے کہا کہ امریکی صدر بارک اوباما اور ان کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور اس کے بعد جان کیری نے اردن کو صہیونی حکومت کے ساتھ گیس معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور کیا۔
ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں قموہ نے مزید کہا کہ اردن کے سابق وزیر اعظم عبد اللہ النسور کی حکومت نے سب کو گمراہ کیا تھا اور مندوبین سے کہا تھا کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے بلکہ  اسرائیلی گیس کی درآمد کے بارے میں صرف ابتدائی مفاہمت کی یادداشت پر  دستخط ہوئے ہیں جس پر ہوسکتا ہے عمل درآمد ہو اور ہوسکتا ہے نہ ہو۔
قموہ نے مزید کہا کہ ہم نے ہمیشہ قومی وجوہات کی بناء پر اس معاہدے کی مخالفت کی ہے ، جن میں قابض حکومت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور معاہدے کی ہماری مخالفت کرنے کی دوسری وجوہات اقتصادی تھیں  کیونکہ اسرائیل کے لئے اس معاہدے سے حاصل ہونے والی10 ارب ڈالر  کی آمدنی  اسے معاشی طور پر خوشحال بنا رہی ہے۔
یادرہے کہ اردن نے ستمبر2019میں  صیہونی حکومت سے گیس درآمد کرنے کے لئے10 بلین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے۔
قابل ذکر ہے کہ صہیونی گیس کی درآمد کے معاہدے پر دستخط ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب کہ اردن کے پاس گیس کی درآمد کے مصر ، عراق اور الجزائرجیسے دیگر متبادل موجود ہیں نیز اس نے تجرباتی طور پر2018 میں مصر سے گیس  درآمد بھی کی ہے۔
واضح رہے کہ صہیونی حکومت کی طرف سے اردن میں گیس  کی پمپنگ  ایسے وقت میں کی جارہی ہے جبکہ اردن کے ساتھ گیس معاہدے پر  اس ملک میں عوام سطح پر اس کے معاہدہ کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین