ایرانی ایٹمی مذاکرات کو لے کر امریکہ اور صیہونیوں میں کھلبلی

جیسا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور P5+1 کے درمیان ویانا میں ایٹمی مذاکرات جاری ہیں، صیہونی حکومت اور امریکہ سمیت بعض مغربی ممالک یورینیم کی افزودگی کو تیز کرنے کے بارے میں مسلسل آہیں بھر رہےہیں نیز سکیورٹی معلومات کا تبادلہ کر رہے ہیں جن میں  پروسیسنگ اور ڈیوائسز کو سیٹ کرنا نیز سینٹری فیوجز کو استعمال کرنا شامل ہے۔

ولایت پورٹل:ایسا لگتا ہے کہ صیہونی حکومت ایران کے جوہری پروگرام سے نمٹنے کے لیے ابھی تک اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہے اور اس نے سابق وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے وہی پرانے حربے استعمال کیے ہیں، آج بینیٹ انتظامیہ جو 70 سالوں میں صیہونی حکومت کی سب سے کمزور کابینہ ہے، نیتن یاہو کے پروپگنڈوں کو نقل کرنے اور اپنی فوجی طاقت دکھانے کی کوشش کر رہی ہےحالانکہ وہ جانتی ہے کہ وہ نتائج کے بارے میں امریکی انتباہات کے باوجود کاروائی کے مرحلے میں یہ اقدام ناممکن ہے۔
 تل ابیب کے ریٹائرڈ سکیورٹی ایجنٹس جن میں سے اکثر حکومت کے تحقیقی اور اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹرز میں کام کرتے ہیں، بینیٹ کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں، جن میں یوسی مل مین نے چند روز قبل ٹویٹ کیا تھا کہ صیہونی حکومت  اسلامی جمہوریہ ایران  کا عسکری طور پر مقابلہ  نہیں کر سکتی ہے، یہ صرف اتنا کرسکتی ہے کہ  ایران کے خلاف امریکی سکیورٹی گارڈ کے طور پر اپنے فرائض پورے کرے۔
 بظاہراسرائیلی فوج کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے سربراہ آویو کوخاوی نے بھی اپنے قد و قامت  کے مطابق صیہونی  حکومت کے سیاسی منظر نامے میں مستقبل کے لیے قدم جمانے کی کوشش کی ہےجبکہ وہ جلد ہی اپنا موجودہ عہدہ چھوڑنے والے ہیں، تاہم انھوں نے کہا ہے کہ انھوں نے ممکنہ ایرانی حملے کا مقابلہ کرنےکے لیے اپنی افواج کی تیاری کو بہتر بنایا ہے۔
 انہوں نے زور دے کر کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرنے کے لیے اپنی حکمت عملیوں اور منصوبوں کو تیز کر رہے ہیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین