امریکہ اور طالبان؛ظاہر میں خونی دشمن یا پردے کے پیچھے پراسرار اتحادی(ایک تجزیہ)

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ اور طالبان پردے کے پیچھے ایک معاہدہ کر چکے  ہوں جس کے نتیجے میں امریکہ  نے طالبان  افغانستان میں حکومت کی پیشکش کی ہو اس شرط کے ساتھ کہ طالبان ، امریکہ کے لئے خطرہ ہونے کے بجائے  اس کے لیے کام کریں اورچین ، روس اور پاکستان پر کنٹرول کرنے کے لیے اس کی مدد کریں۔

ولایت پورٹل:افغانستان میں 2003 سے امریکہ ، طالبان اور حکومت ہمیشہ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، طالبان افغانستان پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ملک میں امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ پاکستان یہ بھی اصرار کرتا ہے کہ امریکہ کو افغانستان سے ذمہ دارانہ طور پر انخلا کرنبول کرنا چاہئےتاکہ اس کے جانے کے ساتھ افغانستان میں سلامتی بھی برقرار رہے نہ کہ افغانستان کو غیر محفوظ بناکر اور اس ملک میں ایک جامع خانہ جنگی پیدا کرکے جائے جس کی قیمت افغان عوام کو ادا کرنا پڑے،
واضح رہے کہ اگرچہ امریکہ اور طالبان نے 29 فروری 2020 کو دوحہ میں ایک معاہدے پر دستخط کیے جسے کچھ تجزیہ کار تشویش کی نظروں سے دیکھتے ہیں جس کے بارے میں امریکیوں اور طالبان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ کھلے عام ہوا ہے اور یہ کہ سب سے اہم مسئلہ ایک مقررہ مدت میں افغانستان سے امریکہ کا انخلا ہے،تاہم کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ممکن ہے کہ امریکہ اور طالبان پردے کے پیچھے ایک معاہدہ کر چکے  ہوں جس کے نتیجے میں امریکہ  نے طالبان  افغانستان میں حکومت کی پیشکش کی ہو اس شرط کے ساتھ کہ طالبان ، امریکہ کے لئے خطرہ ہونے کے بجائے  اس کے لیے کام کریں اورچین ، روس اور پاکستان پر کنٹرول کرنے کے لیے اس کی مدد کریں۔
یادرہے کہ اگرچہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ کسی بھی خفیہ معاہدے کی تردید کی ہے تاہم امریکہ کی جانب سے   افغان حکومت کو نظر اندز کرنا جس کی مثال اشرف غنی  کےحالیہ دورہ امریکہ کے دوران کی ان کی کسی حد تک ذلت واضح ہے اور کچھ دیگر اشارے بتاتے ہیں کہ ان قیاس آرائیوں پر بھی غور کیاجاسکتا ہے۔
ایک اور منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ طالبان کو افغانستان میں اقتدار کی مکمل منتقلی کا خواہاں نہیں ہے  پھر بھی اس گروپ کو مزید علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے چھوڑ کر  وہ انھیں افغانستان کی آئندہ حکومت کا ایک بڑا حصہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے، بشرطیکہ  طالبان بھی افغانستان اور خطے میں امریکی پالیسی کا حصہ بن جائیں ، امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون قبول کریں  یا پھر حکومت سے بے دخل ہوجائیں!ادھر ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغانستان کے مسائل کا سیاسی حل ہے ، فوجی نہیں ، اس ملک میں مختلف مذہبی اور سیاسی گروہوں کو ایک سیاسی معاہدے کے ذریعے بیٹھ کر مسائل کو حل کرنا ہوگا اور ایک مضبوط حکومت تشکیل دینا ہوگی۔
دوسرے یہ کہ امن اور سلامتی ایک مضبوط ریاست اور قوم کے لئے سب سے اہم ضروریات ہیں لہذا اس ملک کے تمام گروہوں کو اپنے آپ کو سلامتی اور امن کو ایجنڈے میں شامل کرنا چاہئے اور پرامن طور پر ایک ساتھ رہنا چاہئے، ہر گروہ کی دوسرے گروہ کو فوجی اور جسمانی طور پر ختم کرنے کی کوشش نہ کرے خاص طور پر اس ملک کے شیعوں کے خلاف جرائم ، جو مذہبی لحاظ سے ایرانی قوم کے قریب ہیں ، سے اس ملک میں نہ صرف  یہ کہ امن قائم نہیں ہوسکتا  بلکہ عدم تحفظ کی آگ کو مزید ہوا ملے گی۔
 تیسرے یہ کہ افغانستان تمام افغانوں کے لیے ہونا چاہئے نہ اس ملک کے مظلوم عوام ریاست ہائے متحدہ امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ناجائز مفادات کا تاوان ادا کریں۔
چوتھے یہ کہ غیر قانونی منافع کے حصول کے لئے دوسرے ممالک کی مداخلت جو اپنے مفادات کی قیمت افغان عوام کی جیب سے نکالتے ہیں کی مذمت کی جاتی ہے۔
 پانچویں یہ کہ افغانستان میں ایک مضبوط حکومت کی تشکیل اور اس ملک میں سلامتی کے ساتھ ایران کی سرحدوں پر سلامتی بھی لازمی ہے، ایران  یہ قبول نہیں کرتا ہے کہ اور اس کی سرحدوں کے عدم تحفظ سے ایرانی عوام کے مفادات کو نقصان پہنچے ۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین