Code : 2979 97 Hit

امریکہ مقتدی صدر کو مارنا چاہتا تھا:عصائب الحق کے سکریٹری جنرل کا انکشاف

عراقی عصائب الحق تنظیم کے سکریٹری جنرل نےہا کہ امریکہ عراق میں اپنے ناپاک عزائم کے تحت مقتدی صدر کو قتل کرنا چاہتا تھا اور اس کی ذمہ داری عصائب الحق تنظیم پر ڈالنا چاہتا ہے تاکہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے لیکن مقتدی صدر اور ایران کو اس منصوبے کا پتا چل گیا تو اس پر کنڑول کرلیا گیا جس کی وجہ سے امریکہ کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔

ولایت پورٹل:عراقی عصائب الحق  تنظیم کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی نے ان کو کچھ دستاویزات بھیجی تھیں جن کی بنا پر عراقی تینوں قویٰ میں سے ایک کے سربراہ 2012سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے سے ملے ہوئے ہیں اور مظاہرین پر فائرنگ بھی انھیں کا کام ہے۔
عراقی نیوز چینل العہد کی رپورٹ کے مطابق عراقی عصائب الحق  تنظیم کے سکریٹری جنرل خزعلی نے کہا ہے کہ شہید قاسم سلیمانی کی بھیجی ہوئی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کی تینوں قوی کے سربراہان میں سے ایک  اور ایک سلامتی ادارے کے سربراہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں ۔
خزعلی نے مزید کہا کہ عراق کے سلسلہ میں  امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں پر خود مقامی ایجنٹوں کے ہاتھوں عمل درآمد ہوتا ہے ،جن میں ملک کی تینوں قویٰ میں سے ایک کے سربراہ بی شامل ہیں  جن کے ہاتھ میڈیا بھی ہے نیز مظاہرین پر فائرنگ کی ذمہ داری بھی انہیں کو سونپی گئی ہے۔
عصائب کے سربراہ نے تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایسے دستاویزات موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے مذکورہ افراد 2012سے سی آئی اے کے لیے کام کررہے ہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ عراق میں اپنے ناپاک عزائم کے تحت مقتدی صدر کو قتل کرنا چاہتا تھا  اور اس کی ذمہ داری عصائب الحق تنظیم پر ڈالنا چاہتا ہے تاکہ ملک میں خانہ جنگی شروع ہوجائے لیکن مقتدی صدر اور ایران کو اس منصوبے کا پتا چل گیا  تو اس پر کنڑول کرلیا گیا  جس کی وجہ سے امریکہ کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔
خزعلی نے مزید کہا کہ ہمارے پاس جو دستاویزات ہیں ان کا منبع شہید قاسم سلیمانی ہیں جو نہایت ہی معتبر ذریعہ ہیں۔




0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین