افغانستان میں امریکی فوجی حکمت عملی ناکام ہوچکی ہے: ایکسپریس ٹریبون

امریکہ نے پچھلے 18 سالوں میں افغانستان میں فوجی فتح پر زور دیتے ہوئے بہت ساری غلطیاں کیں ہیں۔

ولایت پورٹل:پاکستان سے شائع ہونے والے اخبار ایکسپریس ٹریبون نے افغانستان میں امریکی کارروائی  کے متعلق سیاسی تجزیہ کار محمد علی احسان کے لکھے گئے ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے  امریکہ نے گذشتہ 18 سالوں میں افغانستان میں عسکریت پسندی پر زور دیتے ہوئے بہت ساری غلطیاں کی ہیں،مضمون کی ابتدا میں مضمون نگار سے سوال اٹھایا ہے کہ کیا امریکی پالیسی ساز جنگ کے سیاسی ہدف کو بھول گئے ہیں؟ جس کے جواب میں انھوں نے خود ہی لکھا ہے کہ واشنگٹن نے پچھلے 18 سالوں میں افغانستان میں اپنی اسٹریٹجک فتح کو صرف ایک سیاسی مقصد کے حصول تک محدود نہیں رکھا بلکہ فوجی کارروائیوں کی کامیابی پر بھی اپنی  توجہ مرکوز رکھی ہے،ایکسپریس ٹریبون نے افغانستان میں امریکی شکست کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھاہے افغانستان میں امریکی پالیسی فوجی حکمت عملی پر مبنی ہے اور تمام کمانڈروں نے فوجی فتح حاصل کرنے کی کوشش کی ہے اور اس سلسلے میں جنگ اور کارروائیوں کا نقشہ کھینچا ہے،مذکورہ پاکستانی اخبار نے لکھاہے  کہ اوباما کے دور میں ، واشنگٹن وار روم میں شاذ و نادر ہی افغانستان میں سیاسی فتح اور امن پر تبادلہ خیال کیا گیا ، اور افغانستان میں امریکی پالیسی کو تبدیل کرنے کی اس کی کوششوں نے آخر کار اس ملک میں فوجی فتح پر توجہ مرکوز کی،ایکسپریس ٹریبون نے مزید کہا  کہ  کلاؤز ویز نے پالیسی سازوں کو یاد دلایا کہ وہ واضح سیاسی مقصد طے کیے بغیر کبھی بھی جنگ میں نہیں جائیں گے ، لیکن افغانستان میں گذشتہ 18 سالوں میں امریکی پالیسی کو دیکھ کر ہم سمجھ  سکتے ہیں کہ  یہاں سیاسی کو کنارے پر کر دیا گیا ہے۔



0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین