عراق میں امریکی فوج اب مشیروں کے روپ میں

عراقی اور امریکی عہدیدار اس سال کے آخر تک مشیر کے طور پر عراق میں امریکی فوجی مشن میں تبدیلی کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

ولایت پورٹل:پولیٹیکونیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق  ایک امریکی عہدیدار اور دو باخبر ذرائع نے بتایا کہ عراقی اور امریکی عہدیدار رواں سال کے آخر تک عراق میں امریکی فوجی مشن میں صرف مشاورتی کردار میں تبدیلی کو حتمی شکل دے رہے تھے  جس میں باضابطہ طور پر عراق میں امریکی فوجی مشن کے خاتمہ کی نشاندہی کی جائے گی جو خود  مشرق وسطی کے اس ملک میں امریکہ کی موجودگی کے خاتمہ کی علامت ہے ۔
 باخبر عہدیداروں کے مطابق  امریکی فوجیوں کو ملک سے انخلا  کو اس منصوبے میں شامل نہیں کیا جائے گا ،تاہم امریکی مسلح افواج کے متعدد ارکان غیر معینہ مدت تک عراق میں ہی رہیں گےجو آئی ایس آئی ایس کے خلاف جنگ میں رسد اور مشاورتی اعانت کے ساتھ ساتھ فضائی طاقت اور انٹیلی جنس کے امور میں امداد فراہم کریں گی اس لیے کہ داعش دہشت گرد گروہ نے رواں ہفتے بغداد کے صدر شہر میں ایک خود کش حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے واشنگٹن کے دورے کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن اور امریکی عہدیداروں سے ان کی ملاقات کے بعدعراقی اور امریکی عہدہ دار پیر کے روزعراق میں امریکی  فوج کو مشیر وں میں تبدیل کرنے کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ جمعرات کو پینٹاگون میں امریکی اور عراقی عہدیداروں کے مابین ہونے والی میٹنگ میں تبادلہ خیال  اس تبدیلی کا عراق میں امریکی فوج کی موجودگی میں ایک اور تبدیلی کا اشارہ ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین