امریکہ کو یورپ کے منجمد ہوجانے کی فکر ہے:صیہونی عہدہ دار

صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ لبنان اور صیہونیوں کے درمیان سمندری سرحدوں کے تعین پر مذاکرات کا اصل عنصر امریکہ ہے تاکہ وہ کاریش فیلڈ کی گیس یورپ تک پہنچا سکے۔

ولایت پورٹل:صیہونی حکومت کے سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے سمندری سرحدوں کے بارے میں صیہونی حکومت اور لبنان کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں امریکہ کے اہداف کا انکشاف کیا، باراک نے اسرائیل ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن آرگنائزیشن(KAN) جسے ایک نیم سرکاری تنظیم سمجھا جاتا ہے، کو بتایا کہ یہاں کہانی واقعی امریکیوں کی ہے، جو بین الاقوامی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں تاکہ یورپ اگلی سردیوں میں جم نہ جائے اور وہ یوکرین کی حمایت کرنے سے باز نہ آئیں۔
 انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ پوری کوشش کر رہا ہے کہ دنیا میں گیس نکالنے والے ہر ہر ملک تک پہنچ جائے تاکہ رسد میں اضافہ ہو اور روسی گیس کو یورپ پہنچنے سے روکا جا سکے، ساتھ ہی اس سابق صہیونی عہدہ دار نے لبنان کے ساتھ گیس فیلڈز کے تنازعات کو حل کرنے کے صہیونی حکام کے فیصلے کو درست قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ قانا فیلڈ جو لبنان میں واقع ہے، اس کی کبھی کھدائی یا تحقیق نہیں کی گئی،کوئی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین