Code : 4370 10 Hit

امریکی حکومت کا آنلائن کانفرانس میں ایرانی وزیر خارجہ کو دعوت دینے پرامریکی ریسرچ سینٹر پر دباؤ

واشنگٹن انتظامیہ نے ایران پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تحقیقاتی ادارے نے ایرانی وزیر خارجہ کو ورچوئل میٹنگ کی دعوت دے کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

ولایت پورٹل:واشنگٹن فری بیکن ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کانگریس میں ان کے حامیوں نے امریکی خارجہ تعلقات کونسل کے تحقیقاتی ادارے پر دباؤ ڈالا ہے اس لیے کہ اس ادارے میں اگلے منگل کو ایک مجازی اجلاس ہونے والا ہے جس میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو تقریر کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ان کا دعوی ہے کہ امریکی قانون کے مطابق جن افراد پر پابندی ہے  انھیں کسی بھی طرح کی خدمات فراہم نہیں کی جاسکتی ہیں حتی ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی کی جاسکتی اور ظریف پر پابندی عائد ہے۔
اسی سلسلہ میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مورگن اورٹیگا نے فری بیکن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران پر انسانی حقوق کی پامالی کا الزام لگایااور اور دعوی کیا کہ کسی بھی ملک یا تنظیم کی جانب سے ظریف کو بولنے کا موقع فراہم نہیں کرنا چاہئے اور ،ایرانی حکومت صرف تنہائی کی مستحق ہے!۔
کہا جاتا ہے کہ خارجہ  تعلقات کونسل  اور ٹیکنالوجی کمپنی "زوم" ، جس نے ظریف کو ورچوئل ہوسٹنگ کی شرائط فراہم کی ہیں،وہ امریکی قانون کے تحت پابندیوں سے دوچار ہوں گی۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین