امریکی کانگریس پر حملہ بن سلمان کے پیسوں سے ہوا؛مجتہد کااعتراف

آل سعود خاندان کے راز فاش کرنے والےمجتہد نامی ٹویٹر اکاؤنٹ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں باقی رکھنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی۔

ولایت پورٹل:آل سعود خاندان کے راز فاش کرنے والے مجتہد نامی ٹویٹر اکاؤنٹ نے امریکی کانگریس پر حالیہ حملوں میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے کردار کا انکشاف کیا ہے،مجتہد کے نام سے مشہور سعودی خاندان  کے راز فاش کرنے والے ٹویٹر اکاؤنٹ میں بتایا گیا ہے کہ محمد بن سلمان اور ڈونلڈ ٹرمپ فون پر رابطے میں تھے،بن سلمان نے ٹرمپ کی اقتدار میں رہنے کی حالیہ کوششوں کی پیروی کی ، جس میں امریکی کانگریس پر حملہ کرنا اور انہیں مالی طور امداد فراہم کرنا شامل ہے۔
 مجتہد نے مزید کہا کہ  بن سلمان حقیقت اور ناگزیر نتیجہ سے بھاگ رہے تھے اورانھوں نے خود کو یقین دلایا کہ ٹرمپ کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آجائیں گےکیونکہ  وہ نفسیاتی طور پر کسی اور چیز کے لئے تیار نہیں تھے،یادرہے کہ  ٹرمپ کے دور میں سعودی اور امریکی انتظامیہ کے اچھے تعلقات تھے  اور یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ ٹرمپ کی انتخابی شکست سعودی ولی عہد شہزادہ کے لئے اچھی خبر نہیں ہوگی،کیونکہ اس کے بعد انھیں کافی مشکلات کا سامنا کرنا کر پڑ سکتا ہے اور ان کے جرائم منظر عام پر آسکتے ہیں جیسا کہ ہوا بھی اور نو منتخب امریکی صدر جوبائیڈن نے ان کے خلاف پہلا قدم اٹھا لیا ہے  اور آج کل امریکہ کے متعدد حلقوں میں جمال خاشقجی کے قتل کی فائل پھر سے کھلنے کے امکانات پائے جاتے ہیں ۔
یادرہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلہ میں امریکی خفیہ ادارے سی ائی اے اور اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی رپورٹوں میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اس سعودی صحافی کو بن سلمان کے حکم سے قتل کیا گیا ہے لیکن ٹرمپ کے اپنی دوستی کاخیال رکھتے ہوئے اس رپورٹ کو منظر عام پر نہیں آنے دیا۔


0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین