Code : 3090 105 Hit

ادلب میں مارے گئے ترک فوجی دہشت گردوں کی صفوں میں شامل تھے:روس

روس کی وزارت دفاع نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ روسی جنگی طیاروں نے ترک فوجیوں پر حملہ کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ انقرہ نے ماسکو کو ادلب میں اپنی فوجی موجودگی سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

ولایت پورٹل:انٹرفیکس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق روسی وزارت دفاع نے جمعہ کو کہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں نے گذشتہ روز ادلب میں شامی فوج کی پوزیشنوں پر بھاری حملے کیے اور ان کے دفاعی خط کو توڑنے کی کوشش کی۔
ماسکو نے شامی فوج پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے خلاف فضائی حملوں میں ترک فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے بارے میں بتایا کہ انقرہ نے ہمیں ادلب میں اپنی فوج کی موجودگی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔
روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے لڑاکا طیاروں نے ادلب میں ترک فوجیوں پر حملہ نہیں کیا تھا اور جب روس کو ترکی کے فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں پتا چلا تو انھوں نے جنگ بندی کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
روسی وزارت دفاع نے اپنے فوجی یونٹوں کے ذریعہ ادلب میں مسلح عناصر کے خلاف خصوصی آپریشن کی ویڈیو جاری کی ہے۔
یادرہے کہ جمعرات کو الجزیرہ سمیت شامی حکومت کے مخالف متعدد ذرائع ابلاغ نے شهر سراقب میں شامی فوج اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دہشت گرد گروہ شهر سراقب پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔
تاہم روسی ذرائع اس خبر کے نشر ہونے کے فورا بعد اس کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ شهر سراقب مکمل طور پر شامی فوج کے کنٹرول میں ہے۔
واضح رہے کہ ترکی سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد شام کی فوج کو اس شہر میں مشغول رکھنے کا ارادہ کر رہے تھے تاکہ ادلب کے جنوب میں واقع جیبل الزویہ جیسے اہم علاقے میں جاری آپریشن کو روک سکیں۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین