Code : 1788 11 Hit

امریکہ کا ایٹمی معاہدہ سے نکلنا سفارتی غارتگری ہے:امریکہ میں برطانوی سابق سفیر

امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران پر نئی پابندیوں کے سوا کوئی پلان بھی نہیں۔

ولایت پورٹل:امریکا میں برطانیہ کے سابق سفیر سر کم ڈاروچ کا اپنی حکومت کے نام سن 2018 میں بھیجا گیا خفیہ پیغام منظر عام آگیا ہے، جس کے مطابق برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن نے امریکا کو ایران ڈیل پر قائم رکھنے کے لیے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا تھا تاہم وہ صدر ٹرمپ کو ڈیل پر قائم رکھنے میں ناکام رہے تھے، ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر باراک اوباما سے حسد میں ایران نیوکلیئر ڈیل ختم کی، امریکی صدر کا نیوکلیئر ڈیل ختم کرنا سفارتی غارتگری ہے،ڈاؤننگ اسٹریٹ بھیجے گئے پیغام میں سر کم ڈاروچ نے لکھا کہ صدر ٹرمپ نے ایران ڈیل کے معاملے پر خود ان کے مشیروں کی رائے میں بھی اختلاف تھا مگر جان بولٹن کے ٹرمپ انتظامیہ کا حصہ بننے کے بعد یہ ہونا ہی تھا،سر ڈاروچ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران پر نئی پابندیوں کے سوا کوئی پلان بھی نہیں،واضح رہے کہ امریکا میں تعینات برطانوی سفیر سرکِم ڈارک نے ای میلز لیک اسکینڈل پر امریکی صدر سے شدید اختلافات کے بعد مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ سرکم نے برطانوی وزیراعظم کی حمایت پر شکریہ بھی ادا کیا،برطانوی سفیر نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ گو کہ سال کے آخر میں میری ریٹائرمنٹ ہے تاہم میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ کشیدہ صورت حال میں نئے سفیر کی تعیناتی ضروری ہوگئی ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو گزند نہ پہنچے،چند روز قبل برطانوی اخبار میں سر کم ڈراک کی افشا ہونے والی ای میلز شائع ہوئی تھیں جس میں صدر ٹرمپ کو کند ذہن، نااہل اور ناکارہ کہا تھا جب کہ امریکا کو غیر محفوظ ملک اور امریکی پالیسیوں کو غیر یقینی بھی قراردیا تھا،لیک ہونے والی ای میلز پرامریکی صدر نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی سفیر کو احمق قرار دیا اور ان کے ساتھ مزید کام کرنے سے انکار کردیا تھا تاہم برطانوی وزیراعظم نے اپنے سفیر کو مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔
سحر


0
شیئر کیجئے:
फॉलो अस
नवीनतम