آل نہیان کے مظالم کی کہانی؛انسانی حقوق تنظیم کی رکن یورپی خاتون کی زبانی

فن لینڈ کی انسانی حقوق کی محافظ  ایک خاتوں نے اعلان کیا کہ وہ متحدہ عرب امارات کی حکومت پر اپنی حراست اور تشدد کے لیے مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ولایت پورٹل:ایمریٹ لیکس انفارمیشن سائٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا کہ فن لینڈ کی انسانی حقوق کی کارکن ٹینا جوہینن کا کہنا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کے خلاف اپنی حراست اور تشدد کے خلاف شکایت درج کروانے اور اس شیخ نشین ریاست میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
یاد رہے کہ انسانی حقوق کی اس کارکن نے رواں ہفتے جنیوا میں منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ان کے ساتھ جو کچھ ہوا اور ابوظہبی کی جیل میں انہوں نے جو اذیتیں برداشت کیں اس کے سامنے وہ خاموش رہنے کو تیار نہیں ہیں، اسی لیے وہ متحدہ عرب امارات کے خلاف یورپی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
اجلاس میں جوہین نے متحدہ عرب امارات میں دوران حراست اپنے سانے ہونے والے سلوک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے سکیورٹی اداروں نے مجھے ایک نامعلوم اور انتہائی سرد جگہ پر حراست میں رکھا، وہ ہمیشہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے تھے اور مجھے اعترافی بیانات نیز عربی میں لکھے ہوئے اعترافی کاغذات پر دستخط کرنے پر مجبور کرتے تھے۔
ایک پریس کانفرنس میں جوہانسن نے برطانوی خواتین سے کہا کہ میں آپ کو مشورہ دینا چاہتی ہوں کہ متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے سے پہلے کئی بار سوچیں اور ایک محفوظ اور روادار معاشرے کی تصویر کے جھانسے میں نہ آئیں جسے پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

0
شیئر کیجئے:
ہمیں فالو کریں
تازہ ترین